صوبائي وزير حاجی علی حسن زرداری مخالفین کی آنکھ کا کانٹا کیوں؟

تحریر: رحمت اللہ بُرڑو

سندھ کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں اگر کوئی نام مسلسل بحث، تنقید اور مخالفت کی زد میں ہے تو وہ صوبائی وزیر اور منتخب عوامی نمائندے حاجی علی حسن زرداری کا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر حاجی علی حسن زرداری اپنے مخالفین کے لیے ’’آنکھ کا کانٹا‘‘ کیوں بن چکے ہیں؟ کیا یہ محض سیاسی رقابت ہے یا پھر ان کی سیاست واقعی روایتی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے؟
حاجی علی حسن زرداری کی سیاست نعروں، اشتہاری مہمات یا وقتی بیانات کی محتاج نہیں۔ ان کی پہچان عملی کام، عوامی رابطے اور میدان میں موجودگی سے بنتی ہے۔ وہ ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جو صرف دفاتر تک محدود نہیں رہتے بلکہ جیلوں، دور دراز علاقوں، سرکاری اداروں اور نظرانداز کیے گئے طبقات تک خود پہنچتے ہیں۔ یہی عوامی موجودگی ان کے مخالفین کو سب سے زیادہ بے چین کرتی ہے۔ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حاجی علی حسن زرداری اقتدار کے غرور سے پاک نظر آتے ہیں۔ صوبائی وزیر ہونے کے باوجود وہ خود کو عوام سے بالاتر نہیں سمجھتے۔ قیدیوں سے ملاقاتیں، جیل اصلاحات پر عملی توجہ، اور انسانی وقار کے تحفظ کا واضح مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں، جہاں اکثر حکمران فاصلے پر رہتے ہیں، یہ طرزِ عمل غیر معمولی ہے—اور مخالفت کو جنم دیتا ہے۔سیاسی مخالفین اس حقیقت سے بھی خائف ہیں کہ حاجی علی حسن زرداری اپنے حلقے میں ایک مضبوط عوامی طاقت بن چکے ہیں۔ ان کا اثر صرف انتخابات تک محدود نہیں رہا بلکہ ترقیاتی منصوبوں، انتظامی نگرانی اور عوامی مسائل کے حل تک پھیل چکا ہے۔ جب عوام کسی رہنما پر اعتماد کرنے لگیں تو وہ عناصر خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں جو سیاست کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔حاجی علی حسن زرداری کی شفافیت اور صاف گوئی بھی مخالفت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وہ کھل کر بات کرنے، غلط کو غلط کہنے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ اس جرات مندانہ طرزِ سیاست سے کئی مفاد پرست حلقوں کے مفادات بے نقاب ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں الزام تراشی، منفی پروپیگنڈا اور سیاسی بیان بازی شروع ہو جاتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حاجی علی حسن زرداری ایک نئی سیاسی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں—ایسی سوچ جہاں اقتدار کو اختیار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی حقوق، انسانی سلوک، اور اصلاحی اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ وہ ادارہ جاتی جمود کو توڑنا چاہتے ہیں۔ یہ تبدیلی پسند سیاست اُن عناصر کے لیے ناقابلِ قبول ہے جو پرانے، غیر موثر نظام سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔عوام میں ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی دستیابی ہے۔ وہ سننے والے، جواب دینے والے اور ہر وقت موجود رہنے والے رہنما ہیں۔ ایسے دور میں جب عوام وعدوں سے تھک چکے ہیں، مسلسل کارکردگی اعتماد کو جنم دیتی ہے۔ یہی اعتماد مخالفین کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حاجی علی حسن زرداری مخالفین کی آنکھ کا کانٹا اس لیے ہیں کیونکہ وہ عملی سیاست، جوابدہی اور عوامی خدمت کی علامت بن چکے ہیں۔ وہ روایتی سیاست کے سکون کو چیلنج کرتے ہیں اور عوامی خدمت کا نیا معیار قائم کر رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں وہی لوگ شدید مخالفت کا سامنا کرتے ہیں جو حقیقی تبدیلی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔