پیداواری اہداف حاصل کرنے کے لئے پہلی مرتبہ ڈی این اے فنگر پرنٹس والی اقسام کی منظوری، جس سے خالص بیج اور بریڈرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا : سید حسین جہانیاں گردیزی
ملتان (صفدربخاری سے) وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق زرعی پیداواری اہداف کے حصول کے لئے پہلی مرتبہ ڈی این اے فنگر پرنٹس کی رپورٹ والی اقسام کی منظوری دی گئی ہے جس سے نہ صرف خالص بیج کا حصول ممکن ہوگا بلکہ وفاقی حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ بریڈرز کو رائلٹی بھی مل سکے گی۔ یہ بات صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے زراعت ہاؤس میں پنجاب سیڈ کونسل کے 55ویں اجلاس کی صدارت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی زرعی اجناس کے بیجوں کی 84 نئی اقسام کی منظوری دیدی گئی جن میں مکئی، باجرہ، اخروٹ، ایووکیڈو اور دوسرے پھلوں کی 67 جبکہ کپاس کی 33 اقسام منظوری کے لئے پیش کی گئیں جن میں سے کپاس کی 18 اور دوسری فصلات کی 66 نئی اقسام کی منظوری دی گئی۔ مجموعی طو پر پنجاب سیڈ کونسل کے 55 ویں اجلاس میں وزیر زراعت پنجاب نے 84 نئی اقسام کی عام کاشت کے لئے منظوری دی جبکہ 16 اقسام کو ڈی این اے فنگر پرنٹس رپورٹ یا دوسری ناگزیر وجوہات کی بناء پر منظور نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے نئی اقسام کی تیاری پر زرعی سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ریسرچ ٹرائلز کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ کے لئے پنجاب سیڈ کونسل میں زرعی اجناس کی اقسام کی منظوری کو ورائٹی رجسٹریشن اور ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کو لازما لانے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پچھلی حکومتوں نے زراعت اور بیج کی اہمیت کو فراموش کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زراعت کی بنیاد ہی بیج پر ہے۔ موجودہ حکومت معیاری بیج کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عالمی معیار کے بیج سے ہم زرعی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکیں جس سے ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی نے زرعی اجناس کی نئی اقسام کی دریافت کرتے وقت معیار کو برقرار رکھنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ اقسام کی دریافت کی بجائے ایسی اقسام دریافت کی جائیں جو فیلڈ میں بہتر رزلٹ دے سکیں۔ ہمارے ملک میں روایتی زراعت کے علاوہ کھجور اور پھلوں کی پیداوار میں اضافہ کے مواقع موجود ہیں۔ سیکرٹری زراعت نے جدید ہارویسٹنگ ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے پر زور دیا۔ انھوں نے زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی اقسام دریافت کریں جو فیلڈ میں پانچ سال یا اُس سے زیادہ عرصہ تک کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کو کم رکھتے ہوئے منافع کا باعث بن سکیں۔ انھوں نے کہا کہ قوت ِ مدافعت کی حامل فصلات کی نئی اقسام کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ فصلات پر بیماریوں کا حملہ کم سے کم ہو اور فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔ قبل ازیں اجلاس میں وزیر زراعت پنجاب نے ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کی جو کپاس کی نئی اقسام کو مقرر کردہ بین الاقوامی معیارکے مطابق جانچ کرے گی اور اس میں آپٹما، ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ) اور پرائیویٹ سیکٹر کے ماہرین کی نمائندگی ہوگی۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی، ایم ڈی پنجاب سید کارپوریشن فضل الرحمان، ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) ڈاکٹر انجم علی، ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) ڈاکٹر ظفر اقبال، ڈائریکٹر کاٹن ملتان ڈاکٹر صغیر احمد سمیت پنجاب سیڈ کونسل کے ممبران اور پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کے بریڈرز حضرات کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔






































Visit Today : 144
Visit Yesterday : 438
This Month : 7757
This Year : 71476
Total Visit : 176464
Hits Today : 776
Total Hits : 1004897
Who's Online : 1






















