دفاعی ٹیکنالوجی کی جنگ پاکستان کی دفاعی خود انحصاری بھارتی عسکری حکمتِ عملی کی نا کامی
مغربی اسلحہ انڈسٹری کی ساکھ پر سوالات اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی

تحریر: شہگی پیرزادہ

کل ‏صبح 4 بجے ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیامیدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ سفارتی پس منظر میں۔ چین کے سفیر کو راولپنڈی سے ایک ہنگامی کال کی گئی، اور چند گھنٹوں میں ایک طویل عرصے سے تیار کردہ منصوبہ فعال ہوگیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محض ایک فضائی جھڑپ نہیں تھیں بلکہ بھارت کی فضائی برتری کے تاثر کا مکمل خاتمہ تھا
‏بھارتی فضائیہ نے مغربی محاذ پر تقریباً 180 طیارے اکٹھے کیے تھے ارادہ تھا بالاکوٹ کی طرز پر حملہ کر کے پاکستان کا دفاع توڑنا اور اپنی برتری ثابت کرنا
‏لیکن فضائیں اب پہلے جیسی نہیں رہیں
‏بھارت 300 کلومیٹر دور کیوں چلا گیا؟
‏دوبارہ بھارتی طیارے سرحد پار نہ کر سکے کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ آگے کیا منتظر ہے
‏چینی J-10C لڑاکا طیارے
‏PL-15 میزائل جن کی رفتار Mach 5 اور رینج 300 کلومیٹر سے زیادہ
‏ایر آئی ریڈار، جو ہر طیارے کو ایک جُڑے ہوئے سسٹم کا حصہ بناتے ہیں
‏یہ صرف پاکستانی پائلٹ نہیں تھے، یہ چین کا مکمل فضائی جنگی نظام تھا جو اس وقت پاکستانی فضاؤں میں متحرک تھا
‏رافیل گرا دیا گیا
‏ایک رافیل طیارہ جس کی مالیت 250 ملین ڈالر تھی فضا میں مار گرایا گیا۔ دوسرا بمشکل واپس آیا۔ Spectra الیکٹرانک وارفیئر سسٹم ناکام ہوا۔ PL-15 میزائل بغیر کسی فعال ریڈار کے، خاموشی سے ہدف پر جا لگا مصنوعی ذہانت کی مدد سے
‏یہ لڑائی نہیں گھات تھی
‏چینی سیٹلائٹ اور پاکستانی AWACS کی مدد سے پاکستانی فضائیہ نے سینسر-فیوزن کا استعمال کرتے ہوئے ہدف کو نشانہ بنایا۔ بھارتی طیارے کو نہ ہدف کا پتا چلا، نہ میزائل کا
‏بھارتی تذلیل اور دباؤ
‏رافیل، جسے بھارت نے برتری کی علامت کے طور پر خریدا، چین کے بنے میزائل سے مارا گیا۔ یہ صرف تکنیکی ناکامی نہیں بلکہ جغرافیائی پیغام بھی تھا
‏یہ واقعہ مغرب کے دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا گیا۔ فرانس کے دفاعی سودے پر سوالات اٹھنے لگے۔ چین خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا اور شاید مسکرا رہا تھا
‏نیا فضائی دور
‏یہ 2019 نہیں ہے۔ یہ بالاکوٹ نہیں ہے۔ اب بھارت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ پاکستانی فضاؤں میں داخلہ خودکشی ہے
‏رافیل کیوں ناکام ہوا؟
‏ایری آئی سب کچھ دیکھتا ہے، بھارتی ریڈار کچھ نہیں،خاموشی سے گشت کرتے J-10C طیارے، PL-15E میزائل جنہیں لاک آن ہونے کے بعد فائر کیا گیا
‏رافیل کو جب احساس ہوا، میزائل صرف 50 کلومیٹر دور تھا۔
‏رفتار: Mach 5
‏وقت: صرف 9 سیکنڈ
‏نتیجہ: بچاؤ ممکن نہیں تھا
‏ 250 ملین ڈالر لاگت کا رافیل، ایک سے زائد نشانہ بن گئے
‏بھارتی فضائیہ اب اپنی ہی سرحد سے 300 کلومیٹر پیچھے جا چکی ہے۔ بالاکوٹ 2.0؟ اب ممکن نہیں
‏ہندوستانی ڈاکٹرائن کی شکست
‏بھارت نے پلیٹ فارم خریدے۔ مگر پاکستان نے ایک مکمل “کلنگ چین” Killing Chain بنائی۔
‏اسپکٹرا ای ڈبلیو غیر موثر، فرانسیسی انجینئرنگ بے اثر، بھارتی پائلٹ ناکام، ان کے خلاف جنگ مشینیں لڑ رہی تھیں، جنہیں وہ دیکھ بھی نہیں سکتے تھے
‏نتیجہ خاموش فضائی غلبہ
‏یہ صرف ایک لڑائی نہیں تھی ایک نیا دور تھا۔
‏C4ISR یعنی کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن، کمپیوٹرز، انٹیلیجنس، سرویلنس، اور ریکی—نے جنگ جیتی
‏بھارت کی فضائی برتری کا خواب، جو رافیل پر منحصر تھا، کشمیر کے آسمانوں میں اٹھتے ہی خاک میں مل گیا
کیا پاکستان ایک بار پھر مسلم ممالک میں اپنی طاقت ثابت کررہا ہے؟
کیا 7 اور 8 مئی کی درمیانی شب پاکستان نے مغربی اسلحے کی برتری کی افسانوی حیثیت کو توڑ دیا ہے؟
چند ہی گھنٹوں میں کشمیر کی فضائیں جدید مغربی اور روسی لڑاکا طیاروں کے لیے کھلا قبرستان بن گئیں۔ اور یہ کارنامہ کس نے انجام دیا؟
ایک ایسا ملک جس نے صرف چینی ٹیکنالوجی استعمال کی، نہ امریکی مدد، نہ روسی حمایت
ہندوستان شدید فوجی صدمے میں ہے
جدید تاریخ کی سب سے تباہ کن فضائی شکست اس کے دامن پر لکھی جا چکی ہے
5 طیارے چند منٹ میں تباہ ہوئے ان میں فرانسیسی “رافیل”، روسی “سوخوئی” اور “مگ” اور 77 اسرائیلی ڈرون شامل ہیں۔ سب مار گرائے گئے
پاکستانی دفاعی نظام کے ہاتھوں جو مکمل طور پر خود انحصاری پر مبنی ہے اور چین کی مدد سے اسے بہت بہتر کر لیا گیا ہے
لیکن ہوا کیا؟
اور یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بدل دینے والی صبح کی پہلی کرن ہے؟
آغاز
آپریشن سندور

7 اور 8 مئی کی درمیانی شب، ایک بجے کے قریب، بھارت نے “آپریشن سندور” نامی ایک بڑی فضائی کارروائی کا آغاز کیا
ہدف تھا: ہندوستان کی نظر میں مبینہ عسکری ٹھکانے، جو پاکستانی حدود میں مظفر آباد بہاولپور اور مریدکے کے قریب بتائے گئے۔ جو کہ دراصل مساجد تھیں
بھارتی فضائیہ نے استعمال کیے
رافیل طیارے (فرانس کے فخر کا نشان) جنہیں اس سے پہلے کبھی نہیں گرایا گیا
سوخوئی-30 اور مگ-29 (روس)
اسرائیلی “ہیرون” ڈرونز جنہیں اس سے پہلے کبھی نہیں گرایا جاسکا
یورپی میزائل اسکیلپ (SCALP)
حملے کے ابتدائی نتائج میں 26 پاکستانی شہری شہید ہوئےںجن میں ایک تین سالہ بچی بھی شامل ہے، 4 دیگر بچے،خواتین اور 40 سے زائد زخمی، جیسا کہ CNN اور تمام ہی عالمی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے
لیکن اصل دھماکہ چند منٹ بعد ہوا
پاکستان نے اپنے دفاع میں جوابی حملہ کیا۔ صرف دفاع میں!
پاکستان کی طرف سے 40 جہاز صرف 120 سیکنڈز میں فضا میں تھے
ہندوستان کے تقریبًا 75 جہاز ہوا میں تھے
ان میں سے پانچ طیارے واپس اپنے ائر بیسز پر نہ جا سکے۔ل
یہ وہ 5 طیارے تھے جنہوں نے پے لوڈ فائر کیے تھے۔
پاکستان نے تحقیق اور تصدیق کے بعد اعلان کیا کہ۔۔۔
2 رافیل
1 مگ-29
1 سوخوئی-30
1 اسرائیلی “ہیرون ڈرون
یعنی بھارت کی طرف سے حملہ کرنے والا ہر طیارہ تباہ کر دیا گیا
یہ رافیل طیارے کی دنیا میں پہلی جنگی شکست بھی ثابت ہوئی
لیکن اہم بات یہ نہیں کہ کون سا طیارہ گرا، بلکہ یہ ہے کہ کس ٹیکنالوجی نے اور کس ملک کی افرادی قوت نے گرایا
یہ بازی پلٹنے والا لمحہ تھا جب پاکستانی ائر فورس اور چینی ہتھیاروں کی برتری ثابت ہوگئی
یہ پہلی بار تھا کہ پاکستان نے صرف اپنے اور چینی ہتھیاروں پر انحصار کیا اور اس بار کسی F-16 کو زحمت نہیں دی گئی1. JF-17 تھنڈر اور J-10C چینی طیارے2. PL-15 میزائل (200+ کلومیٹر رینج)
فضائی دفاعی نظام جو پاکستانی اور چینی انجینئرز کی محنت ہے اور جس میں پاکستان مہارت حاصل کرچکا ہے
HQ-9B

HQ-16

LY-80

نتیجہ؟
الحمد للہ کوئی پاکستانی طیارہ تباہ نہیں ہوا
کوئی دفاعی نظام متاثر نہیں ہوا
بھارتی حملہ آور فورس کو پاکستانی فضائی حدود میں رہتے ہوئے فاصلے سے ہی تباہ کر دیا گیا، کسی براہِ راست جھڑپ کے بغیر
جیسے ہی یہ خبریں آنی شروع ہوئیں تو
عالمی اسلحہ مارکیٹ میں ہل جل ہوگئی
مغرب نیچے چین اوپر
جیسے ہی یہ خبریں آئیں
فرانسیسی کمپنی Dassault Aviation کے شیئرز پہلے دن 1.6% گرے اور آج مزید 3.44 % اور گرے۔ 11.20 یورو شئر پرائس صرف آج نیچے آئی ہے
چینی کمپنی Chengdu Aircraft کے شیئرز میں 18% اضافہ ہوا۔ آج 2.5% پرائس نیچے بھی آئی ہے۔ یعنی دو دن میں نیٹ 16.37% پرائس بڑھی ہے
کیوں؟
کیونکہ یہ صرف طیاروں کی لڑائی نہیں تھی، بلکہ دو عسکری فلسفوں کی جنگ تھی
مغرب کا مہنگا تسلط پسند ہتھیار
چین اور پاکستان کے اشتراک سے کم لاگت مؤثر اور قابلِ برآمد ہتھیار
ازرائیل کو کیا پریشانی لاحق ہے؟
مسئلہ یہ ہے کہ مصر میں بھی یہی چینی سسٹمز موجود ہیں
گو کہ مصر ازرائیل کا حلیف اور دوست ہے لیکن ازرائیل کے لیے یہ بہت بڑی پریشانی ہے
مصر کے پاس HQ-16 اور LY-80 دفاعی نظام موجود ہے
مصر کے پاس J-10C طیارے بھی موجود ہیں جو پاکستان میں دفاعی نمائش میں ہونے والے معاہدے کے تحت چین مصر کو دے رہا ہے
حال ہی میں نسور الحضارة 2025 نامی مصر-چین مشترکہ مشقوں میں J-10C طیارے پہلی بار اہرام مصر کے اوپر پرواز کرتے نظر آئے
اسرائیل نے اس پر چین سے باضابطہ احتجاج بھی کیا اور اسے اپنی فضائی برتری کے لیے خطرہ قرار دیا۔ چین نے اس احتجاج کو رد کردیا کہ یہ پاکستان میں ہونے والی دفاعی نمائش میں خریداری کے معاہدے کے تحت مصر کو فراہم کیے گئے ہیں
اب ایک نیا منظرنامہ تشکیل پاتا ہوا نظر آتا ہے
دراصل جو کچھ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہوا، وہ محض سرحدی جھڑپ نہیں تھی
یہ پاکستان کی طرف سے ایک غیر رسمی اعلان تھا کہ مغربی ہتھیاروں کی اجارہ داری کا دور ختم ہورہا ہے
اب چین صرف “دنیا کی فیکٹری” نہیں، وہ ایک میدانِ جنگ میں آزمودہ طاقت ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے فضاؤں میں بھی طاقت کا توازن خاموشی سے بدل رہی ہے
دوسری طرف پاکستان پچھلے 10 سے 15 برسوں میں خاموشی سے چین کے ساتھ مل کر اپنی دفاعی طاقت کو خاطر خواہ حد تک بڑھا چکا ہے
اگر آپ یہاں تک پڑھ چکے ہیں، تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ
یہ عالمی سطح پر کوئی عام خبر نہیں ہے
یہ ایک نئے عالمی باب کی سرخی ہے
کیونکہ اب گیم بدل چکی ہے اور اگلی چال چلنے والی طاقت اب شاید وہ نہیں رہے جو ہمیشہ سمجھی جاتی تھی
عالمی سطح پر نقشہ بدل رہا ہے
طاقت کے فلسفے ٹوٹ رہے ہیں طاقت کی نئی تعریف لکھی جا رہی ہے