تحریک انصاف کو احتجاج کا آئینی حق نہیں دیا جا رہا، کارکنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے: خالد جاوید وڑائچ
ملتان : پاکستان تحریک انصاف ملتان کے ضلعی صدر چوہدری خالد جاوید وڑائچ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو اپنے آئینی حق کے تحت پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ جب بھی پارٹی کی جانب سے احتجاج کی کال دی جاتی ہے، کارکنوں کی پکڑ دھکڑ، گھروں پر چھاپے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے خواتین کی تضحیک جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں، جو آئین و قانون کے کھلے مذاق کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ کیا وہ پاکستانی شہری نہیں؟ کیا انہیں آئینی دائرے میں رہتے ہوئے آواز بلند کرنے کا حق حاصل نہیں؟ ایک آزاد ملک میں دو قانون کیسے ہو سکتے ہیں؟ چوہدری خالد جاوید وڑائچ کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو چرایا گیا، ہم نے عدلیہ سے رجوع کیا، مگر ہمیں انصاف نہ ملا نہ ہی ہمارا مینڈیٹ واپس کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ محض 17 نشستیں رکھنے والی جماعت کو اقتدار سونپ دیا گیا، جبکہ تحریک انصاف کی مخصوص نشستیں بھی چھین کر حکومتی اتحادی جماعتوں کو دے دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو پارٹی بانی کی گرفتاری کے خلاف پرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن ابھی سے کارکنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کے گھروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جو تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ خالد جاوید وڑائچ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور عالیہ حمزہ ہماری مرکزی قیادت کا حصہ ہیں، اور پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی، وہی احتجاجی تاریخ طے ہوگی، چاہے وہ 5 اگست ہو یا کوئی اور دن، یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور بانی پارٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ہر کارکن آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے حق اور سچ کی آواز بلند کرتا رہے گا، اور کسی بھی ریاستی دباؤ یا انتقامی کارروائی سے گھبرانے والا نہیں۔







































Visit Today : 168
Visit Yesterday : 443
This Month : 11005
This Year : 58841
Total Visit : 163829
Hits Today : 1642
Total Hits : 806150
Who's Online : 9






















