ایمرسن یونیورسٹی کا نظام چوپٹ کرنے کا سہرا،اساتذہ کے سر

تحریر
زین العابدین عابد
کسی بھی ادارے کی پہچان اس ادارے کے ملازمین ہوتے ہیں، ملازمین کے قول و فعل اور کردار سے عوام ادارہ کی ساکھ کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ایک تعلیمی ادارہ جہاں نوجوان نسل کی وسعت سوچ، اخلاقی آبیاری اور معاشرتی تربیت مقصود ہواس ادارہ کے اساتذہ تعلیم کو کاروبار سمجھنے لگیں تو اس قوم کی بربادی اور اخلاقی گراوٹ یقینی ہو جائی ہے۔سرکاری اساتذہ یا لیکچرر تو نوکری لگنے کے بعد ویسے بھی خاندان کی مقبول ترین شخصیت بن جاتے ہیں۔ خاندان میں دور دراز شادی ہے، کسی بچے کا عقیقہ ہے، کسی کا ختنہ ہے، کوئی بیمار ہے ان کا جانا اور ان کی شرکت وہاں ضروری ہوجاتی ہے۔ یہی لوگ جب پرائیویٹ اداروں میں پڑھا رہے ہوتے ہیں تب خاندان میں ہونے والی ہر قسم کی سرگرمی ان پہ حرام ہوتی ہیں۔پرائیویٹ اکیڈمیوں یا کالجز میں نوکری سے نکال دیے جانے یا تنخواہ کٹ جانے کا خوف انہیں چھٹی کرنے سے باز رکھتا ہے مگر جب یہی لوگ سرکاری کالج،یونیورسٹی میں آتے ہیں تو جی بھر کے سرکاری ملازم ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
آج اخبارات میں ملتان کی معروف یونیورسٹی کے اساتذہ کے کردار پر خبر شائع ہوئی ہے،جسے پڑھ کر دکھ ہوا،خبر میں یونیورسٹی کے مرد اساتذہ کی غیر ذمہ دارانہ اور لالچی سوچ کا احاطہ کیا گیا تھا، یونیورسٹی کے اساتذہ کو نہ اپنی ساکھ کا بھرم رکھنا آیا اور نہ ہی ملتان کی قدیمی درسگاہ کے وقار کو چرکہ لگانے پر شرم محسوس ہوئی۔ایک قاری نے ہم سے دریافت کیا کہ پرائیویٹ اکیڈمیوں میں پڑھانے والے مڈل سکول کے اساتذہ ہیں، یونیورسٹی کے لیکچرار یا پروفیسرز،کیونکہ انہیں اپنے وقار، مقام اور رتبے کا احساس کیوں نہیں۔؟ سچ تو یہ ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے اساتذہ نے اپنی کلاسز پڑھانے کی بجائے صبح کی اوقات میں ہی پرائیویٹ کالجز اور اکیڈمیوں میں حاضری دینا شروع کر رکھا ہے۔یہ عمل برسوں سے جاری ہے۔ خبر میں واضح طور لکھا ہے کہ سرکار سے تنخواہ پانے والے اور یونیورسٹی کا لیبل فروخت کرنے والے اساتذہ میں یاسراور ناصر عمران نے اپنی پرائیویٹ اکیڈمیوں میں طلباء کو پھانسنے کی طرف محنت جاری رکھی ہوئی ہے،اور محترم حماد بخاری نے چار پرائیویٹ کالجز میں پڑھانے کا بیانہ لے کر رکھا ہے، اور عدنان نامی ڈاکٹر صاحب نمل یونیورسٹی اور فیصل آباد کی یونیورسٹی میں پڑھانے نکل جاتے ہیں، اسی طرح ایمرسن یونیورسٹی کے ڈاکٹر شاہدراؤ، ڈاکٹر عبدالطیف، پروفیسر فدابلوچ اور شفیق احمد بھی ملتان کے پرائیویٹ اداروں میں پڑھانے کی تجارت میں مصروف عمل ہیں۔
ایمرسن یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے بتایا کہ ہمارے یہ اساتذہ، یونیورسٹی کی پہچان سے لاکھوں روپے ماہانہ کمانے میں اس قدر مصروف ہیں کہ انہیں اپنی درسگاہ میں جاری پروگرامز کے بارے ذرا بھی احساس نہیں،ایم ایس سی کا دو سالہ پروگرام تین سال پر محیط ہو چکا ہے، کئی کئی ماہ اساتذہ کلاسز کا رخ نہیں کرتے، اگر کوئی طالب علم اساتذہ کر پڑھانے کا کہے تو اسے ”سمسٹر میں ڈراپ“ کر دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔جس سے ہمارا ایک سال ضائع ہو چکاہے۔دیگر ہمعصر یونیورسٹیوں کے طالب علم اپنی دو سالہ ماسٹر کی ڈگری مکمل کر کے ملازمت کے مواقع تلاش کرنے میں مصروف ہیں،جب کہ ایمرسن کالج اب یونیورسٹی میں جاری ایم اے،اور ایم ایس سی کا سیشن 2018ء تین سالوں سے زائد دورانیہ پر محیط ہو چکا ہے،ہم اپنی شکایت کس سے کریں ! اساتذہ یا وائس چانسلر صاحب تو کسی طالب علم کی یہ شکایت سننے کو تیار ہی نہیں ہیں،ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک جیل ہے جہاں بولنا یا قانون،ضابطے کی بات کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایمرسن یونیورسٹی کے طالب علموں کو مطالبہ سامنے آیا ہے کہ اگرچانسلر اور وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر چوہدری نوید احمد اپنی ذمہ داری سمجھیں تو تاخیری حربے برتنے والے اساتذہ کا مواخذہ کرتے ہوئے ہمارا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچائیں۔
سرکاری اساتذہ کا چھٹیاں کرنا، دیر سے کالج یا یونیورسٹی آنا اور جلدی نکلنا، کلاسز میں جانے کی زحمت نہ کرنا، مختلف ذمہ داریوں سے پہلے تو انکار کرنا اور اگر ذمہ لے ہی لی ہے تو اسے پورا نہ کرنا، پرنسپل یا وائس چانسلر کی سرزنش پہ سربراہ ادارہ کے خلاف لابنگ کرنا جیسے مسائل کم وبیش ہر ادارے میں ہی موجود ہیں۔ ہمارے خیال میں اس برائی کی بنیادی وجہ تو ہماری اخلاقی تربیت ہے کہ جو ہمیں ایسا کچھ بھی کرنے پر شرمندہ نہیں کرتی۔یہ تربیت ان کے والدین نے کی نعمت ہے کہ ہم نے تمھاری تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں اب کما کر لاؤ۔ایک اور وجہ بے خوفی ہے۔ سرکاری یونیورسٹی یا کالج کے استاد کو معلوم ہے کہ جتنی مرضی چھٹیاں کر لے یا کلاسیں چھوڑتا رہے، زیادہ سے زیادہ اس کی سرزنش ہو گی اور بس۔ تنخواہ بھی چلتی رہے گی، انکریمنٹ بھی لگتے رہیں گے۔سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں احتساب کا عمل نہ ہونے کی وجہ سے آج پنجاب بھر میں پرائیویٹ اکیڈمیاں اور کالجز کی شان یہی سرکاری اساتذہ ہیں، پرائیویٹ کالجز اپنے اداروں کے باہر جلی حروف میں لکھواتے ہیں کہ اس کالج میں ”پڑھانے کے لیے سرکاری کالجز اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی خدمات لی گئی ہیں“اس سلوگن کی بنا پر پرائیویٹ کالجزنے تعلیم کے نام پر تجارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے، اس لوٹ مار کی تمام تر ذمہ داری سرکاری مرد اساتذہ پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ اس جرم میں خواتین اساتذہ کبھی بھی شامل نہیں ہوئیں،ہم اپنے دیس کی ایسی بیٹیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔