ملتان(صفدربخاری سے)  ڈاکٹر سید علی مہدی نے تحصیل شجاع آباد اور نواحی علاقے مٹوٹلی کے مختلف سرکاری صحت مراکز کا دورہ کرتے ہوئے طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی اور سٹاف کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکمہ صحت کے افسران، ایم ایس ٹی ایچ کیو شجاع آباد اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

ڈاکٹر سید علی مہدی نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شجاع آباد کا دورہ کرتے ہوئے میڈیکل ایمرجنسی، ڈائلسز یونٹ، ایکسرے یونٹ اور مختلف وارڈز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کر کے فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق دریافت کیا جبکہ ہسپتال میں ادویات کی دستیابی، صفائی اور علاج معالجے کے معیار کو بھی چیک کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت جاری کی کہ مریضوں کو بروقت، معیاری اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

بعد ازاں انہوں نے مریم نواز ہیلتھ سینٹر مٹوٹلی کا دورہ کیا جہاں سٹاف کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے ایمرجنسی وارڈ، ایکسرے روم، ڈینٹل یونٹ اور لیبارٹری سمیت مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور مریضوں و ان کے لواحقین سے علاج معالجے کے معیار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سید علی مہدی نے کہا کہ حکومت پنجاب عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں بہتر ماحول اور سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ادویات کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور علاج معالجے کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے جبکہ ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور دیگر ملازمین اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کریں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دورے کے دوران UNICEF کے تعاون سے اپ گریڈ کیے گئے ہیلتھ ہاؤس اور بی بی کیئر سینٹر کا بھی افتتاح کیا گیا۔ ڈاکٹر سید علی مہدی نے کہا کہ حکومت پنجاب ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ہاؤسز کی اپ گریڈیشن اور بی بی کیئر سینٹرز کا قیام ماں اور بچے کی بہتر نگہداشت اور صحت سے متعلق آگاہی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے لیڈی ہیلتھ سپروائزرز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہدایت کی کہ وہ گھر گھر جا کر حفاظتی ٹیکہ جات، متوازن غذا، دوران حمل احتیاطی تدابیر اور بروقت طبی معائنے سے متعلق آگاہی فراہم کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اور بچے صحت کی بہتر سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔