عورت
وجود احساس اور توقیر

تحریر: شاہدہ پیزادہ شہگی

عورت ایک لفظ نہیں ایک مکمل کائنات ہے۔ وہ محض جسم نہیں، وہ ایک روح ہے، ایک احساس ہے، ایک ہستی ہے جو تخلیق کی بنیاد ہے۔ وہ ماں ہے جو بغیر کسی صلے کے پالتی ہے، بیوی ہے جو وفا کی تصویر بنتی ہے، بیٹی ہے جو رحمت ہے اور بہن ہے جو محبت کی ترجمان ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے عورت کو اس کے اصل مقام پر پہنچانا
عورت فطرت کی سب سے حسین تخلیق ہے۔ اس کے وجود میں نرمی بھی ہے، مضبوطی بھی قربانی بھی ہے اور استقامت بھی وہ دھوپ میں چھاؤں سردی میں حرارت، دکھ میں سکون اور اندھیرے میں روشنی ہے۔ اس کی خاموشی ایک پوری داستان سناتی ہے، اور اس کا ایک آنسو پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ سکتا ہے اگر وہ بیدار ہو

قرآنِ کریم میں عورت کو عزت، احترام، اور مساوات کا مقام دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اور ہم نے تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا
(سورۃ النباء: 8)
یہ جوڑا کسی کی ملکیت نہیں، بلکہ برابری اور شراکت کا نشان ہے
اور مردوں کے لیے وہی ہے جو انہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لیے بھی وہی ہے جو انہوں نے کمایا
(سورۃ النساء: 32)
یعنی عورت کو انفرادی شناخت، معاشی حق اور ذاتی وقار قرآن نے دیا حضرت فاطمتہ الزہرا حضرت مریم حضرت آسیہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ جیسی عظیم ہستیوں کو بطور مثال پیش کیا گیا یہ عورت کے مقام کی عظمت کی دلیل ہے
عورت کے دل میں کائنات بستی ہے۔ وہ محبت کرے تو بے لوث دکھ برداشت کرے تو لب سی لیے مگر افسوس کہ آج بھی دنیا کے بیشتر حصوں میں اسے محض ایک کردار تک محدود کر دیا گیا ہے ایک وجود جو صرف دوسروں کے لیے جیتا ہے خود کے لیے نہیں
آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی عورت کو قدم قدم پر ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ انسان ہے کمتر نہیں پاکستان جیسے معاشرے میں عورت آج بھی وراثت سے محروم ہے کام کی جگہوں پر ہراسانی کا شکار ہے اور اکثر اسے اپنی عزت اور حق کے لیے تن تنہا لڑنا پڑتا ہے لیکن یہ جدوجہد ختم نہیں ہوتی کیونکہ ہر وہ عورت جو خاموشی سے جبر سہتی ہے وہ بھی ایک مجاہد ہے
میں ایک عورت ہوں ایک عام عورت جس نے بچپن سے آزمائشوں کا سامنا کیا میری ذاتی اور نجی زندگی میں بھی مشکلات کا سامنا رہا لیکن میرے لیے سب سے کٹھن مرحلہ اُس وقت آیا جب میری پیشہ ورانہ زندگی میں خاص طور پر سال 2020 کے بعد مجھے ایک مسلسل جنگ کا سامنا ہے
میرے روزگار کے ماحول میں مجھے جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا میرے حوصلے کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مجھے بار بار یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ تم عورت ہو تم کمزور ہو تم کچھ نہیں کر سکو گی
میرے ساتھ کام کرنے والے بعض افراد نے کہا
تمہارے مجرم بہت بڑے مگرمچھ ہیں ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں ان کے تعلقات بہت اوپر تک ہیں تمہیں پچھتانا پڑے گا
لیکن میں نے پُرسکون لہجے میں صرف اتنا کہا
میرے پاس جا نماز ہے میں اللہ کے آگے روتی ہوں اور میرے لیے میرا اللہ ہی کافی ہے
یہ میرا توکل تھا میری اصل طاقت جو مرتے دم تک رھے گی انشاللہ
میں آج بھی میں حالتِ جنگ میں ہوں روزانہ میرے سامنے ایک نئی آزمائش کھڑی کی جاتی ہے روز میرے لیے کوئی نہ کوئی چیلنج پیدا کیا جاتا ہے ہر دن میرے حوصلے کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن میں ہر روز ایک نئی جنگ لڑ کر اپنے گھر واپس لوٹتی ہوں سر بلند دل مطمئن اور ایمان تازہ کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ دنیا آزمائش ہے اور میری جیت میرے صبر میری استقامت اور میرے رب کے وعدوں سے جڑی ہوئی ہے
میں تمام خواتین کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں
عورت کمزور نہیں ہے عورت بہت مضبوط ہے عورت بہت باوقار ہے
اگر آپ حق پر ہیں اگر آپ کا دل سچ سے معمور ہے اگر آپ اللہ پر توکل رکھتی ہیں تو کوئی طاقت کوئی دباؤ کوئی سازش آپ کو روک نہیں سکتی بس خود پر یقین رکھیں اور اُس ذات پر بھروسہ رکھیں جو سب سے بڑھ کر سننے اور سنبھالنے والا ہے
عورت کسی ایک دن یا ایک تقریر کی محتاج نہیں۔ وہ روز جیتی ہے روز مرتی ہے روز خواب دیکھتی ہے اور روز ٹوٹتی ہے لیکن پھر بھی مسکراتی ہے اگر ہم نے عورت کو اس کے اصل مقام پر نہ پہچایا تو یہ نہ صرف اس کی توہین ہے بلکہ ایک مہذب معاشرے کی ناکامی بھی
آئیے، عورت کو صرف رشتوں کے حوالوں سے نہ پہچانیں بلکہ ایک مکمل انسان مانیں اس کی سوچ اس کی جدوجہد اس کے خواب اور اس کے مقام کو سلام پیش کریں
الحمدللّٰہ میرا سب کچھ اسی کے لیے ہے اور اسی سے ہے