ملتان (صفدربخاری سے)پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) کا قیام ایک خوش آئند امر ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پیرا کی کارکردگی عملی طور پر نظر آئے جس میں بلا امتیاز مہنگائی اور قبضہ مافیا جیسے مسائل کو میرٹ پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی مہنگاہی نے سفید پوش گھرانوں کا جینا محال کر رکھا ہے اور مایوسی نے غریبوں کو گھیر رکھا ہے پیرا کے افسران کو کاروائی و سماعت کے لئے بااختیار بنایا جائے جو عوامی فلاح و بہبود مد نظر رکھتے ہوئے متعلقہ قوانین کی خلاف ورزیوں کے لیے انتظامی اور غیر عدالتی نفاذ کے اقدامات کو آگے بڑھائیں تاکہ مہنگاہی کے گرداب سے غریب عوام بچ سکیں ان خیالات کا اظہار سول سو سائٹی فورم کے چیف کوارڈینیٹر شاہد محمود انصاری، سماجی رہنما و دانشور گل نسرین، وائس چیر پرسنPUWF شاہدہ پیرزادہ شھگی اور چیر پرسن ہوپ الائیو عمرانہ سید نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) کا قیام کے ضمن اور مہنگاہی کی روک تھام کے حوالے سے عوامی جزبات کی ترجمانی کرتے ہوئے خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سماجی رہنماوّں نے کہا کہ سب سے پہلے بیکریوں ، چکن پیس بروسٹ ہوٹلز اور فروٹ و سبزی فروشوں کی لوٹ مار ومنڈیوں کے آڑھتیوں اورکریانہ سٹورز اور بڑے بڑے مالز کی ناجائز منافع خوری اور لوٹ مار سے عوام کو بچانے کیلیے عملی ایکشن لیا جائے ۔ پورے صوبے میں کوئی ضلع علاقہ اایسا نہیں جہاں ایک ہی شہر میں یا ایک علاقہ میں اشیاء خوردونوش یا دیگر چیزوں کی قیمتیں ایک جیسی ہوں۔ ایک بیکری پر دستیاب ڈبل روٹی یا دیگر بیکری کا سامان دوسری بیکری کے سامان کے مقابلے میں مہنگا فروخت ہورہا ہوتا ہے۔ ایسے ہی سبزیوں، پھلوں کی قیمتوں کا حال ہے،۔ نیا ادارہ پیرا ایسے تمام مافیاز کے خلاف عملی کاروائیاں کرے جو مصنوعی مہنگائی ، گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی ریلیف کے اپنے وعدے پورے کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات۔ بجلی کی قیمتوں گیس۔ یوریا۔ میڈیسن۔ لوہا سیمنٹ کی قیمتوں میں کمی کرے اور گھر گھر سولر سسٹم کی فراہمی کے اپنے وعدوں پر عمل پیرا ہوکر عوام کس جینے کا حق دے ۔