ملتان میں ٹریفک کے مسائل کمشنر ملتان کی کاوشیں

تحریر: شہگی پیرزادہ

ملتان میں ٹریفک کی صورتحال دن بہ دن الارمنگ ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں میں موٹر سائیکل کے بڑھتے ہوئے استعمال نے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف دو فیصد نوجوان ہی ایسے ہیں جن کے پاس موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس موجود ہے یہ والدین کی بہت بڑی لاپرواہی ہے کہ کم عمر بچوں کو موٹر سائیکلیں دے کر چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے باہر بھیج دیا جاتا ہے یا اسکول و کالج بھیجا جاتا ہے بغیر یہ سوچے سمجھے کہ یہ عمل کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے
گزشتہ ایک سال میں ملتان میں پانچ سو سے زائد ٹریفک حادثات ہو چکے ہیں ہر حادثے کے بعد قانون پولیس اور معاشرے کو الزام دینا رواج بن چکا ہے لیکن سب سے پہلے والدین کو اپنی ذمہ داری تسلیم کرنی چاہیے والدین کا یہ رویہ کھلی قانون شکنی ہے بچوں کو قانون توڑنے کی تربیت دینا ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے
خوش آئند بات یہ ہے کہ کمشنر ملتان عامر کریم خان، نے ان سنگین مسائل کے تدارک کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات اٹھائے ہیں پہلی بار انہوں نے تعلیمی اداروں کو ساتھ ملا کر ایک مربوط حکمتِ عملی ترتیب دی ہے انہوں نے اسکول اور کالجوں سے ڈیٹا اکٹھا کیا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کتنے نوجوان بغیر لائسنس اور بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلا رہے ہیں
اس مہم کے تحت والدین کو تعلیمی اداروں کی جانب سے وارننگ لیٹر جاری کیے گئے ہیں جس میں انہیں ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے کہ اپنے بچوں کے لیے لائسنس بنوائیں اور ہیلمٹ لازمی فراہم کریں جن بچوں کی عمر 18 سال سے کم ہے ان کے لیے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ موٹر سائیکل نہ چلائیں اور اگر خلاف ورزی کی گئی تو تعلیمی ادارے ان طلبہ کو نکالنے کے مجاز ہوں گے
اگر کوئی طالبعلم ایک ہفتے میں ان ہدایات پر عملدرآمد نہیں کرتا تو اسے ادارے سے نکال دیا جائے گا بے شک یہ ایک سخت قدم ہے لیکن اس کا مقصد صرف اور صرف نوجوانوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ ہے اگر والدین اس فیصلے کا ساتھ دیں گے تو نہ صرف قانون پر عمل ہوگا بلکہ ہزاروں قیمتی جانیں بھی محفوظ رہیں گی
ڈیٹا کے مطابق نو ہزار نوجوان بغیر لائسنس کے موٹر سائیکل چلا رہے ہیں یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے والدین کو سمجھنا چاہیے کہ حادثہ یا معذوری کی صورت میں سب سے پہلے انہی کو جواب دہ ہونا پڑے گا
کمشنر عامر کریم خان کی یہ سوچ انتہائی درد مندانہ ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو محفوظ بنانے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں انہوں نے نجی اسکولوں کو اپنی ٹرانسپورٹ بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ بچوں کو موٹر سائیکل کی ضرورت ہی نہ پڑے خاص طور پر افیسر کالونی کے 13 اداروں کو سختی سے یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ اگر ان کے پاس چھ گاڑیاں ہیں تو ان کی تعداد بڑھا کر بارہ کی جائےمزید یہ کہ خانیوال روڈ سے افیسر کالونی کی طرف صبح آٹھ بجے سے ڈھائی بجے تک ٹریفک نکالی جائے گی جبکہ بوسن روڈ سے داخلہ بند کر دیا جائے گا تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو
تقریباً ساڑھے چار ہزار افراد کا ڈیٹا نکالا گیا ہے جن میں سے چار ہزار لوگ نجی ٹرانسپورٹ استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے رش میں اضافہ ہوا ہے یہ اقدامات والدین اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے تعاون سے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ملتان میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے کمشنر عامر کریم خان کی کوششیں نہایت قابلِ تحسین ہیں ان کا وژن محض قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ نئی نسل کو محفوظ اور باشعور بنانا ہے انہوں نے جو حکمت عملی ترتیب دی ہے وہ دل سے نکلی ہوئی ایک درد مندانہ سوچ کا مظہر ہے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ایک ذمے دار افسر نہ صرف مسئلے کو سمجھتا ہے بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات بھی کرتا ہے
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر والدین ہر استاد اور ہر شہری عامر کریم خان جیسے باشعور رہنماؤں کا ساتھ دے ہمیں اپنی نئی نسل کو حادثات اور معذوریوں سے بچانے کے لیے سخت مگر درست فیصلے کرنا ہوں گےقانون کی پاسداری صرف ایک فرض نہیں بلکہ ہمارے بچوں کی زندگیوں کی ضمانت ہے
آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ٹریفک قوانین کا احترام کریں گے بچوں کو قانون شکنی کی ترغیب نہیں دیں گے اور اپنے شہر کو محفوظ اور مہذب بنائیں گےکیونکہ محفوظ نوجوان ہی ایک محفوظ اور روشن پاکستان کی ضمانت ہیں