مفتی عبدالقوی: ایک متنازعہ مگر علمی شخصیت

تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت
کالم نگار و تجزیہ نگار

مفتی عبدالقوی، لال مسجد واقعہ اور میڈیا کا کردار: ایک سنجیدہ تجزیہ

مفتی عبدالقوی کا شمار پاکستان کے اُن علما میں ہوتا ہے جنہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر اسلامی تعلیمات کی تبلیغ اور معاشرتی مسائل پر گفتگو کی۔ ان کی گفتگو میں اعتدال، حاضر جوابی اور بعض اوقات نوجوانوں کو راغب کرنے والی روانی پائی جاتی ہے۔ وہ مختلف ٹی وی پروگرامز میں مذہبی رہنمائی فراہم کرتے رہے ہیں، اور کئی بار ایسے فتاویٰ دیے جو بحث و مباحثے کا سبب بنے، مگر ان کے پیچھے دینی استدلال موجود ہوتا تھا۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ وہ کچھ ذاتی اور متنازعہ واقعات کا حصہ بنے، جنہوں نے ان کی ساکھ کو متاثر کیا۔ اس کے باوجود، یہ ماننا پڑے گا کہ مفتی عبدالقوی نے مذہب کو عوامی سطح پر پہنچانے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا اور کئی مواقع پر سماجی اصلاح کی بات بھی کی۔

لال مسجد کا حالیہ واقعہ اور اس کے منفی اثرات

حال ہی میں ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں مفتی عبدالقوی کو لال مسجد اسلام آباد میں نہ صرف سخت الفاظ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ مولوی عبدالعزیز کی جانب سے رائفل دکھا کر مبینہ دھمکی بھی دی گئی۔ اس واقعے کی ویڈیو میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت شدت سے گردش کرتی رہی۔

اس واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا:

کیا دینی حلقوں میں اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اسلحے کی نمائش ضروری ہو گئی؟

مفتی عبدالقوی جیسی شخصیت کے ساتھ ایسا سلوک کیا جانا دینی اخلاقیات کے مطابق ہے؟

مولوی عبدالعزیز جیسے حساس کردار کو اتنی آزادی دینا ریاستی اداروں کی ناکامی تو نہیں؟

میڈیا کی تشہیر: سنسنی خیزی یا سازش؟

اس واقعے کو جس طرح میڈیا نے اچھالا، اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مقصد صرف خبر دینا نہیں، بلکہ مخصوص پیغام دینا تھا۔ اس تشہیر کے ممکنہ مقاصد درج ذیل ہو سکتے ہیں:

1. علماء کے درمیان اختلافات کو نمایاں کرنا تاکہ عوام کی ان پر سے اعتماد اٹھ جائے۔

2. دینی طبقات کو شدت پسند ظاہر کرنا تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے دینی اداروں کو “ریڈیکل” ظاہر کیا جا سکے۔

3. متنازعہ شخصیات کو مزید متنازعہ بنانا تاکہ سنسنی خیزی اور ریٹنگز حاصل کی جا سکیں۔

4. ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا کہ وہ ان عناصر کے خلاف کاروائی کریں جو مسلح کاروائی کی علامت بنے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی خطرات: دشمن کے بیانیے کو تقویت؟

اس وقت بھارت کی پالیسی یہ ہے کہ وہ پاکستان کے دینی اداروں، مدارس اور مساجد کو “دہشتگردی کے اڈے” ظاہر کرے۔ ایسے میں لال مسجد جیسے حساس مقام کی منفی تشہیر براہ راست بھارتی پراپیگنڈے کو تقویت دے سکتی ہے۔ بھارت ان ویڈیوز کو بین الاقوامی فورمز پر استعمال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر سکتا ہے کہ:

پاکستان میں انتہا پسندی اب بھی موجود ہے؛

مساجد میں اسلحہ اور دھمکیوں کا چلن ہے؛

علماء خود آپس میں پرتشدد ہو چکے ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان کی دینی خودمختاری اور بین الاقوامی ساکھ دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

نتیجہ: میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا

میڈیا آزاد ہے، مگر آزادی کا مطلب غیر ذمہ داری نہیں ہوتا۔ ایسے نازک وقت میں جب دشمن پاکستان کی دینی بنیادوں پر حملے کر رہا ہے، میڈیا کو چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی کے بجائے تدبر، حکمت اور قومی مفاد کو ترجیح دے۔ ایسے واقعات کی رپورٹنگ ضرور کی جائے، مگر:

غیر ضروری بار بار نشر نہ ہو؛

ویڈیوز میں موجود حساس مناظر کو فلٹر کیا جائے؛

سیاق و سباق بیان کر کے توازن پیدا کیا جائے۔

آخر میں: فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا، بجھانے کی کوشش ہونی چاہیے

مفتی عبدالقوی اور مولوی عبدالعزیز کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کی ذمہ داری دینی اور ریاستی اداروں پر ہے۔ ایسے حالات میں عوام، علما، اور میڈیا سب کو مل کر آپس کے اختلافات کو بڑھانے کے بجائے کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ جب دشمن سرحد پر تیار بیٹھا ہو، تو گھر کے اندر لڑائی خودکشی کے مترادف ہوتی ہے۔