باپ سراں دے تاج
باپ سراں دے تاج
تحریر: شہگی پیرزادہ
جب بھی محبت قربانی اور جنت کی بات ہوتی ہے ہم سب کی زبان پر سب سے پہلا نام ماں کا آتا ہے۔ اور کیوں نہ آئے؟ ماں کی گود واقعی جنت کا پہلا جھولا ہے، ماں کی آغوش میں سکون کا سمندر چھپا ہوتا ہے۔ مگر اسی جنت کے سائے تلے ایک اور ہستی بھی ہوتی ہے جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہےوہ ہستی ہے باپ وہ سایہ دار درخت جو تپتے سورج میں بھی اپنی چھاؤں بچوں پر رکھتا ہے چاہے خود جلتا رہے
باپ وہ دریا جو خاموشی سے بہتا ہے، سب کو سیراب کرتا ہے مگر اپنی گہرائی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا
باپ وہ پہاڑ جو تھکتا ہے گھلتا ہے مگر کبھی اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرتا
باپ کا چہرہ شاید ماں جتنا جذباتی نہیں ہوتا، نہ اس کی آنکھوں میں اکثر آنسو نظر آتے ہیں، مگر وہ رات کو دیر تک جاگتا ہے، دن بھر مشقت کرتا ہے اور ہر لمحہ اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے سوچتا ہے
جب بچہ پہلا قدم اٹھاتا ہے، جب وہ بولنا سیکھتا ہے، جب وہ اسکول جاتا ہے، جب وہ زندگی کی دوڑ میں دو قدم آگے بڑھتا ہےاس کے پیچھے ایک باپ کی قربانی اس کا اعتماد اس کا سایہ ہوتا ہے
ماں محبت دیتی ہے تربیت دیتی ہے، لیکن باپ وجود کو بنیاد دیتا ہے سہارا دیتا ہے اور ایک ایسی ڈھال بن کر کھڑا ہوتا ہے جس کے ہوتے بچے بے خوف ہو جاتے ہیں
باپ کو اکثر جذبات سے خالی سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ باپ وہ ہستی ہے جو سب کچھ سہہ کر بھی خاموش رہتا ہے
باپ کا پیار شور نہیں کرتا وہ آہستگی سے خاموشی سے اپنی دنیا بچوں پر قربان کر دیتا ہے
جن بچوں کے سر سے یہ سایہ اٹھ جاتا ہے وہی اس ہستی کی اصل اہمیت جان پاتے ہیں یتیمی صرف ماں کی کمی کا نام نہیں باپ کے نہ ہونے کا دکھ بھی دل کو وہ زخم دیتا ہے جو زندگی بھر نہیں بھرتا
باپ کے بغیر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، فیصلے ڈگمگانے لگتے ہیں، اور وجود میں ایک ایسی کمی رہ جاتی ہے جسے کوئی دوسرا پورا نہیں کر سکتا بےشک ماں چاھے دنیا کی ھر دولتِ اولاد پر لگا دے مگر باپ کی کمی پوری نھیں کرسکتی ہے میں آپنے ذاتی تجربے پر کہتی ہوں اولاد کا وہ خانا کھبی ماں نھی بھر سکتی
باپ وہ ہستی ہے جو چاہتا ہے کہ اس کا بچہ اس سے بھی آگے جائے کامیاب ہو روشن ہو بغیر کسی حسد بغیر کسی مقابلے کے
اور یہی وہ نکتہ ہے جو باپ کو عظمت کے اس درجے پر لے جاتا ہے جہاں وہ سراندہ تاج کہلانے کا حقدار ہے
میرے والد نہ صرف میرے والد تھے بلکہ میرے پہلے استاد بھی تھے، میرے رہبر بھی اور میری زندگی کی پہلی محبت بھی۔ ان کی شفقت ان کی نظر کی گہرائی ان کے الفاظ کی دانائی آج بھی میرے دل پر نقش ہے
میرے والد نے ہمیشہ عمل سے تربیت دی۔ وہ صرف باتوں کے نہیں کردار کے انسان تھے۔ ان کا یہ جملہ میرے دل میں ہمیشہ گونجتا ہے
تربیت اپنے آپ بولتی ہے اس لئے اپنا کردار ایسا رکھو جو خاموشی میں بھی دوسروں کو کچھ سکھا جائے
انہوں نے سکھایا کہ زندگی میں عاجزی اپناؤ ان کا کہنا تھا
بڑا نوالہ کھاؤ مگر بڑا بول نہ بولو ہر چیز فانی ہے، اس لئے کسی چیز پر گھمنڈ نہ کرو
ان کے یہی الفاظ آج میرے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ وہ سچائی کو ایمان کا حصہ سمجھتے تھے۔ اکثر کہتے
سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے مگر سچ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے
ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ میرے لیے سبق تھا۔ وہ ایک بہترین معلم تھے صرف کتابوں کے علم نہیں بلکہ کردار، اخلاق صبر اور قناعت کا درس دیتے۔ ان کی پرورش کا اثر میری سوچ میرے الفاظ اور میرے فیصلوں میں نمایاں ہے
میرے والد کی شخصیت ایک درخت کی مانند تھی، جس کی چھاؤں میں ہم نے سکون پایا اور جس کے پھل سے آج بھی ہماری زندگیاں میٹھی ہیں۔ وہ ہمیں دنیا سے جیتنے کا فن نہیں، بلکہ خود کو سنوارنے کا ہنر سکھاتے تھے
آج ان کی برسی ہے دل اداس ہے مگر روح مطمئن کہ میرے والد ایک عظیم انسان تھے میرے لیے سب سے خوبصورت لمحہ وہ ہوتا ہے جب کوئی ہے کہتا ھے آپ کے والد صاحب انتھائی ایماندار آور نیک سیرت انسان تھے میں ان کے لیے دعا گو ہوں
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند کرے، اور ان کے صدقے ہمیں بھی سچائی، عاجزی اور صبر کی روشنی عطا فرمائے ھم کسی بھی عمر میں ہوں والدین کی کمی محسوس ہوتی ھے
ان کی وفات ہمارے لیے ایک بڑا صدمہ تھی مگر ان کی تعلیمات ہمارے لیے ایک ایسا سرمایہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا وہ گئے ضرور ہیں، مگر ان کی باتیں ان کی مسکراہٹ، ان کی سادگی اور ان کا خلوص آج بھی میرے دل میں زندہ ہے
میرے والد کی زندگی کا پیغام سادہ تھا
زندگی کو وقار سے جیو سچ بولو، عاجز رہو اور کسی کی دل آزاری نہ کرو
اگر ہم سب اس پیغام پر عمل کریں تو نہ صرف اپنی بلکہ معاشرے کی زندگی بھی بدل سکتی ہے میں دعا گو ہوں جن کے والدین ژندہ ہیں انکو ژندگی عطا فرمائے جن کے والدین یا والد نھیں ھیں ان کی میرے والدین میرے والد صاحب کی بخشش اور مغفرت فرمائے آمین
آخر میں میں یھی کہوں گی جن کے سر پر باپ کا ہو وہ دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہے اور جس کے سر سے یے سایا آٹھ جا ےاس کےکے لئے دعائیں رہ جاتی ہیں اس لیے
باپ واقعی سراں دے تاج ہیں
بیٹھے بیٹھے دل کیسے گبھرا جاتا ہے
جب اچانک باپ کا جانا یاد آتا ہے





































Visit Today : 135
Visit Yesterday : 445
This Month : 11786
This Year : 59622
Total Visit : 164610
Hits Today : 600
Total Hits : 824602
Who's Online : 9





















