ملتان:  سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میاں راشد اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کی گئی ٹیکس آرڈیننس ترمیم 2025 صنعت کار اور تاجر برادری مسترد کرتی ہے انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں میں ٹیکس افسران کی تعیناتی ہراسانی اور کاروباری اعتماد کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ اس وقت انتہائی مشکلات کا شکار ہے، ٹیکس افسران کو مزید اختیارات دینے سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے سے معیشت مذید تباہ ہوگی۔قانونی کارروائی یا نوٹس کے بغیر کاروباری لوگوں کے اکاونٹس سے پیسہ نکلوانے کا اختیار دینا غلط ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری مقامات پر افسران کی تعیناتی کا اختیارکاروبار تباہ و برباد کرنے کے مترادف ہوگا۔ حکومت کو فوری طور پر انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس واپس لےانہوں نے کہا کہ کاروبار کے لئے جتنی اسانیاں ہونگی اتنی معیشت پروان چڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔انہوں نے مذید کہا کہ ملک و قوم کی بقاء کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام محب وطن طبقات ملک و قوم کی سلامتی ترقی و خوشحالی کے لیے ایک پیج پر جمع رہیں تاکہ ملک و قوم دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں پاکستان کا ہر شہری ملک و قوم کے تحفظ کے لیے پاک فوج کی شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔