ایسی ہوا چلی کہ مکاں تک نہیں رہے
ایسی ہوا چلی کہ مکاں تک نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بستی میں زندگی کے نشان تک نہیں رہے
انسان کی سوچ اور ارادے نہ جانے کیا کچھ ہوتے ہیں اور مالک تقدیر پل بھر میں کیا سے کیا کچھ نہیں کر دیتا
تحریر.. سائرہ ارم
ایک بزرگ کا قول ہے جیسے اعمال تمہارے اوپر جائیں گے ویسے ہی فیصلے تمہارے لئے کئے جائیں گے اگر اچھے اعمال اوپر بھیجو گے تو اللہ پاک برکات کا نزول فرماتے رہیں گے اور اعمال درست نہ ہوئے تو پھر مصائب اور آفات کا تمہیں سامنا کرنا پڑے گا
پاکستان میں بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے
ٹیلی وژن پر بس ایک ہی منظر ہے اور وہ ہے پانی، پانی اور بس پانی… قصبے ، گاؤں شہر سب کے سب پانی کی زد میں ہیں. پتا نہیں ہمارے ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ ایک مسئلہ ابھی پوری طرح حل نہیں ہوتا اور ایک نیا بکھیڑا سر اٹھا لیتا ہے ابھی کرونا سے تھوڑی سی معافی ملی تھی کہ مہنگائی نے آن دبوچا اور اب یہ سیلاب، خدا جانے ابھی اس کے اثرات کب تک رہتے ہیں
پاکستان میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے سب کو بے چین کر کے رکھ دیا ہے. سیلابی ریلے ہر طرف تباہی کی داستان چھوڑ رہے ہیں پورا پاکستان ان دنوں سیلاب سے شدید متاثر ہے
ملک میں سیلاب آیا اور سب کچھ بہا کر لے گیا، سائباں اجڑ گئے یا ملبے کا ڈھیر بن گئے، کئی لوگ بےگھر ہوگئے تو کسی کی عمر بھر کی جمع پونجی بہہ گئی کھانے کو روٹی ہے نہ ہی دو گھونٹ صاف پانی میسر ہے، ماؤں کے بچے بھوک سے نڈھال ہیں، ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں، سر چھپانے کے لیے چھت نہیں ہے
طوفانی بارشوں اور سیلاب نے پاکستان میں کراچی سے لیکر گلگت بلتستان تک ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے ساتھ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں. کئی مکان مٹی کا ڈھیر بن گئے، زندگی بھر کی جمع پونجی مٹی تلے دب گئی، باغات ڈوب گئے ہیں
سیلاب کے باعث جنوبی پنجاب کا ڈیرہ غازی ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اطلاعات کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی تاریخ میں ایسا ہولناک سیلاب آج تک نہیں آیا اِس سیلاب نے تو بڑی بڑی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے اور اُن کو ایسا بنا دیا ہے کہ جیسے یہ بستیاں کبھی انسانوں کا مسکن ہی نہیں تھیں اور جیسے یہاں کوئی آیا ہی نہیں تھا. جنوبی پنجاب کے علاقے راجن پور میں کئی علاقے زیرِ آب ہیں جب کہ ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں
مقامی انتظامیہ کے مطابق بلوچستان میں سیلاب کی وجہ سے زیارت، پشین اور مستونگ کے علاقوں میں کئی آبادیاں ڈوب گئی ہیں، واشک، خضدار اور بولان میں بجلی کے مین ٹاور گرنے سے علاقوں میں بجلی بند ہو گئی اور موبائل فون سروس کے ساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے
سندھ اور خیبر پختونخوا کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے سیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونے کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بہہ گئیں اور متاثرہ علاقوں تک تاحال زمینی رسائی ممکن نہیں ہوئی،
خاتون سیاح کا کہنا ہے کہ کئی افراد گزشتہ روز سے پہاڑی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں رابطہ پل بہہ جانے کی وجہ سے دریا پار نہیں کر سکتے، ہمیں کچھ نہیں معلوم کہ ہمارا کیا بنے گا. صورتحال بہت گمبھیر ہوتی جارہی ہے
دیہی علاقوں سے بڑے شہروں کو جانے والے پھلوں اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی ہے جس کی وجہ سے زمینداروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے
یہ برِصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب بن گیا ہے
سوشل میڈیا پر ایسے ایسے مناظر شئیر کیے جارہے ہیں کہ ہر ہر منظر کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے
اللّہ کبھی سیلاب نہ دکھائے نہ کسی غریب کی کل متاع اپنی ساری جمع پونجی اچانک سب کُچھ سیلاب میں بہہ جائے اور غریب آدمی اپنے کُنبے کو بچاتے بچاتے اپنا سارا مال مویشی اپنی آنکھوں کے سامنے بہتا ہوا دیکھے اور کُھلے آسمان تلے اپنے کُنبے سمیت کھانے پینے سے بھی محروم ہو کر وقت کے حکمران کی طرف دیکھے کہ شاید کسی خدا ترس کو رحم آئے اور وہ کھانے پینے کے لیے کچھ بھیجے جس سے وہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکے اس سیلاب نے تو ایسی ہزاروں درد ناک کہانیوں کو جنم دیا ہے آپ کسی بھی سیلاب زدہ علاقے میں چلے جائیں زندگی درد کی تصویر بنی دکھائی دیتی ہے
سوشل میڈیا پر تواتر سے شئیر کی جانے والی سیلاب زدگان کی ویڈیوز نے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایسی دردناک تصاویر شئیر کی جارہی ہیں جن کو دیکھ کر دل بھر آتا ہے میں نے دیکھا ایک جگہ ایک بوڑھا باپ جو اپنے بیٹے کی نعش کاندھے پر نہیں اٹھا سکتا تھا اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹ کے لے جا رہا ہے، راجن پور کی ایک ماں کو بین کرتے دیکھا جس کے دو جوان بیٹے سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے اس بدقسمت شخص کی لاش مجھے نہیں بھولتی جس کے صرف دو ہاتھ سیلابی کیچڑ سے باہر ہیں باقی وہ زندہ دفن ہو چکا ہے ایسے لوگ بھی بے شمار ہیں جو اپنے گھروں کی بربادی پر دھاڑیں مار کے رو رہے ہیں، ان لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اپنے مردہ بھائیوں کے پاس بیٹھے نوحہ خوانی کر رہے ہیں
بہت زیادہ تکلیف دہ مناظر دیکھنے کو ملے ہیں
سیلاب کی تباہ کاریوں سے زندہ بچ جانے والے لوگ
انتہائی مشکل حالات میں ہیں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زندگیاں بھی بچارہے ہیں اور محفوظ مقامات کی جانب سفر پر آمادہ ہیں
یہ ضروری ہے کہ سیلابوں اوردوسری قدرتی آفات کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جائے اگر ایک بڑا ڈیم سیلابوں سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے تو اس بارے منصوبہ بندی کرنی چاہیے محکمہ موسمیات کو جدید بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسموں کے حوالے سے قبل از وقت ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کر سکے اور اگر شدید بارشوں کی پیش گوئی ہو تو جن علاقوں میں سیلاب آنے کا خطرہ ہو وہاں سے لوگوں اور ان کے مال مویشیوں کو نکالنے کے لئے بروقت کام ہونا چاہئے ان کے ڈوب جانے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے
جو خوش نصیب حالیہ سیلاب سے متاثر نہیں ہوا‘ اس کے نزدیک شاید سارا معاملہ ایک جملے میں سمٹ جائے کہ ”سیلاب آیا اور چلا گیا‘‘ لیکن جو لوگ اس سیلاب کی زد میں آئے ہیں اور متاثر ہوئے ہیں‘ انہیں اس سیلاب کے اثرات دنوں‘ ہفتوں یا مہینوں نہیں‘ سالوں بدحال رکھیں گے
بہرحال یہ وقت اختلاف کا نہیں بلکہ متاثرین کی امداد کا ہے اس مشکل کی گھڑی میں جو چیز کرنے کی ہے، ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے…جہاں سیلاب زدگان کا امتحان ہے وہیں پر ہمارا بھی امتحان ہو رہا ہے کہ کون ان کی مدد کرتا ہے اور کون نہیں کرتا
ایک لمحے کے لئے سوچیے کہ سیلاب زدگان کی جگہ آپ ہوں تو کیا ہو ؟ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ مصیبت کسی بھی وقت کسی پر بھی آ سکتی ہے آج اگر ہم دوسروں کی مدد کریں تو کل کو پروردگار کسی مسئلے میں ہماری بھی مدد فرمائے گا
متاثرین پر یہ ایک مشکل گھڑی ہے اس مشکل گھڑی میں ہمیں متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے انہیں تنہاء نہیں چھوڑنا ہے بحیثیت مسلمان ہم جسد واحد کی طرح ہیں اور پھر ہم ایک ملک کے رہنے والے ہیں بحیثیت پاکستانی ہم سب کا یہ فرض ہے کہ جہاں تک ہوسکے ہم اپنے ان بھائیوں کی مدد کریں تاکہ متاثرین اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں
دعا ہے کہ پروردگار اس مشکل گھڑی میں ہماری مدد فرمائے اور بے بس مخلوق کی حفاظت فرمائے اور ہماری مشکلات آسان فرمائے




































Visit Today : 303
Visit Yesterday : 509
This Month : 1845
This Year : 65564
Total Visit : 170552
Hits Today : 2666
Total Hits : 889259
Who's Online : 14





















