نیکی کر، دریا میں ڈال تحریر نوید اصغر
“
نیکی کر، دریا میں ڈال” — یہ محاورہ محض زبان کی مٹھاس نہیں، بلکہ ایک ایسی سچائی ہے جو انسانیت کے اصل جوہر کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ یہ کہنے کو تو صرف چھ الفاظ پر مشتمل ہے، لیکن اس کے اندر ایک پوری زندگی کی حکمت چھپی ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ کسی کی مدد کرتے وقت بدلے کی امید نہ رکھو، اور اپنی نیکی کو اس طرح بھلا دو جیسے پانی میں کنکر ڈال کر پلٹ جاؤ۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ کسی کی مدد کرتے وقت دل میں توقع رکھتے ہیں کہ سامنے والا کبھی نہ کبھی شکریہ ادا کرے گا، بدلے میں کوئی اچھا سلوک کرے گا، یا کم از کم اس کا تذکرہ کرے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر نیکی خالص ہو، تو اس کا بدلہ نہ لوگوں سے لینا چاہیے، نہ دنیا سے۔ نیکی کا اصل بدلہ صرف اللہ کے پاس ہے۔
کیا دریا میں ڈالے ہوئے پانی کے قطرے کبھی واپس آتے ہیں؟ نہیں۔ بالکل ویسے ہی نیکی بھی کر کے بھلا دی جائے تو وہی نیکی کل کو پھل بن کر کسی اور رخ سے لوٹتی ہے۔ بعض اوقات وہ کسی اجنبی کی مدد کی صورت میں آتی ہے، کبھی کسی مصیبت سے نجات بن کر، تو کبھی دل کے سکون کی صورت میں۔
آج کے مادہ پرست دور میں نیکی کرنے والوں کو بیوقوف سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں “کیا فائدہ کسی کے ساتھ بھلا کرنے کا؟ سب مطلبی ہیں۔” لیکن درحقیقت، نیکی کرنے والا خود سب سے زیادہ فائدے میں رہتا ہے۔ کیونکہ وہ ضمیر کی اس راحت سے مالا مال ہوتا ہے جو دنیا کا کوئی خزانہ نہیں دے سکتا۔
نیکی کے بدلے اگر دھوکہ ملے، طعنہ سننا پڑے یا کسی نے اسے حق سمجھ لیا، تو بھی نیکی کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
تم جو بھی بھلائی کرتے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے” ( سورۃ البقرہ)
یہ آیت دل کو تسلی دیتی ہے کہ ہر وہ نیکی جو ہم کسی کے لیے خاموشی سے کرتے ہیں، اللہ کے علم میں ہے، اور وہی اسے بہترین انداز میں لوٹاتا ہے۔
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم جس کی مدد کرتے ہیں، وہی ہمیں نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسی صورت میں دل دکھتا ہے، اور نیکی پر سے ایمان اٹھنے لگتا ہے۔ مگر یاد رکھیے! نیکی کسی انسان کے لیے نہیں، اپنے رب کی رضا کے لیے کریں۔ اگر نیکی کا صلہ بندے سے ہی لینا ہے، تو وہ تجارت ہوئی، نیکی نہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“جب تم نیکی کرو تو اسے دریا میں پھینک دو۔ اگر مچھلی نہ بھی پہچانے، رب ضرور پہچانے گا۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم اگر نیکی کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیں، اور اس پر پختہ یقین رکھیں کہ اس کا بدلہ ہمیں انسانوں سے نہیں بلکہ اللہ سے چاہیے، تو ہم بہت سی توقعات، شکوے، اور دکھوں سے آزاد ہو سکتے ہیں۔ نیکی کو اپنے کردار کا حصہ بنائیں، لیکن اس پر فخر نہ کریں۔ کیونکہ نیکی کا اصل حسن ہی اس کی گمنامی میں ہے۔
ہمیں یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ جو نیکی آج ہم کرتے ہیں، وہی کل کو ہمارے بچوں کے لیے راہ آسان کرتی ہے۔ زندگی ایک دائرہ ہے، جو بوئیں گے، وہی کاٹیں گے۔ اگر آج آپ کسی کے لیے سایہ بنے ہیں، تو کل کو آپ کی اولاد کو دھوپ میں چھاؤں ضرور میسر آئے گی۔
آئیے عہد کریں کہ ہم نیکی کریں گے، اور اس کا صلہ صرف اللہ سے طلب کریں گے۔ نہ لوگوں سے شکریہ مانگیں گے، نہ تعریف کے محتاج بنیں گے۔ نیکی کو دریا میں ڈالیں گے، اور اطمینان سے آگے بڑھ جائیں گے۔ کیونکہ جو نیکی ہم اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں، وہ کبھی ضائع نہیں جاتی۔
خلوص دل سے جو احساں کیا نویدؔ نے
وہ لوٹ آیا، مگر چہروں سے اجنبی بن کر







































Visit Today : 168
Visit Yesterday : 443
This Month : 11005
This Year : 58841
Total Visit : 163829
Hits Today : 1650
Total Hits : 806157
Who's Online : 8






















