ملتان (صفدربخاری سے) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ پاکستان اسلامی نظریہ، دو قومی نظریہ کے عہد کے ساتھ وجود میں آیا بابرکت اسلامی تعلیمات اور احکامات پر عمل سے ہی قومی وحدت، یکجہتی اور پائیدار ترقی کی شاہراہ کھل سکتی ہے۔بھارتی جارحیت، بالادستی کے غرور و تکبر کو خاک میں ملانے کے لیے پوری قوم اخلاص اور نیک نیتی سے یک جان، یک آواز ہوگئی تو اللہ کی مدد آئی اور بحیثیت قوم ہمیں سرخرو کیا۔ پوری قوم کو اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے اور اس بات پر یقین کامل رکھنا ضروری ہے کہ سب کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی نا کہ کوئی اور طاقت۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع العلوم میں جماعت اسلامی ملتان کے ماہانہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر خواجہ ظفر الہی سابق ناظم حلقہ سعودی عرب ، صہیب عمار صدیقی امیر جماعت اسلامی ملتان مولانا عبدالرزاق مہتمم جامع العلوم ، خواجہ عاصم ریاض سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ملتان ، حافظ محمد اسلم نائب امیر جماعت اسلامی ملتان اور دیگر ذمہ دران بھی موجود تھے۔ پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ غرور و تکبر میں مبتلا، زخمی اور ذلت میں ڈوبے فاشسٹ مودی کے ممکنہ پاگل پن کے سدباب کے لیے پاکستان کی عوام کو متحد رہنا ہوگا۔ کشمیر و فلسطین کے مظلوموں کی مدد اہلِ پاکستان کا دینی، انسانی اور قومی فرض ہے، کشمیر و فلسطین کو نظرانداز کرنا مِلتِ اسلامیہ کے لیے ہمیشہ ٹھوکروں اور پستی کا سبب بنارہے گا، امریکی صدر نے جنوبی ایشیا کو بڑی جنگ سے بچانے کا دعویٰ تو کیا ہے لیکن غزہ فلسطین میں ہزاروں انسانوں کے قتلِ عام، نسل کشی میں ناجائز اسرائیل کی بھرپور معاونت اور سرپرستی بھی جاری رکھی ہوئی ہے، اگر امریکہ واقعی امن کا داعی ہے تو ا ±سے ناجائز اسرائیلی ریاست کی سرپرستی ترک کرکے مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈل ایسٹ کے بزنس ٹور میں قیمتی تحائف بٹورنے میں بڑی کامیابی حاصل کی لیکن مشرق وسطیٰ کے امن اور فلسطینیوں کیساتھ عرصہ دراز سے جاری ظلم بند کرنے میں کوئی کردار ادا کرنے کی بجائے ظلم اور قتل عام کے لیے ناجائز صیہونی ریاست کا سرپرست اور سہولت کار بن گیا. د ±نیا بھر میں دہشت گردی کو فروغ دینے اور معصوم انسانوں کے قتل عام، حکومتوں کی تبدیلی کے ماسٹر مائنڈ امریکہ کا ریاستِ جموں و کشمیر پر ثالثی کا کردار مشکوک ہی رہے گا، پاک بھارت مذاکرات کے لیے ثالثی امریکہ یا کوئی بھی کرے، کشمیری عوام اور قیادت کو شامل کیے بغیر مسئلہ کشمیر کا کوئی بھی حل ناقابلِ قبول اور ناقابلِ عمل ہوگا. تنازعہ کشمیر کا حل بالکل واضح اور طے شدہ ہے، بھارتی حکومت تسلیم کرچکی ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلہ کے لیے حقِ خودارادیت دیا جائے گا۔ اسی لیے حکومت پاکستان کو اپنے مظلوم فلسطینی اور کشمیری بھائیوں کے لیے موثر سفارت کاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی دباو ¿ کے ذریعے اس معاملے کو حل اور خطے کو پر امن بنایا جاسکے۔