ملتان(صفدربخاری سے) جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کی سیاست پر جاگیرداری کا قبضہ ہے ہماری شرعی سیاست ہے جاگیردار کرسی کے لیے لڑتے ہیں اور ہم اسلام کو اقتدار تک پہنچانا چاہتے ہیں امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے اور ان کی نظر میں حماس بھی دہشت گرد تنظیم ہے میں نے اسرائیل کے خلاف کھل کر فلسطینیوں کی حمایت کی جنہوں نے 300 سال انگریزوں کی غلامی کی وہ ہمیں ازادی کا بتاتے ہیں سیاست چالاکی کے ساتھ اقتدار تک پہنچنے کا نام نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے  مدرسہ جامعہ قاسم العلوم گلگشت کالونی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ سیاست کو دھوکے کے ساتھ متعارف کرایا گیا یہ مفادات کی سیاست ہے اج ہر امیدوار اسمبلی کا ممبر بننا چاہتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے لوگ مطمئن نہیں ہیں اج امن و امان کے قیام کے لیے میں در در پھر رہا ہوں دوسری جانب معیشت کو منصوبے کے تحت گرایا گیا ان حالات میں ملک ترقی نہیں کر سکتا صرف ایک فتنے نے ملک کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا کوئی سیاسی جماعت سوچ سمجھ کر ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی جب فتنہ تھا تو کہتا تھا کہ ملک معاشی طور پر نیچے جا رہا ہے غلام ابن غلام ہمیں ازادی سکھا رہے ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے افغانستان کے ساتھ ہمارے حالات خراب ہوئے افغانستان کے عقوبت خانے اج بھی امریکی مظالم کی گواہی دے رہے ہیں ہم نے امارات اسلامیہ کے لیے کبھی موقف تبدیل نہیں کیا بلکہ جے یو ائی نے امارات اسلامیہ کی حمایت کی تھی انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے ان کی نظر میں حماس بھی دہشت گرد تنظیم ہے اسرائیل حماس سے نہیں لڑ سکتا میں نے اسرائیل کے خلاف کھل کر فلسطینیوں کی حمایت کی انڈیا نے کشمیریوں کا خون بہایا مگر کشمیر اس کے حوالے کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ مدرسہ ملک کا نظام سکھاتا ہے ہم دینی اور عصری علوم کے قائل ہیں یہ نظریہ ہمیں اپنے اکابر سے ملا اور میں اسلامی نظام حکومت کی بات کرتا ہوں بندوق کی سیاست ہمارے اکابر کا طریقہ نہیں رہا انہوں نے کہا کہ اٸین نے واضح کیا کہ ہر قانون سازی قران و سنت کے مطابق ہوگی ہمیں قران و سنت سے رجوع کرنا چاہیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل نہیں ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ووٹ کے لیے عوام کی خدمت کی باتیں کی جاتی ہیں اور وڈیرے ووٹ کے لیے ظلم کرتے ہیں لیکن کسی کے سامنے ہماری گردن نہیں جھکے گی اور ہم ناموافق حالات میں بھی کام کر رہے ہیں انتظامیہ جے یو ائی کے کسی کارکن کو دھمکانے کی کوشش نہ کرے۔