اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ  فری اینڈ فیئر الیکشن ہوں ، نئی حکومت آئے اور پھر  وہی آرمی چیف کا انتخاب کرے۔  وکلا کی رائے ہے کہ ایسا کیا جاسکتا ہے۔  عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے کہا کہ دنیا میں وہ قوم اوپر جاتی ہے جس میں میرٹ ہوتا ہے، کوئی بھی ادارہ کامیاب ہوتا ہے تو اس میں میرٹ ہوتا ہے، آج دنیا کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں وہ ملک ترقی کر رہے ہیں جن میں میرٹ کا نظام بہتر ہے، اگر معاشرے میں میرٹ نہیں ہے تو دوسرے ملکوں سے مقابلہ نہیں کرسکتا،  چین کے عروج کی سب سے بڑی وجہ میرٹ ہے۔ میں نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی پوزیشن اہم ترین پوسٹ ہے جس پر تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے، میں نے یہ کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری  میرٹ کیلئے کوالیفائڈ نہیں ہیں، ان کی ترجیح میرٹ نہیں بلکہ اپنے پیسے بچانا ہے،  یہ میری حکومت گرا کر پاکستان کی بہتری کیلئے نہیں اپنا پیسہ  بچانے کیلئے آئے ، نئے آرمی چیف کی میرٹ کے اوپر سلیکشن ہونی چاہیے۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ جب تک الیکشن نہ ہوں تب تک جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دی جائے؟ اس سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ الیکشن ہوں تو چور دروازے سے نہ آئیں، اگر یہ الیکشن جیت جاتے ہیں تو پھر اپنا آرمی چیف تعینات کریں، اس کا حل نکل سکتا ہے، وکلا کا کہنا ہے کہ ملک کی بہتری کیلئے  ایسا کیا جاسکتا ہے کہ جب الیکٹڈ حکومت آئے تو وہ فیصلہ کرے۔ اینکر پرسن کامران خان نے  آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے اپنا سوال دہرایا تو عمران خان نے  واضح الفاظ میں اس پر بات نہیں کی تاہم انہوں نے اشاروں میں اپنی بات واضح کی۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے اس کے اوپر تفصیل میں نہیں سوچا، اس وقت ملک غیر معمولی حالات کا سامنا کر رہا ہے ، ایسے میں یہ سوچنا چاہیے کہ ملک کو دلدل سے کیسے نکالنا ہے، میں بات کرنے کیلئے تیار ہوں، پہلے کوئی بات تو کرے کہ الیکشن کروانے کیلئے تیار ہیں یا نہیں، یہ تو الیکشن کا نام سن کر ہی بھاگ جاتے ہیں، میں یہ کہتا ہوں کہ پہلے تو فری اینڈ فیئر الیکشن پر آجاؤ، اگر وہ اس کیلئے تیار ہیں، فیصلہ تو کریں کہ آپ نے ملک کو استحکام دینا ہے یا نہیں،  الیکشن جیتیں  اور پھر اپنا آرمی چیف تعینات کریں۔