ملتان (صفدربخاری سے)  متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پنجاب کے صدر عابد گجر،صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب کرامت علی شیخ نے کہا ہے کہ ملتان میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے دفتر کا گزشتہ 25 سالوں سے دفتر کا نام تو موجود ہے لیکن نام و نہاد سیکریٹریٹ کی طرح پی ا ی سی کا کوئی کردار نہیں جس کی وجہ سے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والی بزنس کمیونٹی کنٹریکٹرز کو سی 6 اور سی 5 لائسنس کی تجدید کے لیے کوئی سہولت نہیں جس کی وجہ سے ملتان کے کنٹریکٹرز کو کو سی 6 اور سی 5 لائسنس کی تجدید کے لیے لاہور اور اسلام آباد جانا پڑتا ہے اور ایجنٹوں کے ہاتھوں لاکھوں روپے خرچ ہوجاتے ہیں لیکن افسوس کہ بارہا احتجاج اور شکایات کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا جا رہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا جس میں سینئر نائب صدر کاشف بخاری،شاہین گیلانی صدر سنٹرل پنجاب سوشل فورم ،صدر پنجاب منیر بھائی ،اراکین پنجاب کمیٹی زاہد بھائی ،مرزا سعید بھائی،مسز منیر بھی موجود تھے انہوں نے مزید کہا کہ ملتان سمیت ساؤتھ پنجاب گزشتہ 75 سالوں سے انتہائی محرومیوں کا شکار ہے لیکن محرومیوں کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا جا رہا ہے اسی لیے ملتان میں پی ای سی کو لاہور اور اسلام آباد کی طرز پر مکمل طور پر فعال کیا جائے اور سی C – 6 اور C – 5 لائسنس کی تجدید کے لیے اختیارات دئیے جائیں اور اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان PEC کے چیئرمین بورڈ کے اراکین سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کریں تاکہ کنٹریکٹرز میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو انہوں نے کہا کہ اجارہ داری کی وجہ سے کنٹریکٹرز سمیت دیگر شعبہ ہائے سے وابستہ افراد شدید پریشانی سے دوچار ہیں جنہیں معمولی معمولی کاموں کے لیے لاہور جانا پڑتا ہے ایم کیو ایم پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ ملتان میں پی ،PEC پاکستان انجینئرنگ کونسل ملتان کو حقیقی معنوں میں فعال کیا جائے تاکہ اس خطہ کے رہنے والے کنٹریکٹرز کے مسائل یہیں حل ہو سکیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عملی تبدیلی کی ضرورت ہے اگر ہمیں اداروں کو بہتر کرنا ہے تو ان کو اختیارات دینا ہوں گے تاکہ ملک حقیقی معنوں میں گامزن ہو سکے۔