سانحہ پشاور16 دسمبر ماں کا درد اور معصوم بچوں کی قربانی
سانحہ پشاور16 دسمبر ماں کا درد اور معصوم بچوں کی قربانی
تحریر: ایس پیرزادہ
16
دسمبر 2014 وہ دن ہے جو تاریخ میں صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسا زخم بن کر درج ہو چکا ہے جو وقت کے ساتھ مندمل نہیں ہوا یہ وہ دن ہے جس نے پوری قوم کو
رلا دیا اور ہر ماں کے دل میں ایک مستقل درد چھوڑ دیا میں ایک ماں ہوں اور جب یہ سانحہ پیش آیا تو ایک ماہ تک میرے اندر کچھ ٹوٹا رہا میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے تھے کئی کئی دن کھانے کا خیال تک نہیں آیا ہر خبر ہر تصویر ہر نام مجھے میرے اپنے بچوں کی صورت دکھاتا تھا سکول جاتے ننھے قدم بستوں کا بوجھ معصوم مسکراہٹیں سب آنکھوں کے سامنے گھومتی رہیں ایسا لگتا تھا جیسے ان بچوں کے ساتھ میرے اپنے دل کا ایک حصہ بھی دفن ہو گیا ہو آرمی پبلک اسکول پشاور میں شہید ہونے والے بچے صرف طلبہ نہیں تھے وہ خواب تھے امید تھے مستقبل تھے ان کی معصوم آنکھوں میں زندگی کے رنگ ابھی پوری طرح اترے بھی نہیں تھے کہ دہشت نے انہیں ہم سے چھین لیا یہ سانحہ صرف بچوں پر حملہ نہیں تھا یہ انسانیت علم اور آنے والے کل پر حملہ تھا ایک ماں کے لیے اس سے بڑا دکھ کچھ نہیں کہ وہ معصوم چہرے دیکھے جو کبھی بڑے نہیں ہو پائیں ہر ماں نے اس دن اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر یہ محسوس کیا کہ زندگی کتنی نازک ہے اور ماں کا دل کتنا بےبس ہوتا ہے اس اندھیرے کے بعد پاکستان کی پاک فوج نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا روشن باب ہے ان معصوم شہادتوں کے بعد قوم نے یکجہتی دکھائی اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کیے گئے پاک فوج نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر اس ناسور کے خلاف دیوار بن کر کھڑے ہونے کا ثبوت دیا یہ شہید بچے خاموش نہیں گئے ان کی قربانی نے ایک پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور ہمیں یہ احساس دلایا کہ خاموشی اب جرم ہے آج گیارہ برس گزر چکے ہیں مگر ہر 16 دسمبر کو وہی منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے وہی کلاس روم وہی بستے وہی سسکیاں اور وہی ماں کا نہ ختم ہونے والا درد وقت نے کیلنڈر بدل دیے مگر دل کی کیفیت نہیں بدلی میں آج بھی جب ان بچوں کی تصاویر دیکھتی ہوں تو دل پھٹ جاتا ہے یہ درد کسی ایک دن کا نہیں یہ ایک ماں کا مستقل احساس ہے اللہ تعالیٰ ان معصوم شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ان کے والدین کو صبر دے اور ہمیں اتنی ہمت دے کہ ہم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کریں
16 دسمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں اور معصوم لہو کبھی رائیگاں نہیں جاتا یہ دن ہمارے لیے عہد کا دن ہے کہ ہم اپنے بچوں اپنے مستقبل اور اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار رہیں گے ہم نھیں بھولے نا بھول سکتے ہیں جب جب 16 دسمبر ائے گا وہ معصوم پھول ان کی ماؤں کی آنکھوں کی نمی ہمیں افسردہ کر دے گی اور کر رہی ہے
شعر
ننھے لہو نے لکھ دیا تاریخ کے ماتھے پر
کہ ظلم کے مقابل معصوم بھی گواہ ہوتے ہیں








































Visit Today : 602
Visit Yesterday : 525
This Month : 9417
This Year : 57253
Total Visit : 162241
Hits Today : 11854
Total Hits : 772459
Who's Online : 4






















