ملتان: سرائیکستان نوجوان تحریک کے وفد نے چیئرمین مہر مظہر عباس کات کی قیادت میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی وفد میں ضلعی صدر ملک سلیم عباس بوسن۔چوہدری جہانگیر آرائیں۔عاشق خان بلوچ ۔مہر ظفر اقبال ہراج شامل تھے ۔ملاقات میں الگ سرائیکی صوبہ اور وسیب کے مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔سید یوسف رضا گیلانی نے ایس این ٹی کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی موقع ملا میری پہلی کوشش یہی ہو گی کہ میں سرائیکی صوبہ بنواؤں کیونکہ مجھے علم ھے کہ ہمارے وسیب کے نوجوانوں اور ہر شخص کے مسائل کا حل صرف الگ صوبہ کے قیام میں ہے ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپنے دور میں سرائیکی صوبہ کے لیے عملی جدوجہد کی اور اسمبلی اجلاس میں بطور وزیراعظم کھل کر سرائیکی صوبہ کے لیے آواز بلند کی جس کی سزا مجھے وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر دی گی مگر میں پھر بھی الگ صوبہ کے مطالبہ اور جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹا۔انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے علی موسیٰ گیلانی نے حلف اٹھانے کے بعد پہلی تقریر میں ہی علیحدہ صوبہ کی بھرپور آواز اٹھائی ھے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ سرائیکی صوبہ پیپلز پارٹی ہی بنائے گی باقی سب وسیب کے لوگوں کو صرف لولی پاپ ہی دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سو دن کا وعدہ پورا نہ کر کے وسیب سے دھوکہ کیا اور شاہ محمود قریشی نے سرائیکی وسیب کو دو حصوں میں تقسیم کر کے صوبہ بنانے کی بجائے الٹا نقصان پہنچایا۔سید یوسف رضا گیلانی نے سید علی موسیٰ گیلانی کی بھرپور سپورٹ کرنے پر سرائیکستان نوجوان تحریک کے راہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مظہر عباس کات کی قیادت میں وسیب کے نوجوان علیحدہ صوبہ بنوانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے اس موقع پر چیئرمین ایس این ٹی مہر مظہر عباس کات نے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے سابق دور میں وسیب کے لیے خدمات اور ان کے بیٹوں سید علی حیدر گیلانی اور سید علی موسیٰ گیلانی کی اسمبلی میں وسیب کی آواز بننے پر خراج تحسین پیش کیا ۔مہر مظہر کات نے سید یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ جب تک سرائیکی صوبہ نہیں بنتا اس وقت تک تمام وفاقی اور صوبائی نوکریوں میں سرائیکی وسیب کا کوٹہ لگ کیا جائے اور وسیب کے تمام وسائل سرائیکی خطے پر خرچ کیے جائیں تاکہ یہاں کے لوگوں کی مشکلات کم ہو سکیں اور اس کے لیے اسمبلی فلور پر بات کی جائے تو سابق وزیر اعظم نے مہر مظہر کات کو یقین دلایا کہ جہاں تک ہو سکا ھم وسیب کے لیے ہر جگہ ہر فورم پر بات کریں گے