مزدور کےدن کب بدلیں گے؟

تحریر:شاہدہ پیزادہ شہگی

ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ہے پاکستان میں بھی گزشتہ 77 برسوں میں اس دن کی اہمیت پر زور دیا گیا جلسے کیے گئے ریلیاں نکالی گئیں اور حکومتی سطح پر بیانات دیے گئے کہ مزدور ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں لیکن حقیقت میں کیا کبھی کسی نے اس ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دینے کی کوشش کی؟ یا صرف اخباری بیانات اور سرکاری فائلوں تک ہی یہ دن محدود رہا؟
یہ دن ہمیں اُن محنت کشوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے جانیں تک قربان کیں مزدور وہ ہاتھ ہیں جو صبح دم سے شام گئے تک مشقت کرتے ہیں مگر ان کے اپنے بچے بھوک سے بلکتے ہیں وہ کھیتوں کو سرسبز بناتے ہیں مگر ان کے گھروں میں پانی تک دستیاب نہیں وہ عمارتیں تعمیر کرتے ہیں مگر خود چھت سے محروم ہیں ان کی زندگی سراپا جدوجہد ہے اور وہی جدوجہد ان کا اصل حسن ہے
کیا واقعی ہم نے کبھی ان کی عظمت کا اعتراف کیا؟
کہنے کو ملک میں کم از کم تنخواہ کا تعین ہوتا ہے لیبر قوانین بنائے جاتے ہیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ پرائیویٹ اداروں اسکولوں اور کارخانوں میں آج بھی ہزاروں مزدور وہ اجرت نہیں پا رہے جس کا دعویٰ حکومتیں کرتی ہیں کئی مزدور آج بھی ایسے ہیں جنہیں نہ تو کوئی قانونی تحفظ حاصل ہے نہ ہی کوئی ایسا پلیٹ فارم جہاں وہ اپنی شکایت درج کرا سکیں
مزدوروں کے مسائل صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی اور قانونی ناکامیوں کی کہانی بھی ہے
یہاں میں یہ بات بھی کہنا چاہوں گی کہ بطور ایک خاتون میں خود گزشتہ کئی برسوں سے ورک پلیس ہراسمنٹ کا سامنا کر رہی ہوں میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہر فورم پر آواز بلند کی یہ ایک اذیت ناک راستہ ہے لیکن میں پیچھے نہیں ہٹی میں ہر اُس عورت کو پیغام دینا چاہتی ہوں جو اپنے حق کے لیے خوفزدہ ہے
تم اکیلی نہیں ہو اپنی آواز بلند کرو سچائی کے راستے پر چلو ظلم کے خلاف کھڑی ہو جاؤ
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس پاکستان یونائٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) جیسا ادارہ موجود ہے جو نہ صرف مزدوروں کے لیے آواز بلند کر رہا ہے بلکہ خواتین مزدوروں کے مسائل ان کے بچوں کی تعلیم میڈیکل سہولیات اور سوشل سیکیورٹی جیسے اہم امور پر عملی اقدامات کر رہا ہے بھٹوں پر کام کرنے والی عورتیں ہوں یا گھریلو ملازمائیں PUWF ان سب کی نمائندگی کر رہا ہے وہ بھی بغیر کسی سیاسی مفاد یا ذاتی فائدے کے ھماری فیڈریشن کی ڈیمانڈ ھے کم از کم مزدور کی اجرت ساٹھ ہزار ہو جبکے ای او بی آئی پینش 25000 ہونی چاہیے
لیکن سوال پھر بھی وہی ہے مزدور کے دن کب بدلے گے ؟
کیا یہ دن صرف ایک تقریر ایک نعرہ یا ایک علامتی واک تک محدود رہے گا؟ یا ہم واقعی اس دن کو ایک تحریک کی شکل دیں گے؟ وقت آ چکا ہے کہ ہم محنت کش طبقے کو وہ مقام دیں جس کے وہ حقدار ہیں نہ صرف کاغذوں میں بلکہ عملی طور پر بھی
یہ مضمون ایک سوال ہے ایک فریاد ہےاور ایک امید بھی
کہ شاید کسی دن مزدور کا دن بھی بدلے
اور وہ دن صرف اس وقت بدلے گا جب ہم سب مل کر اٹھ کھڑے ہوں گے

اشعار میرے ملک کے مزدور کے لیے

خون پسینے کی قیمت نہ پوچھی کبھی کسی نے
یہ مزدور ہر دور میں صرف وعدے سنتا آیا
ہم نے مزدور کے پسینے میں خواب دیکھے ہیں
یہ وہ چراغ ہے جو خود جل کے روشنی دیتا ہے