پالیسی ریٹ میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا خدشہ ہے: خواجہ محمد حسین
ملتان (صفدربخاری سے) ایوان تجارت و صنعت ملتان کے سابق صدر خواجہ محمد حسین نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں حالیہ اضافہ کرکے اسے 11.5 فیصد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں تیل، گیس، بجلی، ٹرانسپورٹ اور درآمدی خام مال کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے، لہٰذا صرف شرح سود بڑھانے سے مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں۔خواجہ محمد حسین نے کہا ہے کہ ترقی پذیر معیشت میں روایتی معاشی ماڈلز مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ بلند شرح سود سے جہاں کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے وہیں سرمایہ کاری کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے دستاویزی شعبہ زیادہ متاثر ہوتا ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت پر اس کے اثرات محدود رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں اضافے سے لوگ سرمایہ کاری کے بجائے اپنی رقوم بینکوں میں رکھنا ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں پیسے کی گردش کم ہوتی ہے اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔خواجہ محمد حسین کے مطابق شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کے اضافے سے حکومت کے سالانہ سودی بوجھ میں تقریباً 600 ارب روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عوام کو نئے یا بڑھتے ہوئے ٹیکسز اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور معیشت کا پہیہ رواں دواں رہے۔







































Visit Today : 346
Visit Yesterday : 536
This Month : 882
This Year : 64601
Total Visit : 169589
Hits Today : 3314
Total Hits : 879026
Who's Online : 6




















