ملتان:  مریم نواز سرائیکی وسیب سیکریٹریٹ کو ختم کرنے اور سرائیکی وسیب کے چھتیس فیصد بجٹ کٹوتی کرنے کی کوشش کرتی ہے تو پیپلز پارٹی وفاق اور صوبے میں حکومتی اتحاد سے فوری الگ ہو جائے۔سرائیکستان نوجوان تحریک کے چیئرمین مہر مظہر عباس کات نے مرکزی راہنماؤں چوہدری ندیم سہو،مخدوم سید ذیشان حیدر شاہ ،رانا نعیم ،سبطین خان لنگاہ،قاسم خان خاکوانی و دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز سرائیکی وسیب کے وسائل ہڑپ کرنا چاہتی ہے اس کے نزدیک صوبہ صرف لاہور ہے۔سرائیکی راہنماؤں نے کہا کہ ہم مریم نواز کو اپنا وزیر اعلیٰ نہیں مانتے کیونکہ یہ وسیب دشمن ہے اور ہمارے وسیب کا سیکریٹریٹ ختم کر کے وسیب کے تمام وسائل لوٹنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب کا بجٹ چھتیس فیصد سالانہ ہے جو پچاس فیصد ہونا چاہیے مگر مریم نواز چھتیس فیصد سے بھی کم کرنا چاہتی ہے۔سرائیکی راہنماؤں نے کہا کہ اگر مریم نواز نے سرائیکی وسیب کے چھتیس فیصد بجٹ میں کٹوتی کی تو پھر سارے سرائیکی وسیب کا پیپلز پارٹی کی قیادت سے بھر پور مطالبہ ہو گا کہ پیپلز پارٹی وفاق اور صوبے میں حکومتی اتحاد سے فوری الگ ہو جائے۔مہر مظہر عباس کات نے کہا کہ ہمیں مریم نواز کے دورے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ہم اسے وزیر اعلیٰ نہیں مانتے یہ جعلی وزیر اعلیٰ ہے۔انہوں نے کہا سرائیکی صوبہ کی اسمبلی میں مسلسل آواز بلند کرنے پر ہم سید علی حیدر گیلانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ہم ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملکی بقاء کے لیے ہمارا سرائیکی صوبہ بنا کر سید علی حیدر گیلانی کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب تک سرائیکی صوبہ نہیں بنتا تب تک سرائیکی وسیب کا سارا انتظام سید علی حیدر گیلانی کو دیا جائے تاکہ ہمارے وسیب کے مسائل حل ہوں۔مہر مظہر عباس کات نے کہا کہ مریم نواز کی وسیب دشمنی سے لگ رہا ہے کہ ہمیں اب مریم نواز کے خلاف پورے ملک میں فیصلہ کن تحریک چلانی پڑے گی