“اوورسیز پاکستانیوں کے خوابوں پر دس ہزار ڈالر کا تالا”

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے میڈیکل کالجز کی نشستوں پر حالیہ حکومتی پالیسی نے ایک ایسا سوال کھڑا کر دیا ہے جو نہ صرف تعلیم کے حق، مساوات اور انصاف کے اصولوں کو جھنجھوڑتا ہے بلکہ اس بات کو بھی آشکار کرتا ہے کہ ریاست اپنے سب سے بڑے سرمایہ یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کو کس طرح کمزور کر رہی ہے کیونکہ پہلے یہ سہولت مفت تھی اور اب ہر سال کم از کم دس ہزار امریکی ڈالر کی فیس لازمی قرار دی گئی ہے جس سے نہ صرف مالی دباؤ بڑھ گیا ہے بلکہ مواقع بھی محدود ہو گئے ہیں اور نشستوں کی تعداد بھی کم کر دی گئی ہے جبکہ وفاقی سطح پر وزیراعظم نے پندرہ فیصد کوٹہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن صوبائی سطح پر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا جس سے ایک تضاد پیدا ہوا ہے اور یہ تضاد اوورسیز کمیونٹی کے دلوں میں بے چینی اور سوالات کو جنم دیتا ہے، مسئلہ سب سے بڑا یہ ہے کہ پہلے یہ فیس صرف دوہری شہریت رکھنے والوں پر لاگو تھی لیکن اب اچانک گرین پاسپورٹ رکھنے والے طلبہ پر بھی یہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے اور یہ فیصلہ اس وقت سنایا گیا جب بچے ایم بی بی ایس کے لیے داخلہ لے چکے تھے یعنی نہ پہلے اطلاع دی گئی نہ تیاری کا موقع دیا گیا اور اچانک سے ایسی پالیسی سامنے آ گئی جس نے بچوں کا مستقبل داو پر لگا دیا، والدین کے لیے یہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہے کیونکہ اگر یہ شرط پہلے واضح ہوتی تو وہ کسی اور راستے کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن اچانک فیصلے نے نہ صرف ان کے خوابوں کو توڑا بلکہ انہیں شدید مالی دباؤ میں بھی دھکیل دیا، پاکستانی ادارے اس پر نظرثانی کے لیے تیار نہیں گویا اوورسیز پاکستانیوں کا کوئی حق ہی نہیں ان کی قربانیاں اور خدمات ریاست کے نزدیک بے معنی ہیں، مزید حیران کن بات یہ ہے کہ غیر ملکی طلبہ کے لیے کوٹہ بڑھا دیا گیا ہے یعنی اپنے ہی شہریوں کو پیچھے دھکیل کر دوسروں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے صرف اس لیے کہ غیر ملکی طلبہ زیادہ فیس ادا کرتے ہیں، یہ رویہ اوورسیز پاکستانیوں کے دلوں میں یہ احساس شدت اختیار کرتا ہے کہ ان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے ان کی محنت کو کم تر سمجھا جا رہا ہے اور ان کے بچوں کے خوابوں کو مالی بوجھ کے نیچے دبایا جا رہا ہے، یہ کالم اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا زینہ ہے اور جب ریاست اپنے شہریوں کو اس زینے سے محروم کرتی ہے تو دراصل وہ اپنی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے یہ پالیسی ایک امتحان ہے ایک کڑا سوال ہے ایک تلخ حقیقت ہے اور ایک ایسا دھچکا ہے جو نہ صرف ان کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے بلکہ ان کے دلوں میں یہ احساس بھی پیدا کرتا ہے کہ شاید ان کی قربانیاں صرف ترسیلات زر تک محدود ہیں، اگر ریاست نے اس پالیسی پر نظرثانی نہ کی تو آنے والے وقت میں اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد مزید کمزور ہوگا ان کی وابستگی مزید ڈگمگائے گی اور ان کے دلوں میں یہ سوال ہمیشہ زندہ رہے گا کہ کیا ان کی قربانیاں صرف ڈالر بھیجنے تک ہیں یا ان کے بچوں کے خواب بھی اس وطن کی ذمہ داری ہیں۔