گندم کی جڑی بوٹیوں کی تلفی
گندم کی جڑی بوٹیوں کی تلفی
تحریر: نوید عصمت کاہلوں ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن محکمہ زراعت پنجاب
گندم کی فصل ملکی فوڈ سیکیورٹی کیلئے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ صوبہ پنجاب گندم کی ملکی
مجموعی پیداوار کا قریباً 76 فیصد ہے۔گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے لیے زمین کی تیاری، معیاری بیج کا انتخاب، متوازن کھاد اور بروقت کاشت جیسے عوامل کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی بھی ناگزیر ہے۔ امسال صوبہ پنجاب میں 1 کروڑ65 لاکھ ایکڑ رقبہ گندم کے زیرِ کاشت لایا گیا ہے۔ گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کیلئے جڑی بوٹیوں کی تلفی از حد ضروری ہوتی ہے۔ جڑی بوٹیاں نہ صرف گندم کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہیں بلکہ معیار کو بھی متاثر کرتی ہیں جس سے منڈی میں فصل کا ریٹ کم ملتا ہے۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جڑی بوٹیاں زمین سے پانی، خوراک اور دھوپ کے حصول میں گندم کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں فصل کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق گندم کی پیداوار میں جڑی بوٹیوں کی وجہ سے 10 سے 42 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے جس سے کاشتکاروں کی محنت اور سرمایہ کاری کو ضائع ہوتی ہے۔گندم کی فصل میں عمومی طور پر دو اقسام کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں میں کرنڈ، باتھو، لیہہ، سینجی، گاجر بوٹی اور جنگلی پالک وغیرہ شامل ہیں، جبکہ گھاس نما جڑی بوٹیوں میں جنگلی جئی، دمبی سٹی اور پومری گھاس وغیرہ پائی جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق، جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے بہترین وقت وہ ہے جب ان کے دو سے تین پتے نکل چکے ہوں۔ اس مرحلے پر جڑی بوٹیاں کمزور ہوتی ہیں اور انہیں تلف کرنا آسان ہوتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے پہلے پانی کے بعد زمین وتر آنے پر دوہری بار ہل یا بارہیرو چلائی جائے۔ اگر افرادی قوت میسر نہ ہو تو محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین سے مشورہ لے کر موزوں جڑی بوٹی مار ادویات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے عام طور پر گندم کی پہلی آبپاشی کے بعد وتر حالت میں سپرے کیا جاتا ہے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے دوسری آبپاشی کے بعد سپرے کیا جاتا ہے۔سپرے کے لیے مخصوصی نوزل فلیٹ فین یا ٹی جیٹ استعمال کریں اور پانی کی فی ایکڑ مقدار 100تا 120 لیٹر رکھیں۔ گندم کی فصل سے جڑی بوٹیوں کو بروقت تلف کر کے ہم گندم کی فی ایکڑ اچھی پیداوار حاصل کر سکتے ہیں جس سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضرورت کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنا کر فوڈسکیورٹی کا حصول ممکن ہوگا۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کو ہر صورت یقینی بنانا چاہیے۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی نہ صرف گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ پیداوار کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے مقامی زرعی ماہرین سے مشورہ کریں اور محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بروقت اقدامات کریں تاکہ گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار ممکن ہو سکے۔









































Visit Today : 32
Visit Yesterday : 608
This Month : 9455
This Year : 57291
Total Visit : 162279
Hits Today : 490
Total Hits : 773646
Who's Online : 5






















