ملتان (صفدربخاری سے) ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان اور کنزیومر رائٹس فورم کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس میں قانونی ماہرین نے بجلی اور گیس بلوں میں صارفین کے ساتھ ہونے والے معاشی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید شمشاد علی رضوی ایڈوکیٹ اور عمارہ طاہر بلوچ ایڈوکیٹ نے کہا کہ 200 اور 201 یونٹس کی بنیاد پر بجلی بلوں میں شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو سفید پوش اور غریب طبقے کیلئے ناقابلِ برداشت ہے۔ مقررین نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ صارفین کی آمدن اور بڑھتے ہوئے بلوں کے درمیان فرق کو سمجھے اور عملی ریلیف فراہم کرے۔ قانون دان ملک قسور انس گرا، عمران نواز سیال، ملک اویس نانڈلہ اور ناصر فراز کھیڑا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ عوام کیلئے عذاب بن چکی ہے۔ بجلی کے ٹیرف، لائن لاسز اور بلوں کی پیچیدہ جمع تفریق کا بوجھ عام شہری پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عوام دوست توانائی پالیسی بنائی جائے، بجلی و گیس بلوں میں ریلیف دیا جائے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

لاہور: