ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی: انسانی کردار، اعداد و شمار اور ہماری ذمہ داری
*ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی: انسانی کردار، اعداد و شمار اور ہماری ذمہ داری*
تحریر: بسمہ جمیل
بی ایس کیمسٹری 7th سمسٹر
انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل سائنسز بی۔زیڈ-یو ملتان
زیر نگرانی ••پروفیسر ڈاکٹر نسیم عباس
*تعارف*
زمین ہماری مشترکہ امانت ہے، جہاں ہر سانس، ہر درخت اور ہر پانی کا قطرہ زندگی کی علامت ہے۔ لیکن انسانی سرگرمیوں نے اس نعمت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جیسا کہ ایک شاعر نے کہا:
*”دھوئیں اور دھند میں چھپ گئی زمیں کی رنگت،
ہوا میں گھل گئی خوشبو، بجھی ہر صبح کی روشنی۔”*
یہی صورتحال آج ہمارے اردگرد نظر آتی ہے، جہاں *smog* (دھواں اور دھند کا ملا جلا اثر) شہری علاقوں میں سانس لینے کو دشوار بنا رہا ہے، اور *fog* (قدرتی دھند) کے ساتھ مل کر آلودگی اور خطرات بڑھ رہے ہیں۔ Smog اور fog نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کے عمل کو بھی بڑھاتے ہیں، کیونکہ یہ حرارت اور ہوا کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔
“ماحول وہ جگہ ہے جہاں ہم سب ملتے ہیں؛ یہ وہ واحد چیز ہے جو ہم سب میں مشترک ہے۔” – *لیڈی برڈ جانسن*
*موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اسباب*
موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی دراصل ایک ہی مسئلے کے دو پہلو ہیں، جن کی جڑیں انسانی طرزِ زندگی، بے لگام صنعتی ترقی اور قدرتی وسائل کے غیر متوازن استعمال میں پیوست ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے مراد آب و ہوا کے قدرتی نظام میں وہ بگاڑ ہے جو صدیوں سے جاری انسانی سرگرمیوں، صنعتی ترقی، سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت، فوسل فیولز کے زیادہ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور ماحولیاتی تحفظ سے غفلت کا نتیجہ ہے۔ صنعتی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر سے نکلنے والے *کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں* عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور قدرتی آفات جیسے *سیلاب، خشک سالی، طوفان اور دیگر شدید موسمی حالات* کا باعث بن رہی ہیں۔
“موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور کی بات نہیں؛ یہ یہاں ہو رہی ہے، یہ ابھی ہو رہی ہے۔” – *براک اوباما*
### *گرین ہاؤس گیسز کا شعبہ وار حصہ*
دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مختلف شعبوں کا حصہ درج ذیل ہے:
* *توانائی (بجلی، حرارت، ٹرانسپورٹ):* تقریباً 75%
* *ٹرانسپورٹ:* تقریباً 15%
* *زرعی شعبہ:* تقریباً 14%
* *صنعتی شعبے اور پلاسٹک پیداوار:* 3.4% – 5%
* دیگر صنعتی شعبے مختلف مقدار میں حصہ رکھتے ہیں
پلاسٹک پیداوار بھی عالمی گرین ہاؤس گیسوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ اس کی تیاری کے دوران fossil fuels استعمال ہوتے ہیں اور یہ lifecycle کے دوران بھی اضافی اخراج پیدا کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید ہو رہے ہیں۔
## *پلاسٹک کی آلودگی اور اس کے اثرات*
پلاسٹک کا بے دریغ استعمال زمین، پانی، ہوا اور آبی حیات کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے:
* زیادہ تر فضلہ ندی نالوں، دریاؤں اور سمندروں میں جاتا ہے، جس سے آبی جانور اور پرندے شدید متاثر ہوتے ہیں۔
* مائیکرو پلاسٹک انسانوں کے جسم میں بھی داخل ہو رہے ہیں، اور ان کے صحت پر منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں جس میں کینسر جیسی مہلک بیماری سر فہرست ہے۔
صنعتی ادارے اور فیکٹریاں ناقص فضلہ انتظام کی وجہ سے اضافی آلودگی پیدا کرتی ہیں، جس کے اثرات آبی حیات اور انسانی زندگی دونوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں *پلاسٹک کی پیداوار ہر سال تقریباً 400 سے 460 ملین ٹن تک پہنچ رہی ہے*، جس میں سے زیادہ تر ایک ہی بار استعمال کے بعد ضائع ہو جاتا ہے۔
* 2022 میں دنیا میں تقریباً *400 ملین ٹن پلاسٹک پیدا ہوا*، جس میں صرف کم از کم 9.5% حصہ ری سائیکل ہوا۔
* plastics کی پیداوار میں اضافہ جاری ہے اور اگر کوئی مؤثر قدم نہ اٹھایا گیا تو *2040 تک پلاسٹک فضلہ 408 ملین میٹرک ٹن تک پہنچنے کا خدشہ ہے*۔
* پلاسٹک کی پیداوار سے نکلنے والی *گرین ہاؤس گیسز کا حصہ عالمی اخراج کا 3.4% بنتا ہے* اور یہ مقدار آئندہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
“پلاسٹک کی آلودگی کل کا مسئلہ نہیں؛ یہ آج کا بحران ہے۔” – *ڈاکٹر سلویہ ایئرل*
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پلاسٹک صرف فضلہ کا مسئلہ نہیں بلکہ *گرین ہاؤس گیسز، فوسل فیولز اور موسمیاتی تبدیلی میں براہِ راست حصہ دار ہے۔*
*ماحولیات کا عالمی دن*
ماحولیات کا عالمی دن، جو ہر سال *5 جون* کو منایا جاتا ہے، اسی بگاڑ کے خلاف شعور بیدار کرنے کی ایک عالمی کوشش ہے۔ اس دن دنیا بھر کے ماہرین، حکومتی نمائندے، طلباء اور عام لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کس طرح آلودگی، گلوبل وارمنگ اور ماحول کے دیگر مسائل سے نمٹا جائے تاکہ انسان، جانور اور پرندے ایک صاف اور صحت مند ماحول میں سانس لے سکیں۔
“زمین ہماری نہیں؛ ہم زمین کے ہیں۔” – *مارلی میٹلین*
## *پاکستان میں فضائی آلودگی (Smog/Fog) اور اس کا تدارک*
پاکستان کے بڑے شہروں میں *smog اور فضائی آلودگی* ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں، خصوصاً سردیوں میں ہوا کا معیار نہایت خراب ہو جاتا ہے، اور اس سے سانس کی بیماریاں بڑھتی ہیں۔
*ماحول کی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں*
* سانس کی بیماریاں: دمہ، برونکائٹس، نزلہ، کھانسی
* دل کی بیماریاں: ہارٹ اٹیک اور بلڈ پریشر میں اضافہ
* آنکھوں اور جلد کی بیماریاں: خارش، آنکھوں میں جلن
* بچوں اور بزرگوں میں حساسیت اور بیماریوں کا زیادہ خطرہ
### *آج کا سب سے بڑا مسئلہ اور معیشت پر اثرات*
آج *سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی بگاڑ* ہے، کیونکہ اس کے اثرات معیشت، انسانی زندگی اور خوشحالی پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں:
* زراعت متاثر: فصلیں ضائع، خوراک کی کمی
* صنعت اور کاروبار متاثر: توانائی کے اخراجات بڑھنا
* صحت کے اخراجات بڑھنا: بیماریوں اور اسپتالوں پر بوجھ
* روزگار اور معیار زندگی متاثر: غربت اور معاشرتی مسائل
“اگر ہم ماحول پر قابو نہ پا سکے تو کوئی بھی معاشرہ برقرار نہیں رہ سکتا۔” – *مارگریٹ میڈ*
*قدرتی وسائل کا استعمال اور فوائد*
* ہم *قدرتی وسائل* (مثلاً شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، اور ماحولیاتی دوستانہ ٹیکنالوجی) کو بہتر طریقے سے استعمال کر کے ماحول کو بچا سکتے ہیں۔
* ان وسائل کا استعمال ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع فراہم کرتا ہے، جس سے *گرین ہاؤس گیسز میں کمی، توانائی کے اخراجات میں بچت، اور معیشت میں مضبوطی* آتی ہے۔
* قدرتی وسائل کے ذریعے زراعت، صنعت اور روزمرہ زندگی کے شعبوں میں ماحول دوست حل لا کر انسانی زندگی اور خوشحالی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
*موجودہ اقدامات*
ماحولیاتی آلودگی سے پوری دنیا خصوصا تیسری دنیا کےترقی پزیر ممالک جن میں پاکستان سر فہرست ھے سب زیادہ متاثر ہو رھے ہیں کیونکہ ماحولیاتی آلودگی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی وفاقی اور صوبائی حکومتیں ماحولیاتی الودگی کی روک تھام کے لیے قابل قدر اقدامات کر رھی ھیں وزیراعظم شہباز شریف نے ھر بین الاقوامی فورم میں ماحولیاتی آلودگی سے پاکستان کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا اور عالمی برادری سے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنا حصہ ڈالنے کی اپیل کی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں ماحولیاتی الودگی کے خاتمے کے لیے ستھرا پنجاب پروگرام کے نام سے ایک گرین انقلابی پروگرام کا اغاز کیا ہے جس کے لیے اربوں کا فنڈ مختص کیا گیا ھے ہیں اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب نے گزشتہ دنوں بیلجیم میں ہونے والی کاپ 30 کانفرنس میں بھی شرکت کی اور حکومت پنجاب کی جانب سے ماحولیاتی الودگی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں شرکا کو بتایا کہ حالیہ سلاب سے لاکھو ں
افراد متاثر ہوئے فصلیں دریا برد ھو گئیں ملکی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاجس کے ازالہ کے لیے اقدامات جاری ھیں حکومت ایئر کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے سپارکو کو اور ناسا کی مدد سے فضا کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہےآ لودگی کے بڑے ذرائع بشمول صنعتوں اوبھٹوں کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ فصلوں کی باقیات جلانے کے لیے کسانوں کو سپرسیڈرز فراہم کیے گئے ہیں اب گندگی پھیلانے پر جرمانے ھونگے تاھم ماحول کی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر بھی ھمیں بڑے پیمانے پر اگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ھو گا
### *مستقبل میں کیے جانے والے اقدامات*
* پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور ری سائیکلنگ کو فروغ دینا
* توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کرنا (شمسی اور ہوا سے بجلی)
* شہری منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیح دینا
* عوام اور بچوں میں ماحول دوست شعور پیدا کرنا
* فضلہ کے مؤثر انتظام کے لیے کمیونٹی پروگرامز
* عوام اور بچوں کو پودوں اور درختوں کی اہمیت بتانا کہ ایک پودا لگانے کا مطلب 10 افراد کو سانس مہیا کرنا ہے
. بچوں کو سکول میں آلودگی کی اقسام پڑھانے تک محدود نہ رکھنا بلکہ انہیں اس سنگین مسئلے سے نمٹنے اور ماحول کو بچانے اور صاف بنانے کی عملی ٹریننگ دینا ضروری ہے
## *اگر قابو نہ پایا گیا تو ممکنہ مشکلات*
* شدید *طوفان، سیلاب، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات* میں اضافہ
* خوراک اور پانی کی کمی، اور عالمی غذائی بحران
* انسانی صحت کے خطرات میں اضافہ اور بیماریوں کا پھیلاؤ
* جنگلات کی کٹائی اور حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) میں کمی
* اقتصادی نقصان: زراعت، صنعت اور معیشت متاثر ہو گی
* خوشحالی اور معیار زندگی میں کمی، سماجی اور اقتصادی مسائل بڑھیں گے
## *عوام اور بچوں میں آگاہی بڑھانے کے طریقے*
* *اسکولوں میں ورکشاپس، مقابلے اور پراجیکٹس*
* *ری سائیکلنگ پروجیکٹس* اور صفائی کی سرگرمیاں
* میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی
* بچوں کے لیے ماحول دوست کہانیاں، کھیل اور سرگرمیاں
*
*## *حل اور عملی اقدامات*
ماحولیات کے عالمی دن کا اصل مقصد صرف تقریبات نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ماحول کو محفوظ بنانا ہے:
* پلاسٹک کے استعمال میں کمی
* ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال
* قدرتی وسائل کا مستحکم استعمال
* *قدرتی وسائل کو بروئے کار لانا*
* سبز پودے لگانا اور جنگلات کی حفاظت
* شہری منصوبوں میں ماحولیات کو اولین ترجیح دینا
*اختتامیہ اور شعری حوالہ*
اگر ہم آج زمین، ہوا، پانی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں تو آنے والی نسلیں ایک صاف، محفوظ، خوشحال اور مستحکم ماحول میں زندگی گزار سکیں گی۔
*”یہ دھواں اور دھند، یہ آلودہ ہوا،
آئیں ہم سب مل کر اسے صاف کر دکھائیں،
ہر درخت، ہر پودا، ہر سانس کی حفاظت کریں،
تاکہ زمین پھر سے خوشبو اور روشنی سے مہک اٹھے۔”*








































Visit Today : 602
Visit Yesterday : 525
This Month : 9417
This Year : 57253
Total Visit : 162241
Hits Today : 11893
Total Hits : 772497
Who's Online : 4






















