ملتان: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری، صوبہ پنجاب کے ترجمان مولانا غضنفر عزیز اور رہنما زاہد مقصود احمد قریشی نے کہا ہے کہ بھارت میں مسلم خاتون کے ساتھ ہتک آمیز سلوک انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے مسلم خاتون کا حجاب/نقاب کھینچنا بنیادی انسانی حقوق، مشرقی اقدار اور مذہبی آزادی کی کھلی توہین ہے۔ انہوں نے اپنے ایک مشترکہ مذمتی بیان میں کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ مسلسل غیر انسانی اور امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جبکہ مسلم دشمنی، مذہبی انتہا پسندی اور نفرت انگیز رویوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا یہ عمل پست ذہنیت، تنگ نظری اور عدم برداشت کا واضح ثبوت ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے کہا کہ جانوروں کے حقوق پر واویلا مچانے والے مغرب کی اس واقعے پر خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خواتین کے نقاب سے متعلق معاملات پر پوری دنیا شور مچاتی ہے، مگر بھارت میں پیش آنے والے اس دلخراش واقعے پر عالمی برادری کی خاموشی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس واقعے نے بھارت کے نام نہاد جمہوری اور سیکولر چہرے سے جھوٹا نقاب اتار دیا ہے اور عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کریں۔