“Road to Ghazwa-e-Hind”

Syed Muhammad Umer Abdi

افواج پاکستان اور مجاہدین کشمیر کے نام رزمیہ نظم

میرے دشمن عیار کے ناپاک ارادے
تو خاک میں اب فہم و فراست سے ملادے
شمشیر فساں ہو یا پھر لوح و قلم سے
کفار کے اٹھتے ہوئے فتنوں کو مٹا دے

قاسم کی شمشیر سے شورش کو فنا کر
تو مرد مجاہد ہے دنیا کو دکھا دے
ابدالی و غوری کی تاریخ رقم کر
دشمن کو فقط ایک جھلک انکی دکھا دے

عزم رکھ ٹیپو کا محمود کی تدبیر
آباء کی میراث کو یوں اپنا بنا دے
بازو تیرا جوہر کی قوت سے قوی ہے
پاک تیرا ملک ہے تو مصطفویﷺ ہے

گونجے گا زمانے میں پھر نعرۂ تکبیر
کفر کو کفار کو یوں جڑ سے ہلا دے
اللہ کے شیروں کی ہے گُل وادی کشمیر
انگ انگ تیرا ٹوٹے کا کافر کو بتا دے

پھر دہلی و اجمیر میں تم دے کر اذانیں
ایمان کی اس جہد کو اب خون سے جلادے
نیبوں کی دھرتی پہ قابض ہے غاصب
مسجد اقصیٰ بھی اب تم کو صدا دے
فتح مبین کا ضامن ہے جب پاک محمد ﷺ

دشمن کی پھر اینٹ سے اب اینٹ بجا دے

زندہ ہے جوانوں میں ابھی جذبۂ شبیر
زندہ ہے مومن میں حیدر کی طاقت
ہند کے غزوے میں ہے تُو بھی سپاہی
رُونق کا یہ پیغام زمانے کو سنا دے

Syed Muhammad Umer Abdi