سانحہ تمخیر بلوچستان شناخت کی سزا
سانحہ تمخیر بلوچستان شناخت کی سزا
تحریر:ایس پیزادہ
بلوچستان کی سرزمین اس وقت ایک بار پھر خون سے رنگی جا چکی ہے سانحہ تمخیر ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ ہے جس نے نہ صرف انسانیت بلکہ وفاقِ پاکستان کی روح کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا بربریت پر مبنی ظلم ہے جس میں شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابی مسافروں کو بسوں سے اتار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا
اس بار جنہیں نشانہ بنایا گیا ان میں وہ دو بھائی بھی تھے وہ اپنے والد کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے جا رہے تھے لیکن خود جنازہ بن کر واپس لوٹے ان کی ماں نے اپنے بیٹوں کی لاشوں کو گلدستہ سمجھ کر خوش آمدید کہا یہ ماں پاکستان کی ہر ماں کی ترجمان بن گئی ہے جو اپنے بیٹوں کو زندہ رخصت کرتی ہے اور لاشوں کی صورت میں واپس وصول کرتی ہے جو ویڈیوز تصویریں نظر سے گزری ہیں اس ماں کے حوصلے عظمت کو سلام
یہ معاملہ صرف انہی دو بھائیوں کا نہیں پنجابی ہونا جرم بن چکا ہے زبان لہجہ شناخت سب موت کی وجہ بن سکتے ہیں
اگر بلوچستان میں پنجابیوں کے لیے حالات اتنے خطرناک ہیں تو حکومتِ وقت کو چاہیے کہ وہ وہاں روزگار کے لیے جانے والے محنت کشوں پر مکمل پابندی عائد کرے کیونکہ وہ لوگ جو باپ بھائی یا شوہر کے روپ میں اپنی فیملی کو سہارا دینے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں ان کا قتل صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک پورے خاندان ایک نسل کی امید کا قتل ہوتا ہے ان کی جان اتنی سستی نہیں کہ شناخت کی بنیاد پر یوں بے دردی سے چھینی جائے
اس پر ظلم یہ کہ ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کیا ریاست کی ذمہ داری صرف مخصوص علاقوں یا قوموں تک محدود ہے؟ کیا پنجاب سندھ سرائیکستان یا کسی اور خطے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نہیں؟ کیا ان کی جانوں کا کوئی تحفظ نہیں؟
سانحہ تمخیر ہمیں پھر سے جھنجھوڑ رہا ہے کہ نفرت تعصب لسانی سیاست اور خاموشی نے پاکستان کو کس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے اگر ہم نے آج بھی آنکھیں نہ کھولیں تو کل ہم سب اس نفرت کی آگ میں جلیں گے چاہے ہم کسی بھی صوبے یا مسلک سے ہوں
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس سانحہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے
قاتلوں کو مثالی سزا دے
اوران کے لواحقین کو حرجانہ ادا کرے اور مستقبل میں پنجابی محنت کشوں کو بلوچستان بھیجنے سے پہلے تحفظ کی مکمل ضمانت دے
بصورتِ دیگر روزگار کی اجازت معطل کی جائے تاکہ قیمتی جانوں کا مزید ضیاع نہ ہو
وقت آ چکا ہے کہ ہم قومی سطح پر ایک پالیسی ترتیب دیں جس میں ہر پاکستانی ہر شناخت کے ساتھ مکمل تحفظ میں جی سکے نفرت لسانیت اور علاقائیت کا یہ کھیل بند ہونا چاہیے
یہ وطن ہم سب کا ہے یہاں کوئی پنجابی بلوچ سندھی پشتون یا مہاجر نہیں صرف پاکستانی ہےاور ہر پاکستانی کی جان برابر قیمتی ہے






































Visit Today : 165
Visit Yesterday : 443
This Month : 11002
This Year : 58838
Total Visit : 163826
Hits Today : 1577
Total Hits : 806085
Who's Online : 9






















