ملتان (صفدربخاری سے) مرکزی سینئر وائس چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی (سینیٹر و امیدوار این۔اے 148) نے ڈویژنل جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی ملتان و سابق ممبر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر جاوید صدیقی کی رھائشگاہ پر (نزد خونی برج چوک) اپنے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار این۔اے 150 رانا محمود الحسن، امیدوار پی۔پی 217 ملک رضوان عابد تھہیم کے اعزاز میں منعقد کی گئی صبحانہ کی تقریب کے موقع پر میڈیا ٹاک کرتے ھوئے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ملتان قاسم پور کالونی گراؤنڈ کا جلسہ پیپلز پارٹی کیلئے باعث تقویت ھوگا اور چیئرمین بلاول بھٹو زردای 26 جنوری بروز جمعہ ایک بجے دن ملتان قاسم پور کالونی ٹیکنالوجی کالج گراؤنڈ میں جلسہ سے خطاب کرتے ھوئے پارٹی منشور پیش کریں گے اور اپنے 10 نکاتی ایجنڈے سے عوام کو آگاہ کریں گے جبکہ عوامی اور جمہوری جدوجہد میں جتنی قربانیاں پاکستان پیپلز پارٹی نے دی ہیں اتنی قربانیاں کسی سیاسی جماعت نے نہیں دیں بلکہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے جہاں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا قید و بند و جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں تو پیپلز پارٹی کی کارکنوں نے بھی خودسوزیاں کیں، کوڑے کھائے، قید وبند کی صوبتوں سمیت کتنے کارکنوں نے جام شہادت نوش کیا لیکن جمہوریت کے استحکام کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جبکہ آج پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہونا بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ایٹمی پروگرام اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے میزائل ٹیکنالوجی پروگرامز کی مرہون منت ھے، آج کوئی بھی دشمن طاقت پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی، سید یوسف رضا گیلانی نے صحافی کے سوال کا جواب دیتے ھوئے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب علیحدہ صوبے کا قیام پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور ھم نے اپنے دور اقتدار میں علیحدہ صوبہ کے قیام کی قرارداد نہ صرف پیش کی بلکہ قرارداد کو دونوں ایوان بالا سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور بھی کروایا لیکن بدقسمتی سے پنجاب کی صوبائی حکومت کا ساتھ نہ دینے سے علیحدہ صوبہ کا قیام ممکن نہ ہوسکا اگر پنجاب کی صوبائی حکومت ھمارا ساتھ دیتی تو علیحدہ صوبہ کب کا بن چکا ھوتا، انہوں نے مزید کہا آج سے اندرون شہر سے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواران کی کمپین کا آغاز کر دیا ھے اور پیپلز پارٹی اور الائیڈونگز کے تمام عہدیداران و کارکنان اور تمام معززین علاقہ سمیت سیاسی و سماجی رہنما امیدوار این۔اے 150 رانا محمود الحسن اور امیدوار پی۔پی 217 رضوان عابد تھہیم کی کامیابی گلی، گلی اور گھر گھر جاکر یقینی بنائیں اور 8 فروری کو زیادہ سے زیادہ ووٹرز کو باہر نکال کر ووٹ کاسٹ کروائیں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا عوامی منشور گھر گھر پہنچائیں جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خیبرپختونخواہ، بلوچستان، سندھ، اپر پنجاب سمیت جنوبی پنجاب کے شہروں میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ھوئے اپنا 10 نکاتی عوامی ایجنڈا عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور ملک بھر میں چیئرمین بلاول بھٹو کو بھرپور عوامی پذیرائی مل رہی ہے اور عوام کی تمام تر امیدیں چیئرمین بلاول بھٹو سے وابستہ ھوچکی ہیں، اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار این۔اے 150 اور امیدوار رضوان عابد تھہیم نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر قیادت خطہ کی تمام محرومیوں کے ازالے کیلئے اور علیحدہ صوبہ کے قیام کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور تخت لاہور کی مزید غلامی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے جبکہ جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی اور عوامی خوشحالی کیلئے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی عوامی خدمات کی داستان بھری پڑی ہے اور آئیندہ بھی سید یوسف رضا گیلانی کے شانہ بشانہ عوامی مسائل کے حل کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے جبکہ خطہ جنوبی پنجاب کے تمام مسائل کا حل علیحدہ صوبہ کے قیام کے بغیر ممکن نہیں، اس موقع پر سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، ڈوژنل صدر خالد حنیف لودھی، سٹی صدر ملک نسیم لابر، ضلعی جنرل سیکرٹری راؤساجد علی، سٹی جنرل سیکرٹری اے۔ڈی بلوچ، سابق ناظم عارف خان، سابق ناظم حاجی مشتاق انصاری، سابق چیئرمین رانا نعیم، میاں اخلاق قریشی سابق نائب ناظم، صدر پیپلز پارٹی صوبائی حلقہ 217 حاجی مظہر نواز، سابق کونسلر ملک عابد تھہیم، پیپلز پارٹی میں اپنی جماعت تحریک انصاف (حقیقی) کو ضم کرنے والے مرکزی چیئرمین راؤ یاسر، منظور قادری، میر احمد کامران مگسی، چوھدری یاسین، رئیس الدین قریشی، ساجد خان بلوچ، سابقہ کونسلرز کامران بھٹہ، محمد زاھد، سابق کونسلر حشمت بصیر صدیقی، شفقت خان بابر، سید شوکت گیلانی، سابق وائس چیئرمین فرحان ظفر گیلانی، ملک امداد، سماجی رہنما شاھد محمود انصاری، تاجر رہنما عاشق بلوچ، صدیق تھہیم، حاجی شہوار حسین، حاجی اکرم انصاری، منور خورشید صدیقی، ھاشم خان بابر، اکمل خان بادوزئی، راضیہ رفیق، شگفتہ حبیب، سحرش خان، شفیق روہیلا، ملک عمران جاوید سمرا، ملک فیاض کمبوہ، قدیرالحسن کھوکھر، زاھد محمود صدیقی، فرحان زیدی، سید عالم زیدی، سلیم طفیل قریشی، خالد تھہیم، رانا محمد علی ممی سمیت ضیاَ انصاری، عمران انصاری ایڈووکٹ، طارق خان ایڈووکیٹ، سید ریاض گیلانی، حسنین خان، طفیل انصاری، معراج دین انصاری، چوھدری نذیر یوسف، وقار انصاری، امانت علی انصاری، ملک ریاض بھٹہ، ملک علی ملانہ، شعیب نواز بلوچ، قاری محبوب بھٹہ، قاری خضر عباس، سلطان خان، ناظم خان بابر، خواجہ نادر صدیقی، تنویراعوان، نوشاد صدیقی، اعجاز راجپوت، ریحان قریشی، منصب بیگم، روبینہ شاھین، محمد علی انصاری، انعام باری، عاشق علی انصاری، ندیم انصاری، روشن صدیقی، عمر حفیظ خان، صدیق خان ادوزئی و دیگر معززین حلقہ سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنما اور مختلف برادریوں کے نمائیندوں نے شرکت کی۔