غیرت کے نام پر قتل جب خاموشی مردانگی کے ماتھے پر بدنما داغ بن جائے
غیرت کے نام پر قتل جب خاموشی مردانگی کے ماتھے پر بدنما داغ بن جائے
تحریر:ایس پیرزادہ
بلوچستان سے فیس بک پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو اور تصاویر نے روح جھنجھوڑ دی ایک عورت جس نے اپنی پسند سے شادی کی غیرت کے نام پر بے دردی سے قتل کر دی گئی سر پر گولی مار دی گئی اور منظر میں موجود درجنوں مرد خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے سوال یہ ہے کہ اگر کبھی عورت کی غیرت جاگ گئی تو پھر مردانگی کہاں جائے گی؟ اگر عورت حساب مانگنے لگے تو کیا باقی بچے گا؟
یہ صرف بلوچستان پنجاب یا کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں یہ پورے پاکستان بلکہ پوری انسانیت کا المیہ ہے عورت کو آج بھی ملک میں کمزور تابع
اور قابلِ قربانی سمجھا جا رہا ہے اس کے جذبات اس کی مرضی اس کے فیصلے سب مردانہ معاشرے کی تسکین کی بھینٹ چڑھا دیے جاتے ہیں
اسلامی تعلیمات اس ظلم کی صریح نفی کرتی ہیں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے
(سورۃ التکویر، آیت 8-9)
جب زندہ درگور کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا کہ کس گناہ پر اسے قتل کیا گیا؟
یہ آیات آج کے پاکستان میں زندہ ہو گئی ہیں یہاں عورتوں کو جسمانی طور پر نہیں تو سماجی ذہنی اور ادارہ جاتی طور پر زندہ درگور کیا جا رہا ہے
میں خود ایک قومی ادارے میں ایک ایسے ماحول میں جہاں مجھے روزانہ ایک مرد کی انا حسد اور بغض اور زیادتیوں کا سامنا ہے اس پر 13 کیسز ہیں جن میں ہراسگی کے کیسز بھی شامل ہیں ایک غریب لیڈی سرچر اس کے رویے ظلم اور زیادتی سے تنگ آ کر نوکری چھوڑ کر چلی گئی کچھ افسران نے خود کو ٹرانسفر کروا لیا اور باقی خاموشی سے تماشائی بنے بیٹھے ہیں یہ شخص سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے کیا یہ مردانگی ہے؟ کیا یہ غیرت ہے؟
جو مرد روز دفتر آتے ہیں لیکن ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں وہ اُس غیرت کے کٹہرے میں کھڑے ہیں جس کا وہ راگ الاپتے ہیں
میں ایک سید زادی ہوں حسین کے قافلے سے ہوں میں نے ظلم کے خلاف خاموشی اختیار نہیں کی کیونکہ مولا حسینؑ نے سکھایا ہے کہ باطل کے سامنے سر جھکانا گناہ ہے میرے لیے ہر دن کربلا جیسا ہے ہر اذیت ہر سازش ہر ہراسانی کا لمحہ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں جھکوں گی نہیں
یہ معاشرہ عورت کو تخلیقِ خدا سمجھنے سے انکاری ہے ماں بہن بیٹی بیوی ہر رشتہ نبھانے والی عورت کو کمزور سمجھا جاتا ہے مرد کے کندھوں پر اگر غیرت کا بار ہے تو عورت کے دامن میں محبت قربانی وفا صبر اور برداشت کی چادر ہے
میں اس تحریر کے ذریعے پورے پاکستان میڈیا انسانی حقوق کی تنظیموں فیلڈ مارشل صاحب وزیراعظم وزیر اعلی اور عوام سے سوال کرتی ہوں
کیا غیرت صرف مرد کی جاگیر ہے؟
کیا عورت کی مرضی جرم ہے؟
کیا ظلم سہنے والی عورت کی آواز صرف اس لیے دبائی جاتی ہے کہ وہ عورت ہے؟ میرا قصور عورت ہونا ہے ؟
یہ ظلم بند ہونا چاہیے
یہ خاموشی توڑنی ہو گی
یہ معاشرہ بدلنا ہو گا اس عورت کے آخری الفاظ کے مجھے صرف گولی مارنے کا حق ہے اس معاشرے کے ہر مرد کی غیرت کا جنازہ نکال گئے ہیں






































Visit Today : 138
Visit Yesterday : 443
This Month : 10975
This Year : 58811
Total Visit : 163799
Hits Today : 1295
Total Hits : 805802
Who's Online : 7






















