جلجامش کی داستان
جلجامش کی داستان
مسیح اللہ خان جامپوری
ابن حنیف کی تصنیف ہے لیکن نامکمل ۔ آگے کہانی اس طرح چلتی ہے ۔ جلجامش تھک ہار کر پانی کی تلاش میں بیوی کو ساتھ لے کر پہاڑی راہ گزر پر چل پڑا ۔ دیکھا جنگلی جانور ایک جانب چلے جا رہے ہیں۔ وہ قدرے ٹھہرا لیکن ان کے پیچھے چل پڑا ، دیکھا پرندے فضا میں اُڑ رہے ہیں اور اسے شور سنائی دیا یہ کسی چشمے کا شور تھا ۔ وہ اس شور کی سمت بیوی کو ساتھ لئے چل پڑا آگے دیکھا جانور وہاں جمع ہیں ۔ پانی پی رہے ہیں ، یہ بھی بہتے پانی کے قریب پہنچا ۔ جانوروں نے سر اُٹھا کر اُسے دیکھا اور پانی پینے میں مگن ہو گئے ۔ پانی پیتے دیکھ کر جلجامش نے استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ،میںاپنی لاٹھی کے سہارے بیوی کا ہاتھ تھامے آگے بڑھا ، چشمہ نے آگے ندی کی شکل اختیار کر لی تھی ۔ وہ ایک کنارے پر بیٹھ گیا ۔ دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنا کر پانی پیا، اسے دیکھ کر اس کی بیوی نے بھی پانی پیا ۔ دونوں نے خود میں توانائی محسوس کی ، دونوں تھک چکے تھے ۔ پیچھے مُڑ ے ایک دیوقامت درخت کے نیچے پتھروں کا سہارا لے کر بیٹھ گئے اور انہیں اونگھ نے آ لیا ۔ جب جلجامش کی آنکھ کھلی تو دیکھا اس کی بیوی نہیں ہے ۔ اس کی گٹھڑی پڑی ہے ۔ سورج ڈھل رہا تھا ۔ وہ پریشان ہوا ، آوازیں دیں ، لیکن کوئی جواب نہ آیا ۔ سوچا کسی جنگلی جانور کی خوراک بن گئی ہے ۔ اور اس نے محسوس کیا کہ جو پانی پیا ہے یہی تو آب حیات ہے کیونکہ پانی پینے کے بعد اس کی بھوک جاتی رہی ۔ وہ ڈھلتے سورج کی روشنی میں بیوی کی گٹھڑی اُٹھا کر اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔وہ پہاڑ کی پگڈنڈیوں پر چلتا رہا ۔ اسے بیوی کا کوئی پتہ نہیں چلا ۔ اندھیرا ہو چکا تھا وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا اورپھر پتھر پر سر رکھ کرلیٹا رہا ۔ سوچتا رہا ، تین چار سال پہلے طوفان آیا تھا اس سے یہ پہاڑ زیر آب آ گئے تھے وہ طوفان نوح کہلایا تھا ۔ آسمان پر گہرے بادل چھا رہے ہیں ، یہ دیکھتے ہی دیکھے موسلادھار بارش نے آ لیا اور پانی سطح سے اوپر اُٹھنے لگا ۔ سوچنے لگا یہ تو طوفان ہے ۔
جلجامش تیز بارش کے باعث درخت پر چڑھ گیا ، بیوی کی گٹھڑی بھی درخت سے باندھ دی ، پرندے اُڑنے لگے ، اگلے روز دیکھا کہ درخت بھی ڈوب رہے ہیں ، وہ اس امید پر رہا ابھی بارش رُکتی ہے ،ابھی رکتی ہے۔ لیکن بارش تو تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی ۔ وہ بیوی کو بھول گیا اسے اپنی جان جانے کے لالے پڑ گئے ، اس نے جب یہ منظر دیکھا کہ میدانی علاقے کے جانور پانی میں بہہ رہے ہیں ، مرد بہہ رہے ہیں اور کئی انسانوں کی لاشیں بھی بہتی آ رہی ہیں ۔ وہ درخت کی اونچی ٹہنی پر جا پہنچا ۔ لیکن سب ڈوب گئے ، بھوک ستا رہی تھی کئی دن سے کچھ نہیں کھایا تھا ، پہلے تو جنگلی پھل کھاتا رہا ، جب درخت بھی ڈوب گئے تو وہ بھی ڈوبنے والا تھا اس نے چھلانگ لگا کر اس آبی اونچے درخت کی ٹہنی پکڑ لی ، اس پر چڑھ گیا اس طرح کئی ہفتے بیت گئے ۔ بارش مسلسل جاری تھی ۔ ایک روز نڈھال ہو کر نیچے پانی میں جا گرا اور ڈوب گیا ۔ تین برس مسلسل بارش میں پہاڑی اونچے اونچے درخت ڈوب چکے تھے پانی میں بہتے سانپ بھی ہلاک ہو رہے تھے۔
کئی صدیوں بعد تاریخ دانوں نے جلجامش کا کھوج لگایا ، تحقیق کی تو ایک نئی دنیا کی کہانی سامنے آئی ۔پتہ ایہ چلا کہ برسوں پہلے کا یہ طوفان قریبی سیارے مریخ میں ایٹمی جنگ ہونے کے باعث سیارے کا سارا پانی جمع ہو کر بخارات بن گیا اور کرہ ارض پر بارش کی صورت میں برس پڑا ، اس طوفان کی پیشین گوئی اس وقت کے پیغمبر نوح علیہ السلام نے کی تھی ۔ انہوں نے کشتی بنائی تھی اس میں ہر قسم کے جاندار سوار کئے تھے وہ کشی پانی میں بہتی رہی ۔ صرف وہی لوگ اور جان دار بچے جو کشتی میں سوار تھے ۔ وہی جانور سلامت رہے جو کشتی کے ہمسفر تھے کئی ارب برسوں کے بعد انسان زمین پر سلامت رہے ، ترقی کی ، تحقیق ہوئی اور مریخ پر پہنچا تو پتہ چلا وہاں ایٹمی جنگ ہوئی تھی ، اس کے شواہد انسا ن کو وہاں ملے وہاں پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔1999ء میں روس میں ایک بچہ پیدا ہوا اس کا نام بورس تھا ۔اس نے دعویٰ کیا وہ مریخ سے یہاں آیا ہے وہاں ایٹمی جنگ نے زندگی کا خاتمہ کر دیا ، وہ ترقی یافتہ تہذیب تھی وہاں کے لوگ اتنے ترقی یافتہ تھے کہ ایک سیارے سے دوسرے سیارے کا سفر کرتے تھے ۔ خیال کی رفتار سے سفر کے عمل پر قابو پالیا۔ سادہ خیال کی رفتار سے سفر کرتے تھے ۔ پتہ چلا نوح علیہ السلام کے طوفان مریخ پر ایٹمی جنگ کی وجہ سے آیا تھا ۔ مریخ کا سارا پانی زمین پڑا تھا۔جس کی نذر جلجامش ہو گیا۔







































Visit Today : 175
Visit Yesterday : 579
This Month : 4621
This Year : 68340
Total Visit : 173328
Hits Today : 6446
Total Hits : 944250
Who's Online : 8





















