وفاق اور پنجاب حکومت کی گندم خریداری پالیسی 2024ء،،،زراعت اورکاشتکاروں کے لئےنقصان دہ ثابت ہوئی: راؤ محمد ظفر
ملتان (صفدربخاری سے) امیر صوبہ جماعت اسلامی جنوبی پنجاب راؤ محمد ظفر نے کہا ہے کہ وفاق اور پنجاب حکومت کی گندم خریداری پالیسی 2024ءزراعت اورکاشتکاروں کے لئےنقصان دہ ثابت ہوئی، کسانوں کو رواں سال ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے،کوئی پُرسان حال نہ ہے،نگران حکومت کا بغیر منصوبہ بندی گندم درآمد کرنا درست فیصلہ نہیں تھا، جس سے قیمتی زر مبادلہ ضائع ہوا،اس اقدام سے کاشت کار پس کررہ گیا، کسان بے چارہ اپنی محنت سے تیار شدہ گندم کو سنبھالے یا اپنا حق لینے کے لئے احتجاج کرے، ایسی پالیسیوں سےملک کی فوڈ سکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، کسان کی قیمت لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت 5000روپے فی من مقرر کی جانی چاہئے تھی ،حکومت3900 روپے مقرر کی جس پر پورے صوبے میں عمل درآمد نہیں ہوابلکہ دوسر ے صوبوں کو بھی گندم خریدنے سے روک دیا، جو کسان دشمنی کا واضح ثبوت ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ غریب کو سستی روٹی کی فراہمی کا بہانہ بنا کر اب کسان کو لوٹا جا رہا ہے اور کسان سے سستے داموں گندم خریدنے کے بعد گندم مہنگی کر کے غربت نہیں غریب مکاؤ مہم کا آغاز ہو گا،درپیش مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ کاشت کاروں سےمتعلق پالیساں بنانے سے قبل کسانوں کو مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے ، امیر صوبہ نے امرائے اضلاع کو ہدایت کی کہ گاؤں اور چکوک کی سطح پر کسان کمیٹیاں قائم کی جائیں ،جماعت اسلامی کے مقامی ،زونل ، تحصیلی اور ضلعی دفاتر پر “حق دو کسان ” کے بینرز لگائے جائیں، تحصیل سطح پر کیمپ لگا کر کسانوں سے گندم کے کوائف جمع کئے جائیں،تاکہ حکومت کے اعلان کردہ 400 ارب روپے حق داروں تک پہنچانے کے لئے آواز بلند کی جاسکے ،ہر سطح پر سوشل میڈیا کے ذریعے اس کام کی تشہیر کی جائےتاکہ گندم امپورٹ سیکنڈل کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جاسکے ۔




































Visit Today : 144
Visit Yesterday : 541
This Month : 14908
This Year : 62744
Total Visit : 167732
Hits Today : 316
Total Hits : 862499
Who's Online : 3





















