ملتان:  پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی ظلم کی داستان حکام سے تحفظ کی اپیل کرتے ہوئے جھوٹے مقدمات خارج کرنے کی اپیل کردی۔تفصیل کے مطابق بستی نو نواب پور روڑ کا رہائشی پسند کی شادی کرنے والا جوڑا آرحہ کلیم نے اپنے شوہر محمد عمر کے ہمراہ ہونے والے ظلم کی داستان بیان کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میں نے اپنی مرضی سے محمد عمر کے ساتھ پسند کی شادی کی شادی کے بعد میرا والد پولیس ملازم کلیم خورشید بھائی وغیرہ میرے اور میرے خاوند کے جان کے دشمن بن گئے میرا والد پولیس ملازم ہونے کی وجہ سے مختلف تھانوں میں جھوٹ پر مبنی مقدمات درج کرارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہیں متاثرہ جوڑے نے مزید بتایا کہ جب میں نے اپنی مرضی سے محمد عمر کے ساتھ شادی کی تو اپنے والدین کے گھر سے صرف تن زیب کیا ہوا پارچات پوشیدنی نکلی تھی مگر میرے والدین نے جھوٹ پر مبنی کہانیاں بنواکر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے طلاق پر بضد ہیں جب کہ میں نابالغ ہوچکی ہوں اور مجھے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا پورا حق ہے میرے والد کانسٹیبل کلیم خورشید نے پولیس وردی کا غلط استعمال کرتے ہوئے تھانہ سیتل ماڑی اور چہلیک میں جھوٹے مقدمات درج کرائے جب ان مقدمات میں کچھ حاصل نہ ہوسکا تو میرا والد تھانہ گلگشت کے ایس ایچ او سے سازباز ہوکر ہمیں حراساں و پریشان کررہا ہے اور بلیک میل کرتے ہوئے میری ازواجی زندگی میں ناجائز طور پر دخل اندازی پر اتر آیا ہے متاثرہ جوڑے نے وزیر اعلی پنجاب،آئی جی پنجاب،ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب،آر پی او اور سی پی او ملتان سے اپیل کی ہے کہ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات فوری طور پر خارج کیئے جائے اور ہمارے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے میرے والد کانسٹیبل کلیم خورشید اور بھائیوں سے جان بخشی کرائی جائے کیونکہ اگر مجھے یا میرے شوہر کو کوئی بھی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری میرے والدین کے اوپر عائد ہوگی۔