ملتان :  پنجاب گروپ آف کالجز کے زیر اہتمام نصاب میں حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں ایک اہم تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں جنوبی پنجاب کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے تقریباً 500 اساتذہ نے شرکت کی۔ یہ ورکشاپ نیشنل کریکولم کونسل (NCC) اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے انٹرمیڈیٹ نصاب میں کی گئی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی تھی۔
ورکشاپ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے حصے میں پنجاب کالجز ہیڈ آفس کی تربیتی ٹیم نے شرکت کی، جس میں نصاب اور سلیبس کے فرق، عمومی تبدیلیوں، اور تدریسی حکمت عملیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ اس نشست کا مقصد اساتذہ کو نئے نصاب کے فریم ورک اور جدید تدریسی تکنیکوں سے روشناس کروانا تھا تاکہ وہ طلباء کو بہتر انداز میں سیکھا سکیں۔دوسرے حصے میں مضمون وار تربیت فراہم کی گئی، جس میں مخصوص مضامین کے مطابق Student Learning Outcomes (SLOs) کو تفصیل سے بیان کیا گیا، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے تدریسی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر پنجاب کالج ملتان اُسامہ بشیر قریشی نے کہااساتذہ قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، اور بدلتے ہوئے تعلیمی نظام میں ان کی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ پنجاب گروپ ہمیشہ سے معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل رہا ہے، اور یہ ورکشاپ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نصاب میں یہ تبدیلیاں پاکستان کے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک خوش آئند قدم ہیں۔تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہو ئے پروفیسر رشید نے کہا:یہ تبدیلیاں پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک نئی امید کا پیغام ہیں، جو طلبہ کی فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیتوں اور عملی زندگی میں کامیابی کے لیے راہ ہموار کریں گے’واضح رہے کہ (National curriculum counsil)NCC اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے انٹرمیڈیٹ نصاب میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد سیکھنے کو مقصدی، مہارت پر مبنی اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ایسے میں اساتذہ کی رہنمائی اور تربیت نہایت اہمیت رکھتی ہے تاکہ وہ طلبہ کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔اساتذہ نے بھی اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ ایسی تربیت نہ صرف ان کے تدریسی انداز کو نکھارتی ہے بلکہ طلبہ کے تعلیمی نتائج پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔پنجاب گروپ آف کالجز کی یہ کوشش یقیناً تعلیمی ترقی اور قومی اصلاحات کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔