گلگت سانحہ دریا سے لاشیں نکالنے والا ہیرو ریاست کی نظروں سے اوجھل

تحریر:ایس پیرزادہ

گلگت میں پیش آنے والا المناک حادثہ جب ایک وین دریائے سندھ میں جا گری محض ایک ٹریفک سانحہ نہیں تھا بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان بھی تھا اس حادثے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار تھی دریا کی بے رحم موجیں گواہ تھیں کہ زندگی اور موت کے درمیان چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا تھا ایسے میں ایک نام ابھرا نیک عالم بہا در ایک عام سا انسان مگر غیر معمولی حوصلے اور جرات کا پیکر، جس نے جان پر کھیل کر دریائے سندھ کے تیز و تاریک پانیوں میں چھلانگ لگائی اور وین کے اندر پھنسی لاشیں نکالیں وہ کام کر دکھایا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے تیز دھار پانی ٹوٹی پھوٹی گاڑی زخمی ہاتھ اور ہر لمحہ اپنی جان کو لاحق خطرات کے باوجود نیک عالم نے انسانی جانوں کے احترام میں پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اس کے ہاتھ لہولہان ہوئے جسم زخموں سے چور ہوا، مگر اس کا عزم کمزور نہ پڑا وہ لمحہ ایسا تھا جب پورا ملک اس کی بہادری کے گیت گا رہا تھا میڈیا نے اسے ہیرو قرار دیا لائیو نشریات ہوئیں انٹرویوز نشر ہوئے اور ہر زبان پر اس کے حوصلے کا چرچا تھا اسی دوران سرکاری سطح پر بڑے بڑے وعدے کیے گئے کہا گیا کہ نیک عالم کو سرکاری نوکری دی جائے گی کہا گیا کہ اسے صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے وزیرے اطلات نشریات عطا تارڈ صاحب کیسے اس ہیرو کو بھول گئے پی ٹی وی آسلام آباد سے اس پر رپورٹنگ کی گئی انٹرویوز لئے گئے حکومتی نمائندوں کے بیانات آئے یقین دہانیاں کرائی گئیں کیمرے چمکے تصویریں بنیں اور فائلوں میں ایک اور ہیرو کا نام درج ہو گیا مگر وقت گزرتا گیا… سرخیاں بدل گئیں کیمرے بند ہو گئے اور وعدے خاموشی کی نذر ہو گئے آج وہی نیک عالم بہادری جس نے دریائے سندھ کی بے رحم موجوں سے لاشیں نکال کر لواحقین کو آخری دیدار کا حق دیا خود سوال بن کر کھڑا ہے نہ سرکاری نوکری ملی نہ کوئی مالی معاونت، نہ مستقل سہارا جس کے زخمی ہاتھوں نے کئی گھروں کے دکھ کچھ کم کیے وہ آج اپنی زندگی کے زخم اکیلا سہہ رہا ہے یہ معاملہ محض ایک فرد کا نہیں، یہ ہمارے اجتماعی رویّے کا آئینہ ہے۔ ہم حادثے کے وقت جذباتی ہو جاتے ہیں ہیرو تراش لیتے ہیں سوشل میڈیا پر تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں مگر جیسے ہی منظر بدلتا ہے ہم اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتے ہیں ریاستی نظام جسے ایسے کرداروں کو تحفظ، عزت اور مستقل سہارا دینا چاہیے، وہی نظام خاموش تماشائی بن جاتا ہے اگر نیک عالم بہادری جیسے افراد کو صلہ نہ ملا تو کل کوئی نیک عالم کسی دریا کسی آگ یا کسی ملبے میں کودنے سے پہلے ضرور سوچے گا۔ پھر ہم کسی حادثے کے بعد یہ سوال نہیں کر سکیں گے کہ انسانیت کہاں ہے؟ کیونکہ انسانیت تب زندہ رہتی ہے جب اسے پہچانا جائے سراہا جائے اور نبھایا جائے میں اس ارٹیکل کے زریعے فیلڈ مارشل صاحب وزیراعظم شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کرتی ہوں حقدار کو اس کا حق دیا جائے یہ وقت محض خراجِ تحسین کے بیانات دینے کا نہیں عملی اقدام کا ہے نیک عالم کسی سرکاری فائل کا عنوان نہیں وہ زندہ حقیقت ہے وہ قومی ضمیر کا قرض ہے اگر آج یہ قرض ادا نہ کیا گیا تو کل تاریخ ہم سے پوچھے گی کہ جب ایک عام انسان نے غیر معمولی جرات دکھائی تو ریاست اور معاشرہ کہاں تھا؟
سانحہ گزر چکا لاشیں دفن ہو چکیں مگر سوال آج بھی زندہ ہے
نیک عالم کا قصور کیا تھا؟
صرف یہ کہ وہ ہیرو تھا؟