16 دسمبر: اے پی ایس کے شہداء کی یاد میں

تحریر: کلب عابد خان
رابطہ: 03009635323

16 دسمبر 2014 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دن ہمارے قومی شعور پر ایک ایسا زخم چھوڑ گیا ہے جو وقت گزرنے کے باوجود تازہ ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم طلبہ اور اساتذہ پر ہونے والا حملہ دراصل ہمارے مستقبل پر حملہ تھا، ہمارے بچوں کی مسکراہٹوں کو چھیننے کی کوشش تھی، ہمارے تعلیمی اداروں کو خوف کی علامت بنانے کی سازش تھی۔ اس دن دہشت گردی نے اپنی سفاکی کی انتہا دکھائی اور 144 قیمتی جانیں ہم سے چھین لیں۔ ان ننھے چراغوں کی کہانی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ خواب ہیں جو کتابوں کے اوراق پر لکھے جانے تھے، وہ مسکراہٹیں ہیں جو کلاس رومز میں گونجنے والی تھیں، وہ مستقبل ہے جو پاکستان کو روشن کرنے والا تھا۔ لیکن ظلمت نے ان سب کو بجھا دیا۔
اس سانحے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ لمحہ تھا جب ہر پاکستانی نے محسوس کیا کہ اب خاموشی ممکن نہیں۔ اس دن کے بعد دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان بنا، فوج اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوئے، اور یہ عزم کیا گیا کہ پاکستان کے بچوں کو محفوظ مستقبل دینا ہے۔ اے پی ایس کے شہداء نے اپنی جانوں کے نذرانے سے ہمیں یہ سبق دیا کہ تعلیم دشمن کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت ہے۔ ان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور علم کی روشنی سے کیا جا سکتا ہے۔
کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ ایک ماں اپنے بچے کو اسکول بھیجے اور شام کو اس کے جنازے کو کندھا دے؟ یہ وہ کرب ہے جو اے پی ایس کے والدین نے جھیلا۔ ان کی آنکھوں کے آنسو آج بھی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔ لیکن ان والدین نے اپنے دکھ کو ہمت میں بدلا، وہ آج بھی کہتے ہیں کہ ان کے بچے شہید ہیں، اور شہید کبھی مرتے نہیں۔ یہ جذبہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی کا مطلب صرف نقصان نہیں بلکہ ایک پیغام بھی ہے۔ اے پی ایس کے شہداء ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ علم کی شمع بجھائی نہیں جا سکتی۔ دہشت گردی چاہے کتنی ہی سفاک ہو، وہ کتاب اور قلم کی طاقت کو شکست نہیں دے سکتی۔ ان بچوں نے اپنی جان دے کر یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا مستقبل تعلیم سے جڑا ہے۔
سانحہ اے پی ایس ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی صرف فوج یا حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم اپنے معاشرے میں انتہا پسندی کو ختم نہیں کرتے، جب تک ہم اپنے بچوں کو امن، برداشت اور محبت کا سبق نہیں دیتے، اس وقت تک اے پی ایس جیسے سانحات کا خطرہ باقی رہے گا۔ ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں اور اداروں میں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں نفرت کی بجائے محبت پروان چڑھے۔ آج، گیارہ سال گزرنے کے بعد بھی اے پی ایس کے شہداء کی یاد ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کے خون کا حق ادا کیا؟ کیا ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کو محفوظ بنایا؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو وہ پاکستان دیا جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ یہ سوال ہمیں ہر سال 16 دسمبر کو جھنجھوڑتا ہے۔
یہ دن ہمیں یہ عہد کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے شہداء کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ہم اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دیں گے، اپنے تعلیمی اداروں کو علم کی روشنی سے منور کریں گے، اور دہشت گردی کے خلاف متحد رہیں گے۔ سانحہ اے پی ایس پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ضرور ہے، لیکن یہ ہمارے لیے روشنی کا پیغام بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوقوں سے نہیں بلکہ تعلیم، شعور اور اتحاد سے جیتی جا سکتی ہے۔ اے پی ایس کے شہداء نے اپنی جانوں کے نذرانے سے ہمیں یہ سبق دیا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے، اگر ہم متحد رہیں اور اپنے بچوں کو علم کی طاقت سے لیس کریں۔
یہ کالم صرف ایک یاد دہانی نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کے خون کا قرض ابھی ادا نہیں کیا۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو محفوظ بنانا ہے، اپنے معاشرے کو انتہا پسندی سے پاک کرنا ہے، اور اپنے بچوں کو وہ پاکستان دینا ہے جس کا خواب ہمارے بانی نے دیکھا تھا۔ اے پی ایس کے شہداء کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پاکستان کا مستقبل تعلیم، امن اور اتحاد میں ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دیں گے، اپنے شہداء کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، اور دہشت گردی کے خلاف متحد رہیں گے۔