ملتان پریس کلب، آئینۂ جمال، وقارِ صحافت، صداے خلق
ملتان پریس کلب، آئینۂ جمال، وقارِ صحافت، صداے خلق
تحریر: زین العابدین عابد
پریس کلب کسی بھی ملک میں صحافیوں کے لیے ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو نہ صرف اُن کے پیشہ ورانہ مفادات کا محافظ ہوتا ہے بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی، صحافتی تربیت، اور سماجی رابطوں کے لیے بھی ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ تاہم، ان اداروں کی فعالیت، خودمختاری اور اثر انگیزی ہر ملک میں یکساں نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں پریس کلبز کا وجود اگرچہ صحافت کی بقا کے لیے نہایت اہم ہے، مگر یہ کلبز اکثر سیاسی دباؤ، اندرونی گروہ بندی، اور علاقائی اثرات کا شکار نظر آتے ہیں۔
پریس کلب عہدیدار ہمیشہ صحافیوں کو قانونی معاونت، معاشی فلاح اور پیشہ ورانہ یکجہتی فراہم کرتے ہیں۔ پریس کلب عوامی معاملات پر آواز بلند کرنے کا مرکز ہوتے ہیں۔ یونینز، احتجاجات اور میڈیا کی آزادی کی علامت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں جہاں آزادیٔ اظہار ایک بنیادی حق کی حیثیت رکھتی ہے، وہیں پریس کلبز کو اس حق کے تحفظ، فروغ اور فعالی کے ضامن اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں قائم مختلف پریس کلبز، خاص طور پر اسلام آباد، لاہور، کراچی، ملتان، کوئٹہ اور پشاور کے پریس کلب، صحافیوں کی نمائندگی، پیشہ ورانہ تربیت، اور مسائل کے حل کے مراکز کے طور پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پریس کلب کا اولین فریضہ اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ ہے۔ جب کبھی حکومت یا دیگر طاقتور ادارے صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہی پریس کلبز اُن کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں، مذمتی قراردادیں منظور کرتے ہیں اور گاہے بگاہے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرتے ہیں۔
ملتان پریس کلب عہدیداران اور ممبران نے اس تناظر میں ہمیشہ مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔رائے عامہ کی ہمواری کے لئے 9 مئی جیسے واقعات ہوں یا پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی، بھارتی دراندازی جیسے بزدلانہ کاروائی ہو یا عدلیہ پر حملہ ہو ہر موقع پر ملتان پریس نے اپنا صحافتی کردار ادا کیا ہے۔
ملتان پریس کلب صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کی جنگ کے لیے بھی سرگرم ہے۔ بےروزگار صحافیوں کے لیے مالی امداد، علاج و معالجے کی سہولیات، تربیتی ورکشاپس، اور قانونی معاونت کی فراہمی اس کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ یہ سہولیات اکثر مخصوص گروپوں یا سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد تک محدود رہتی ہیں۔
ملتان پریس کلب کے صدر اور جنرل سیکرٹری نے صحافیوں استعداد کار کو بڑھانے کے لیے ملتان پریس میں مختلف صحافتی اداروں کے تعاون سے تربیتی نشستیں، سیمینارز اور مکالماتی نشستیں منعقد کرانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جن کا مقصد صحافیوں کی علمی سطح کو بلند کرنا اور انہیں جدید صحافتی رجحانات سے روشناس کرانا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ان پروگرامز میں زیادہ تر پرانے چہروں کی شرکت اور نئے صحافیوں کی عدم شمولیت بھی تنقید کا باعث ہے۔ پریس کلب انتظامیہ و عہدیداران کے لئے ایک تجویز ہے کہ نئے آنے والے تعلیم یافتہ صحافیوں کو پریس کلب کی مختلف کمیٹیوں میں میرٹ پر جگہ دیں۔کیونکہ ہر محکمہ سے متعلق کام صدر یا سیکرٹری جنرل نہیں کر سکتے۔
ملتان پریس کلب نے اپنی حدود کو پریس کانفرنس اور افطار پارٹی تک محدود نہیں رکھا ہوا بلکہ یہاں مشاعرہ منعقد ہوا ہے، فیملی کے لئے میوزیکل شو جس میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔یہ دونوں پروگرام اپنی نوعیت کے منفرد تھے۔
ملتان پریس کلب اداروں کے ساتھ تنازعات کے حل میں ایک اہم اور متوازن کردار ادا کرتا ہے۔ جب کبھی صحافیوں اور ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی یا اختلافات پیدا ہوتے ہیں، تو پریس کلب ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مکالمے اور مفاہمت کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نہ صرف آزادیٔ صحافت کا دفاع کرتا ہے بلکہ صحافیوں کو قانونی و اخلاقی معاونت بھی فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ دباؤ یا دھمکیوں کے باوجود سچائی پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھ سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ، پریس کلب صحافت میں پیشہ ورانہ ذمے داریوں اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو بھی فروغ دیتا ہے، تاکہ اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رہیں۔ اس طرح، ملتان پریس کلب تنازعات کے حل، ادارہ جاتی ہم آہنگی، اور جمہوری اقدار کے فروغ میں ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
ملتان پریس کلب صحافیوں کی فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ ترقی کا ایک متحرک مرکز بن چکا ہے۔ حال ہی میں یہاں تین روزہ ڈیجیٹل اسکلز کورس کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد صحافیوں کو عصری ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا۔ اس کے بعد سات روزہ ای کامرس کورس کا اہتمام کیا گیا، جس سے نوجوانوں اور اراکین کو آن لائن کاروبار کی دنیا میں قدم رکھنے کا موقع ملا۔
صحت عامہ کے میدان میں بھی کلب کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ ایک مفت ہیلتھ اسکریننگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جبکہ ہر ہفتے مخصوص ڈاکٹرز کی آمد کے ذریعے مسلسل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایامِ کورونا میں کلب نے نہایت فعال کردار ادا کیا اور ایک خصوصی معاون کی تقرری عمل میں لائی گئی تاکہ اراکین کو فوری امداد، رہنمائی اور معلومات مہیا کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، پریس کلب نے صحافیوں کے رہائشی مسائل کے حل کے لیے بھی نمایاں جدوجہد کی ہے اور صحافی کالونی فیز ٹو کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جو صحافی برادری کی طویل مدتی فلاح و استحکام کی روشن مثال ہے۔
عہدیداران کے ساتھ ساتھ پریس کلب ممبران بھی اپنا کردار فعال طریقے سے ادا کریں، کلب کی بہتری کے لئے تجاویز کے ساتھ ساتھ عملی کردار ادا کریں۔ صحافی ادارہ کی بہتر ساکھ کے لئے ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے پریس کلب کی حرمت پر حرف آئے، کیونکہ صحافی عام شہری نہیں ہوتا۔ ہم صحافی دوسروں کے عیب دیکھ کر خبریں شائع کرتے ہیں، اگر ہم بھی وہی جرم کریں گے تو عوام کا اعتماد صحافت اور صحافی سے اٹھ جائے گا۔ جعلی اور ڈمی صحافیوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے، اور یہ اس وقت ممکن ہے جب پریس کلب کے تمام ممبران ذاتیات، گروہ بندی اور باہمی رنجشوں سے بالا تر ہو کر ادارہ کی عظمت اور وقار کو مقدم رکھیں۔
ملتان پریس کلب کی موجودہ رونق، سرگرمیاں اور فکری و ثقافتی چہل پہل درحقیقت صدر شکیل انجم کی بے مثال صحافتی بصیرت، مدبرانہ قیادت اور غیر معمولی سیاسی فہم و فراست کا روشن عکس ہے۔ وہ نہ صرف اپنے خیرخواہوں بلکہ مخالفین کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی مشاورت میں ریاکاری نہیں، اخلاص اور ادارے کی بہتری کا جذبہ نمایاں ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پریس کلب کی ترقی اور وقار کے لیے ان کا بھرپور ساتھ دیں اور اُن کے معاون و دستِ راست بن کر ادارے کی نیک نامی کو مزید مستحکم کریں۔
یاد رکھئے کہ پریس کلب صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک اعتماد، اور ایک تہذیبی علامت ہے۔ اس کے وقار کا تحفظ ہر ممبر کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم خود احتسابی، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور اتحاد کے اصولوں کو اپنا لیں تو نہ صرف پریس کلب مضبوط ہوگا بلکہ صحافت کا معاشرتی اثر اور عوامی اعتماد بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔ یہ وقت ہے کہ ہم قول و فعل کے تضاد کو ختم کر کے سچائی، دیانت اور جراتِ اظہار کے ساتھ اپنا مقام دوبارہ حاصل کریں۔






































Visit Today : 167
Visit Yesterday : 443
This Month : 11004
This Year : 58840
Total Visit : 163828
Hits Today : 1609
Total Hits : 806116
Who's Online : 12






















