خراب میٹر، غلط بل اور ایک شہری کی جدوجہد
خراب میٹر، غلط بل اور ایک شہری کی جدوجہد
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان میں عام شہری کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانا کسی امتحان سے کم نہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ بجلی، گیس یا دیگر
بنیادی سہولیات سے متعلق ہو تو ایک صارف کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اکثر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ صارفین کو بغیر کسی واضح وجہ کے اضافی بل، بقایاجات یا ڈیٹیکشن یونٹس ڈال دیے جاتے ہیں، جبکہ شکایات کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ایسے ہی ایک معاملے نے حالیہ دنوں میں یہ سوال پھر زندہ کر دیا کہ کیا ایک عام شہری واقعی انصاف حاصل کر سکتا ہے؟
یہ معاملہ ایک ایسے شہری کا تھا جس کے بجلی کے میٹر کو خود متعلقہ ادارے نے خراب (Defective) قرار دیا، مگر حیرت انگیز طور پر میٹر تبدیل کرنے کے بجائے صارف کو اضافی بل بھیج دیے گئے۔ کبھی Detection Bill، کبھی Pro-Detection اور کبھی بقایاجات کے نام پر ہزاروں روپے صارف کے کھاتے میں ڈال دیے گئے۔ صارف مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ اگر میٹر خراب تھا تو پہلے قانون کے مطابق میٹر تبدیل کیا جاتا یا چیک میٹر لگا کر درست کھپت معلوم کی جاتی۔ لیکن اس کے برعکس اسے اوسط بنیادوں پر بل بھیجے جاتے رہے۔
اس سارے معاملے کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ صارف کی شکایات بار بار بغیر حل کیے بند کر دی گئیں۔ بعض شکایات کئی کئی مرتبہ دوبارہ کھولی گئیں، مگر مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہا۔ ایک شکایت تو چالیس مرتبہ ری اوپن ہونے کے باوجود حل نہ ہو سکی۔ یہ صورتحال صرف ایک صارف کی نہیں بلکہ ہمارے سرکاری نظام کے رویے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اکثر شکایت کو حل کرنے کے بجائے صرف “Resolved” ظاہر کرنا کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔
جب مقامی سطح پر شنوائی نہ ہوئی تو معاملہ وفاقی محتسب تک پہنچا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ایک عام شہری کی آواز کو پہلی بار سنجیدگی سے سنا گیا۔ سماعت کے دوران متعلقہ ادارے کے نمائندے سے سوالات کیے گئے کہ آخر اضافی یونٹس کس بنیاد پر ڈالے گئے؟ کیا کوئی M&T رپورٹ موجود ہے؟ کیا کوئی انسپکشن رپورٹ تیار کی گئی؟ کیا صارف کے لوڈ میں اضافے کا کوئی ثبوت موجود ہے؟
رپورٹ کے مطابق ادارے کا نمائندہ ان سوالات کے تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا۔ مزید یہ کہ ریکارڈ، HHU تصاویر اور کھپت کی تفصیل دیکھنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ صارف کو پہلے ہی اوسط بنیادوں پر بل کیا جا رہا تھا، اس کے باوجود Detection Bill عائد کیا گیا۔ آخرکار ادارے کے نمائندے نے خود تسلیم کیا کہ 285 یونٹس پر مشتمل Detection Bill واپس لیا جائے گا۔
یہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ایک اہم مثال ہے کہ اگر کوئی شہری اپنے حق کے لیے مستقل مزاجی سے کھڑا رہے تو سرکاری اداروں کو جواب دہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ وفاقی محتسب نے بدانتظامی (Maladministration) کو تسلیم کیا اور واضح کیا کہ مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہوئی۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر ایک صارف کو انصاف حاصل کرنے کے لیے مہینوں مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، متعدد شکایات درج کروانا پڑیں اور پھر وفاقی سطح تک جانا پڑے تو عام آدمی کا اعتماد اداروں پر کیسے قائم رہے گا؟ عوام کو صرف بل ادا کرنے والی مشین سمجھنے کے بجائے انہیں شہری اور صارف سمجھنا بھی ضروری ہے، جنہیں قانون کے مطابق شفاف اور منصفانہ سروس فراہم کرنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔
اس کیس میں ایک اور پہلو قابل غور ہے کہ میٹر بعد میں تبدیل بھی کر دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر میٹر واقعی خراب نہیں تھا تو پھر اسے تبدیل کیوں کیا گیا؟ اور اگر خراب تھا تو اس دوران صارف سے اضافی رقم کس قانون کے تحت وصول کی گئی؟ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس نے پورے کیس میں ادارے کی پوزیشن کو کمزور کیا۔
پاکستان میں بجلی کے صارفین اکثر Average Billing، Detection Units، غلط ریڈنگ اور بقایاجات جیسے مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ کئی لوگ لاعلمی یا خوف کی وجہ سے خاموشی سے اضافی بل ادا کر دیتے ہیں۔ جبکہ قانون واضح طور پر صارف کو حق دیتا ہے کہ وہ بلنگ کی تفصیل، میٹر ٹیسٹنگ رپورٹ اور مکمل حساب طلب کرے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں اپنے شکایتی نظام کو محض رسمی کارروائی کے بجائے حقیقی ریلیف کا ذریعہ بنائیں۔ اگر کسی صارف کی شکایت بار بار ری اوپن ہو رہی ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ مسئلہ واقعی موجود ہے۔ ایسے معاملات میں فوری انکوائری اور شفاف کارروائی ہونی چاہیے۔
وفاقی محتسب جیسے ادارے عام شہری کے لیے امید کی ایک کرن ہیں، لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب لوگوں کو انصاف کے لیے اتنا طویل سفر طے نہ کرنا پڑے۔ اداروں کو خود احتسابی، شفافیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
یہ کیس ایک پیغام ہے کہ ایک عام شہری بھی اگر حقائق اور صبر کے ساتھ اپنے حق کی آواز بلند کرے تو طاقتور اداروں کو بھی جواب دینا پڑتا ہے۔








































Visit Today : 446
Visit Yesterday : 613
This Month : 7052
This Year : 70771
Total Visit : 175759
Hits Today : 3809
Total Hits : 995887
Who's Online : 14





















