بھارت میں مسلم دشمنی کی انتہا

تحریر: عابد حسین بھٹہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ
جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن لائرز فورم ملتان ڈویژن

بھارتی ریاست بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کے ساتھ روا رکھا گیا غیر شائستہ اور توہین آمیز رویہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

• اس واقعے کی وڈیو منظرِ عام پر آنا دنیا بھر میں انسانی حقوق کے دعویداروں کے لیے ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔

• ایک تعلیم یافتہ مسلمان خاتون کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک اس نام نہاد سیکولر ریاست کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔

• بھارت میں مسلمانوں، بالخصوص خواتین، کے ساتھ امتیازی اور تحقیر آمیز رویہ ہندوتوا نظریے کی عملی تصویر ہے۔

• عالمی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور امن کے علمبرداروں کو اس واقعے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

• پوری مسلم اُمّت، خصوصاً پاکستان، کو اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔

• پاکستان کا آئین اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ فراہم کرتا ہے، جہاں تمام مذاہب کے افراد بلا خوف و خطر اپنی عبادات انجام دیتے ہیں۔

• دنیا کو بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کے ساتھ ہونے والے اس امتیازی سلوک کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

• ایسے واقعات کے خلاف مؤثر، پُرامن اور مسلسل احتجاج ناگزیر ہے تاکہ یہ معاملہ دب نہ جائے اور انصاف کی آواز عالمی ضمیر تک پہنچے ۔