اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ عوامی تنقید سے جج کی آزادی متاثرنہیں ہوتی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیف جسٹس کیخلاف توہین آمیز تقریرکے ملزم کی ضمانت  منظوری کا تحریری فیصلہ  جاری کردیا۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے 8 صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوامی  تنقید سے جج کی آزادی متاثرنہیں ہوتی۔ جج بھی تنقید سے محفوظ نہیں۔ غیر سوچی سمجھی تنقید، سخت اور غیر شائستہ زبان استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔