ملتان میں پاکستان یونائٹیڈ ورکرزفیڈریشن جنوبی پنجاب کی عالمی یوم مزدور ریلی
ملتان (صفدربخاری سے) پاکستان یونائٹیڈ ورکرزفیڈریشن جنوبی پنجاب
(PUWF) نے عالمی یوم مزدور کو نواں شہر چوک سے ایک ریلی نکالی جس میں صنعتی ورکرز۔ ڈومیسٹک و زرعی کارکنوں کے علاوہ پبلک سیکٹر کے واسا۔ ایم ڈی اے۔ ملتان ویسٹ مینجمنٹ۔ زرعی انجینئرنگ۔ اریگیشن۔ بلڈنگ و ہائی وے۔ سمال انڈسٹریز۔ ٹیوٹا کے کثیر تعداد میں مزدور شریک ہوئے ریلی کی قیادت فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ملک مختار اعوان۔ صدر مصور حسین قریشی۔ چیئرمین حامد حسن۔ چیف آرگنائزر ملک وحید حسین رجوانہ اور آصف ندیم۔ سکندر نیازی۔ اعجاز چھینہ۔ ملک عرفان اتیرا۔ مصوری نقوی۔ آصف اقبال۔ آصف چشتی۔ صبیحہ اشرف اور شاہدہ شہگی نے کی۔ مزدوروں سرخ جھنڈے اور بینر اٹھا رکھے تھے ریلی پریس کلب پہنچنے پر مختار اعوان نے اپنی تقریر میں کہا کہ یوم مئی مزدوروں کا تجدید عہد کا دن ہے 1886 میں شگاگو کے مزدوروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے مزدوروں کے لیے آٹھ گھنٹے اوقات کار کا تعین کروایا جس پر ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دنیا بھر کے مزدور اس دن کو عالمی سطح پر مناتے ہیں۔ مزدور کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں لیبر فورس کی تعداد چھ کروڑ سے زائد ہے جس میں رسمی و غیررسمی شعبے کے مزدور شامل ہیں لیکن بدقسمتی سے صرف رسمی شعبے میں کام کرنے مزدوروں کو سماجی تحفظ حاصل ہے جو کل لیبر فورس کا پندرہ فیصد سے بھی کم ہیں۔ جب کہ غیررسمی شعبے جس میں ڈومیسٹک ورکرز۔ ہوم بیسڈ ورکرز۔ زراعت سے وابستہ ورکرز۔ تعمیراتی ورکرز۔ ٹرانسپورٹ کے علاوہ دیگر شعبے بھی شامل ہیں۔ ان مزدوروں کے لیے آج تک کوئی قانون سازی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ان مزدوروں کو سماجی تحفظ کی سہولیات و مراعات حاصل نہیں ہیں اس سلسلے میں پاکستان نے عالمی ادارہ محنت (ILO) کے مختلف کنونشنز کی توثیق بھی کی ہوئی ہے لیکن ان پرعمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مزدور بہت سارے مسائل اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔ مہنگائی نے مزدوروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ روزگار کے مواقع روز بروز محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ بیس ہزار سے زیادہ کمپنیاں دبئی میں اپنا کاروبار شفٹ کر چکی ہیں۔ انڈسٹری و کارخانے بند ہو رہے اور مزدوروں کو ملازمتوں سے نکالا جا رہا۔ حکومت کی طرف سے خاطرخواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے مشکل کی اس گھڑی میں مزدور سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ حامد حسن۔ مصور قریشی اور ملک وحید رجوانہ نے مزدوروں موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں لیبر قوانین کا اطلاق ملکی تمام مزدوروں چاہے وہ رسمی ہوں یا غیر رسمی کو یقینی بنایا جائے۔ مزید کہا کہ مزدوروں کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کے ذریعے غیر رسمی شعبے کے لیے فوری قانون سازی کی جائے تا کہ ملکی قوانین سے حاصل شدہ مراعات سے ملک کے تمام مزدوروں استفادہ حاصل کر سکیں۔ پچاس فیصد سے زیادہ مزدوروں کو کم از کم اجرت نہیں دی جا رہی۔ سوشل سیکورٹی اور ای او بی آئی سے مراعات کو محدود کر دیا گیا ہے لاکھوں کی تعداد میں مزدور ان اداروں میں رجسٹرڈ نہیں۔ سرکاری مشینری لیبر قوانین پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ کم از کم اجرت پچاس ہزار مقرر کی جائے۔ سوشل سیکورٹی اور ای او بی آئی میں سو فیصد ورکرز کو رجسٹرڈ کیا جائے۔ پنشن کو کم از کم اجرت کے برابر کی جائے۔ پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ میں ایم او یو کے نام سے پرائیویٹ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے مل کر اربوں کی کرپشن بند کی جائے اور ذمہ داران کو سزا دی جائے۔ مہنگائی کے جن کو قابو کیا جائے۔ منافع بخش اداروں کی نجکاری روکی جائے۔ تعلیمی اداروں اور صحت کے اداروں کو آؤٹ سورس نہ کیا جائے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سی بڑھائی جائیں۔ پنشن۔ کموٹیشن اور لیو انکیشمنٹ کا سابقہ طریقہ بحال کیا جائے۔ 17۔ اے بحال کیا جائے۔






































Visit Today : 383
Visit Yesterday : 369
This Month : 11589
This Year : 59425
Total Visit : 164413
Hits Today : 13217
Total Hits : 823315
Who's Online : 4





















