فلسطین ختم ہوتی زمین باقی رہتا ضمیر
فلسطین ختم ہوتی زمین باقی رہتا ضمیر
تحریر:شاہدہ پیزادہ شھگی
فلسطین اب صرف ایک جغرافیائی حیثیت کا نام نہیں رہا بلکہ یہ اب ایک درد، ایک رنج اور ایک سوال بن چکا ہے سوال یہ نہیں کہ فلسطین کہاں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ انسانیت کہاں ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے کہ جب ایک زمین پر انسانوں کا خون بے دریغ بہایا جا رہا ہو جب معصوم بچوں کے جسم مٹی میں دفن ہو رہے ہوں تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنی آنکھوں کی بینائی، اپنے کانوں کی سماعت اور اپنے دل کی دھڑکنیں کچھ کے لیے روک رکھی ہیں؟
پچھلے دنوں کی وحشتناک حقیقت
گزشتہ روز فلسطین میں ہونے والے ایک اور وحشیانہ دھماکے میں جو منظر سامنے آیا وہ کوئی فلم یا مووی کا حصہ نہیں تھا۔ وہ ایک حقیقت تھی جسے پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ معصوم لوگوں کی لاشیں اُڑتی ہوئی ہوا میں گئیں اور پھر ایک باپ کی لاش زمین پر گری جیسے وہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے اپنے جسم سے کھڑا تھا، مگر اس کی تقدیر نے اس کی دعا کو شرفِ قبولیت نہیں دیا یہ دل دہلا دینے والے مناظر تھے جو پوری عالم اسلام نے دیکھے اس دردناک حقیقت کا سامنا، ہمیں یہ سمجھنے پر مجبور کرتا ہے کہ فلسطین میں یہ خونریزی ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل المیہ ہے
فلسطین میں جاری ظلم اور بربریت کا یہ منظر
دنیا کو ایک اور ہولناک حقیقت کا سامنا ہے جہاں طاقتوروں کا ضمیر بے آواز ہو چکا ہے اور مظلوموں کے جسموں میں تڑپتی ہوئی زندگی کی آخری روشنی نظر آتی ہے۔ جب فلسطینی بچہ سکول جا رہا ہوتا ہے جب فلسطینی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگاتی ہے تب ان کے چہرے پر ایک سوال ہوتا ہے ہماری زندگی کی قیمت کیا ہے؟
اب سمجھ آ رہا ہے کہ لاکھوں مربعہ میل پر بسنے والے مسلمانوں کے ہوتے ہوے نبیؐ کے نواسے کا سر کیسے کٹ گیا علیؑ کی بیٹیاں کیسے لٹ گئیں خاندان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیسے اجڑ گیا
رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا
”قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا
تو ایک کہنے والے نے کہا اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے
میں نے غزہ کی ایک خاتون کو آہ و زاری کے ساتھ کہتے ہوئے سنا یا رسول اللہ ﷺ لاتشفع للعرب اے اللہ کے رسول ﷺ اہل عرب کی شفاعت نہ کیجئے گا
یہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں ہے یہ پورے انسانی ضمیر کا مسئلہ ہے۔ جب ظلم کی یہ داستانیں ہر روز ہمارے سامنے آ رہی ہیں تب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی خاموشی کو توڑیں اور ایک آواز بن کر ان مظلوموں کا ساتھ دیں ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ
فلسطین ختم نہیں ہو رہا، ہم ختم ہو رہے ہیں
خود کو ان خاموش قاتلوں میں شمار نہ کریں
کیا عالمی ادارے صرف وہی ہیں جو طاقتوروں کی زبان بولتے ہیں؟ کیا حقوق اور انصاف صرف اُن ممالک کے لیے ہیں جو عالمی سطح پر طاقت رکھتے ہیں؟ ہر گز نہیں فلسطین کا معاملہ ہمارے ضمیر کا معاملہ ہے
یاد رکھیے ہر فلسطینی کی شہادت کے بعد فلسطین زندہ رہتا ہے
ان کا خون اب بھی ہمیں جاگنے کی آواز دے رہا ہے۔ آج اگر ہم نے آواز نہ اٹھائی تو ہم نہ صرف فلسطینیوں بلکہ خود اپنی نسلوں کے لیے بھی جواب دہ ہوں گے
وہ بستی جو بچپن میں تھی آباد، آج بھی
غموں میں گم ہے اور آنکھوں میں خون ہے
اس لیے چپ نہ رہیں قلم کو اُٹھائیں فلسطین کی آواز بنیں۔ فلسطین کے لیے بولنا صرف فلسطین کے لوگوں کا نہیں بلکہ انسانیت کا فرض ہے





































Visit Today : 465
Visit Yesterday : 445
This Month : 12116
This Year : 59952
Total Visit : 164940
Hits Today : 3688
Total Hits : 827690
Who's Online : 10





















