لاہور: چیئرمین ساجد احمد خان بھٹی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس۔چئیرمین پی اے سی کا ڈپٹی کمشنر لاہور کا اجلاس میں عدم موجودگی پر بر ہمی کا اظہار کیا اور 30منٹ کے لیے اجلاس ملتوی۔30منٹ کے وقفے کے بعد ڈی سی لاہور اجلاس میں پیش۔قانون سے کوئی بالا تر نہیں، تمام ادارے پی اے سی کو جواب دہ ہیں۔ چیئرمین ساجد احمد خان بھٹی اجلاس میں S&GAD اور ڈی سی آفس لاھور کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ۔ پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ساجد احمد خان بھٹی کی زیر صدارت شروع ہوا۔اجلاس میں S&GAD اور ڈی سی آفس کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لاہور کے نہ آنے پر چیئرمین نے بر ہمی کا اظہار کیا اور 30منٹ کے لیے اجلاس ملتوی کر دیا۔30 منٹ کے وقفے کے بعد پی اے سی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا توڈی سی اجلاس میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ساجد احمد خان بھٹی نے ڈی سی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پبلک اکاؤ نٹس کمیٹی کو سنجیدگی سے لیا کریں او ر اگر اس کے علاوہ کوئی سر کاری کام ہو تو پی اے سی کے اجلاس میں عدم موجودگی کے لیے تحریری طور پر اجازت لیا کریں۔ پی اے سی کی صواب دید ہے کہ کسی افسر کو اجلاس سے رخصت دی جائے یا نہ دی جائے۔ ڈی سی لاہور نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ محتاط رہیں گے۔ چیئرمین ساجد احمد خان بھٹی نے کہا کہ قانون سے کوئی بالا تر نہیں، تمام ادارے پی اے سی کو جواب دہ ہیں۔ پی اے سی نے ڈی سی آفس لاہور کے تمام آڈٹ پیراز کے زیرِ التواء معا ملات کو 30دن میں ضروری کارروائی کر کے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوری خریداری کے لیے بھی قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہو گا۔ Petty Purchase کے لیے بھی قواعد اور پروسیجرموجود ہے۔چیئرمین ساجد احمد خان بھٹی نے کہا کہ محکمہ جات میں مالی قواعد و ضوابط کو follow نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ محکمہ آڈٹ کیobservation پر عمل درآمد کیا جائے۔چیئرمین ساجد احمد خان بھٹی نے مزید کہا کہ خریداری میں پنجاب فنانشل رولز کی خلاف ورزی نا قابلِ برداشت