نیا پاکستان اور انارکی
نیا پاکستان اور انارکی
تحریر: مسیح اللہ خان جامپوری
رشوت دینے لینے کا سلسلہ کوئی نیا نہیں جب کسی سے کوئی پرائیویٹ کام لیتا ہے، ااس کے عوض ادائیگی کرتا ہے تو اسے معاوضہ کہا جائے گا ۔ اگر جس شخص سے کام لیا جائے گا وہ خدمات انجام دینے کی ڈیوٹی پر متعین ہے ، وہ اگر کام کے عوض رقم بٹورے گا تو اسے رشوت کہا جائے گا ۔ایسی رقم دینے اور لینے والے کے لئے جہنم واجب کر دی گئی ہے۔ جب بر صغیر میں بادشاہت تھی ، بادشاہ کے فیصلوں پر نافرمانوں ، مجرموں کے سر قلم کئے جاتے تھے، ان محکوموں کے لاشے محل کے باہر پھینک دیئے جاتے تھے، ایسے نافرمانوں اور مجرموں کی میتیں ورثا کے حوالے نہیں کی جاتی تھیں ، بے گور و کفن لاشے سڑنے کے لئے گوشت خور پرندوں اور جانوروں کا پیٹ بھرنے کیلئے ہوتے تھے ، البتہ ایسے قتل کئے جانے والے افراد کے ورثا اپنے پیاروں کی لاشیں لینے پہنچتے تو دربان ان سے مٹھی گرم کر لاتے تھے، پھر وہ لاشے اٹھا کر لے جانے کی اجازت دیتے تھے۔ آدم خور نچلی ذات اور قومیتوں کے لوگ رقم دے کر لاشے لے جاتے اور اسے کھاتے تھے۔
مغل بادشاہوں کے دور میں ایسے کم نصیب لوگ گزرے ہیں جو بادشاہ کی نفرت کا نشانہ بنتے تھے ، بادشاہ مارے جانے والے خاندان کو پابند کر دیتے تھے ، ایسے بدقسمتوں کے گوشت کو پکایا جاتا اور ان کا گوشت ان کے بچوں ، ماں باپ ، بیوی اور بہن بھائیوں کو کھانے پر مجبور کر دیاجاتا۔ حکم عدولی پر متاثرہ خاندان کو عبرتناک سزائیں دی جاتیں ۔ مجبوراً لوگ اپنے پیاروں کا گوشت کھاتے ۔ انسانی مظالم کا یہ سلسلہ طویل تر ہے۔ بات چلی تھی رشوت کی ۔ بادشاہ عادل ہوتا تو رشوت خور اہلکار اور راج دار بھی نشان عبرت بن جاتے ۔ اب دنیا کافی ترقی کر چکی ہے ۔ انفرادی طور پر ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں ، تاریخی حوالے تو بے پناہ اور بے شمار ہیں ۔
یہ سب کچھ لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ میرا دو چار روز پہلے جام پور جانا ہوا ، وراثتی جائیداد کے معاملات درپیش تھے ، ایک پراپرٹی کی رجسٹری نہیں مل رہی تھی ، ماشااللہ کافی بہن بھائی حصہ دار ہیں ، پراپرٹی کو بیچنا پڑا ، رجسٹری کی فوٹو کاپی موجود تھی ، اصل نہیں مل رہی تھی ۔ وکلاء دوستوں نے تسلی دی کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، تحصیل آفس میں کاپی موجود ہوتی ہے، آپ تحصیلدار کو درخواست دیں گے ، وہ مصدقہ کاپی دینے کے پابند ہیں ۔ مجھے حوصلہ ملا، تحصیلدار اسحاق خان صاحب جن کی نیک نامی کا شہرہ ہے ، ان کے علم میں صورتحال آئی تو بولے طریقہ یہ ہے کہ آپ گمشدگی کی پولیس رپورٹ درج کرا دیں ، بیان حلفی لکھوایا گیا ، میرے عزیز محترم نعمان خان ایڈووکیٹ تھانے پہنچے، محرر صاحب تشریف فرما تھے ، کاغذ دیکھا اور بولے پٹواری سے رپورٹ لکھوا لائیں ، میرے عزیز منہ لٹکائے واپس آئے اور پٹواری کے پاس جا پہنچے ، پٹواری صاحب کے پاس پہنچے تو وہ بولا بیان حلفی تو نتھی ہے ، پھر رپورٹ کی کیا ضرورت ہے ؟
میں مقامی اخبار نویس آصف حبیب جکھڑ کے دفتر بیٹھا تو میرے پاس بچے نے آ کے ساری صورتحال بتائی اور میں حیران ۔ ساتھ بیٹھے صاحب بولے مفت میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، پانچ سو لگا دیتے تو مسئلہ حل ہو جاتا ۔ میں اسی سوچ میں غرق تھا تو سینئر اخبار نویس آفتاب نواز مستوئی کو فون کیا ، وہ بولے آپ ایسا کریں فاروق گوپانگ دفتر میں بیٹھے ہونگے ، ان کے پاس چلے جائیں وہ پولیس رپورٹ کرا دے گا ، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ میں یہی سوچتا رہا ، اعتراض تو بہت سارے نکل سکتے ہیں ، پولیس جو چاہے اعتراض کر دے ، مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ بہرحال میں فاروق گوپانگ صاحب کے آفس پہنچا ، بیٹھا تھا ، معلوم ہوا کہ ڈی ایس پی صاحب کی پریس کانفرنس ہے ، وہ وہاں جا رہے ہیں ۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ گمشدگی رپورٹ ہے، محرر صاحب نہیں کر رہے ، ڈی ایس پی صاحب سے مارک کرا دیں ۔ وہ ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد واپس آئے ، میں اس عرصے میں سوچتا رہا کہ اگر پٹواری لکھ بھی دیتا تو محرر کہتا کہ قانونگو کے دستخط کرائیں ، پھر کہے گا کہ مہر لگائیں ۔ بہر حال ڈی ایس پی صاحب لکھ دیں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میں پھر آصف حبیب جکھڑ کے دفتر جا بیٹھا ، اس اثناء میں فاروق گوپانگ صاحب بھی آ گئے ، انہوں نے کہا یہ لیں جی ڈی ایس پی صاحب نے مارک کر دی ہے ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے ایس ایچ او کو مارک کیا تھا ، ایس ایچ او ملتان ہائیکورٹ پیشی پر تھے ۔ آصف حبیب جکھڑ نے کہا کہ مجھے بتا دیتے میں ہی کرا لاتا ۔ ان سے میں نے ایس ایچ او رضوان صاحب کا نمبر لیا تو کمال مہربانی سے رضوان صاحب نے فون اٹینڈ کر لیا اور بولے میں بیس منٹ میں تھانے پہنچ رہا ہوں ، بچے کومیں نے بھیج دیا تو رضوان صاحب تشریف لے آئے، انہوں نے محرر کو دے دیا تو پتہ چلا کہ گمشدگی کی رپورٹ 10،11 بجے آ کے لے جائیں ۔ 10، 11 بجے کیا جاتے ، اگلی صبح پہنچے تو رپورٹ لے آئے ۔ اس طرح رجسٹری کا معاملہ حل ہو گیا ، البتہ محرر صاحب کی وجہ سے ایک دن ضائع ہو گیا ۔
جب مجھے آصف حبیب جکھڑ کہہ رہے تھے کہ مجھے کہتے کام ہو جانا تھا، اس کے سیدھے سادھے معنی یہی تھے کہ میرٹ پر کام نہیں ہوتا ۔ یہی حال محکمہ مال کا ہے۔ چھوٹی چھوٹی رکاوٹوں پر لوگوں کو پریشان کرتے ہیں ، جو کام ان کے بس میں ہوتا ہے، کرنے کا ہوتا ہے ، وہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ نیا پاکستان مشکلات کا گڑھ بن چکا ہے ۔ جس کا کام ہے وہ کرنے پر آمادہ نہیں ، نچلی سطح کے چھوٹے موٹے کام آرام سے ہوجائیں تو کافی پریشانی سے لوگوں کو نجات مل سکتی ہے ۔ اگر فاروق گوپانگ کے پاس نہ جاتا تو ابھی تک میں وہاں رُل رہا ہوتا اور اگر خود پولیس حکام کے پاس جاتا تو کوفت کا نیا سامان لے آتا ۔ یہ مسائل صرف پولیس تھانے کے نہیں ، نادرا سے وابستہ معاملات بھی ایسے ہی ہیں ، پریشان کن ہیں ۔ لوگوں کا وقت ضائع ہوتا ہے ، سرمایہ برباد ہوتاہے ، پریشانیاں الگ پیدا ہوتی ہیں ۔ صرف یہی نہیں عدالتوں میں بھی اس سے بڑھ کر مسائل ہیں ، ہر جگہ پیسے کا چلن ہے ، تنخواہیں تھوڑی ہیں ، خواہشات زیادہ ہیں۔ بڑا شور و غوغا ہے ، نیا پاکستان ہے، نیا پاکستان۔ لیکن سچی بات تو یہی ہے کہ پرانے پاکستان سے بھی گیا گزرا پاکستان ہے ۔ ہسپتالوں کی اس سے بھی ابتر صورتحال ہے۔ انارکی عام ہے، جو جہاں بیٹھا ہے وہ مختار کل بنا بیٹھا ہے ۔ اگر بات کی جائے تو کار سرکار میں مداخلت کی تلوار گردن پر پڑتی ہے ۔ لیکن اصلاح احوال کی جانب کوئی پیش رفت کرنے کا روادار نہیں ۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے انا للہ و انا الیہ راجعون۔






































Visit Today : 141
Visit Yesterday : 497
This Month : 1174
This Year : 64893
Total Visit : 169881
Hits Today : 585
Total Hits : 882661
Who's Online : 2




















