یومِ انسانی حقوق اور پاکستان
سوال جو جواب مانگتے ہیں

تحریر: ایس پیرزادہ

آج یومِ انسانی حقوق ہے دنیا بھر میں اس دن تقاریر ہوتی ہیں بیانات جاری کیے جاتے ہیں اور مساوات انصاف اور انسانی وقار پر زور دیا جاتا ہے مگر پاکستان کے تناظر میں اصل سوال یہ نہیں کہ ہم یہ دن کیوں مناتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں انسانی حقوق واقعی موجود بھی ہیں؟ پاکستان میں انسانی حقوق اب محض ایک رسمی نعرہ بنتے جا رہے ہیں طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے بے رحم دکھائی دیتا ہے انصاف کا معیار قانون نہیں بلکہ عہدہ اثر و رسوخ اور تعلقات بن چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات بار بار سامنے آتے ہیں جو پورے نظامِ انصاف پر سوال کھڑے کر دیتے ہیں
بااثر افراد کے ہاتھوں معصوم جانوں کا ضائع ہو جانا مگر نہ شواہد جمع ہونا نہ سیف سٹی کیمرے سامنے آنا نہ متعلقہ اداروں کی سنجیدہ کارروائی اور نہ ہی کسی کیس کا منطقی انجام تک پہنچنا یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی جان کی قدر اب سب کے لیے برابر نہیں رہی سوال یہ ہے کہ کیا کمزور غریب اور بے آواز شہری انسانی حقوق کی تعریف میں شامل نہیں؟ گزشتہ برسوں میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے بہیمانہ واقعات نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا بے مقصد قتل لاشوں کی بے حرمتی مبینہ خودکشیوں کے نام پر سچ کو دفن کرنا اور خاندانوں کو خوف یا دباؤ کے ذریعے خاموش کرا دینا ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے یہ واقعات کسی ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہیں
عورت ہونا اب بھی عدم تحفظ کی علامت بنا دیا گیا ہے اگر وہ تعلیم حاصل کرے باہر نکلے اپنی رائے دے یا اپنی شناخت بنانے کی کوشش کرے تو سب سے پہلے اس کے کردار کو نشانہ بنایا جاتا ہے جرم کے بعد تحقیقات سے پہلے ہی فیصلے سنا دیے جاتے ہیں اور یوں قاتل سے پہلے عورت کو سماجی طور پر قتل کر دیا جاتا ہے انسانی حقوق کی پامالی صرف جان لینے تک محدود نہیں خواتین جب ورک پلیس ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں تو اکثر الٹا انہی کے خلاف کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں شکایت کرنے والی عورت کو نوکری سے الگ کر دیا جاتا ہے اسے ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا جاتا ہے اس کا معاشی استحصال کیا جاتا ہے جبکہ ہراسانی کرنے والے محفوظ رہتے ہیں انہیں اعلیٰ عہدوں پر بٹھا دیا جاتا ہے یہ مسئلہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر شعبے میں موجود ہے روزمرہ زندگی میں بھی ناانصافی واضح ہے ریڑھی بان موٹر سائیکل سوار اور عام شہری سخت جرمانوں اور قوانین کے بوجھ تلے دبے ہیں جبکہ بڑی گاڑیوں اور بااثر افراد کو رعایتیں ملتی ہیں قانون کی ترازو ایک طرف جھکی ہوئی نظر آتی ہے اور انصاف کمزور کے لیے مزید مشکل بنا دیا گیا ہے
یومِ انسانی حقوق کے موقع پر اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے بینر لگائے گئے یا کتنے سیمینار منعقد ہوئے اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق آخر کن کے لیے ہیں؟ کیا یہ صرف طاقت، عہدے اور تعلقات رکھنے والوں تک محدود ہیں، یا عورت بچی مزدور، ہراساں کی گئی ملازمہ اور سڑک پر کھڑا عام شہری بھی انسان سمجھا جائے گا جب تک مظلوم کی آواز دبائی جاتی رہے گی جب تک طاقتور کو استثنیٰ حاصل رہے گا اور جب تک انصاف طاقت کے تابع رہے گا، تب تک یومِ انسانی حقوق محض ایک کیلنڈر کی تاریخ ہی رہے گا پاکستان کو آج نعروں کی نہیں بلکہ سچ انصاف جوابدہی اور عملی عملداری کی ضرورت ہے یہی یومِ انسانی حقوق کا اصل مقصد اور اصل پیغام ہونا چاہیئے