آگ لگی بستی میں پاکستانی بسنت کی مستی میں
آگ لگی بستی میں پاکستانی بسنت کی مستی میں
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
آگ لگی بستی میں پاکستانی بسنت کی مستی میں، شہباز شریف کی حکومت تھی تو پابندی لگ گئی، آج مریم نواز شریف ہے تو پابندی ہٹائی جا رہی ہے، یہ وہی تہوار ہے جو کبھی اندرون شہروں کی چھتوں پر منایا جاتا تھا، جہاں گھر اونچے ہوتے تھے، گلیاں تنگ مگر خوشیوں سے بھری ہوتی تھیں، پتنگ کی ڈور آسمان کو چھوتی تھی اور قہقہے زمین کو، مگر آج شہروں کا پھیلاؤ بڑھ گیا ہے، اونچی عمارتیں کم اور چھوٹی چھتیں زیادہ ہیں، گلیوں میں پیدل چلنے والے بھی حادثات کا شکار ہوتے ہیں، دھاتی ڈور بجلی کے تاروں سے لپٹ کر روشنی کے شہر کو اندھیروں میں ڈبو دیتی ہے، کیمیکل ملی ڈور کسی کے گلے پر کٹ لگاتی ہے تو خوشی کا جشن ماتم میں بدل جاتا ہے، ملتان جیسے شہر میں اگر اجازت کا سوچا گیا تو سوال یہ ہے کہ پہلے کاروبار ختم ہو چکا ہے، اب پھر سے یہ کاروبار چند دن کے لیے کیسے سجے گا، دکانیں بند ہو چکی ہیں، کاریگر ہنر چھوڑ چکے ہیں، اور اگر دوبارہ یہ کاروبار کھڑا بھی ہو تو دھاتی ڈور اور پتنگیں جانی نقصان کا باعث بنیں گی، بسنت ایک رنگین روایت ہے مگر یہ رنگ اکثر خون اور دھوئیں میں مدھم ہو جاتے ہیں، انتظامیہt پابندی لگاتی ہے تو شہری مزاحمت کرتے ہیں، اجازت دیتی ہے تو حادثات بڑھ جاتے ہیں، اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی روایت کو محفوظ انداز میں زندہ رکھیں، پتنگ اُڑانا جرم نہیں مگر اسے ذمہ داری کے ساتھ کرنا ہی تہذیب ہے، اگر ہم اپنی خوشی کو دوسروں کے نقصان سے الگ کر سکیں تو بسنت واقعی رنگوں کا تہوار بنے گی نہ کہ حادثوں کا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اجتماعی حکمتِ عملی بنائی، کیا ہم نے کبھی سوچا کہ تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں، اندرون لاہور، اندرون ملتان , یہ سب شہر اپنی چھتوں کے کلچر کے ساتھ بسنت کے گواہ ہیں، مگر آج جب شہروں کا نقشہ بدل گیا ہے، جب چھتیں کم اور سڑکیں زیادہ ہیں، جب پیدل چلنے والے بھی حادثات کا شکار ہوتے ہیں، تو کیا بسنت کی اجازت دینا شہریوں کے لیے انصاف ہے، کیا یہ تہوار اب بھی وہی خوشی دے سکتا ہے جو کبھی دیتا تھا، یا یہ صرف چند دن کی مستی ہے جس کے بعد نقصان اور پچھتاوا باقی رہتا ہے، حکومتیں بدلتی ہیں، فیصلے بدلتے ہیں، شہباز شریف نے پابندی لگائی، مریم نواز شریف نے پابندی ہٹائی، مگر عوام کے لیے سوال وہی ہے: خوشی اور نقصان کے بیچ ہم کس کو ترجیح دیں، ملتان کے شہری پوچھتے ہیں کہ جب کاروبار ختم ہو چکا ہے تو چند دن کے لیے یہ کاروبار کیسے دوبارہ زندہ ہوگا، کیا یہ صرف وقتی رونق ہے یا مستقل نقصان، دھاتی ڈور اور پتنگیں جانی نقصان کا باعث بنیں گی، بچے کھیلتے کھیلتے زخمی ہوں گے، بجلی کے تار کٹیں گے، روشنی بجھے گی، اور پھر ہم کہیں گے کہ یہ حادثہ تھا، مگر کیا یہ حادثہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت ہے، بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے قانون، انتظام اور شہری شعور سب ضروری ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی یہ سب اکٹھا کیا، یا ہم نے صرف پابندی اور اجازت کے کھیل کو سیاست کا حصہ بنا دیا، آج جب مریم نواز شریف کی حکومت پابندی ہٹا رہی ہے تو یہ فیصلہ عوامی خوشی کے لیے ہے یا سیاسی فائدے کے لیے، یہ سوال عوام کے ذہنوں میں ہے، اور یہ کالم اسی سوال کو دہراتا ہے: آگ لگی بستی میں پاکستانی بسنت کی مستی میں، خوشی اور نقصان کے بیچ ہم کب فیصلہ کریں گے، کب ہم تہوار کو محفوظ بنائیں گے، کب ہم اپنی روایت کو ذمہ داری کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور کب ہم یہ سمجھیں گے کہ بسنت صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ زندگیوں کا سوال بھی ہے








































Visit Today : 157
Visit Yesterday : 608
This Month : 9580
This Year : 57416
Total Visit : 162404
Hits Today : 5825
Total Hits : 778981
Who's Online : 5






















