احتساب کے ادارے یا کرپشن کے محافظ؟ پاکستان میں کرپشن کیوں ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

ہر سال 9 دسمبر کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل اینٹی کرپشن ڈے منایا جاتا ہے، پاکستان میں بھی اس دن تقاریب، تقاریر اور وعدوں کی بھرمار نظر آتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ دن واقعی کرپشن میں کمی کا سبب بن رہا ہے یا صرف رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں احتساب کے ادارے موجود ہونے کے باوجود کرپشن ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے، اور اس کی بنیادی وجہ اداروں کی کمزوری نہیں بلکہ نیت، عملداری اور انصاف کے دوہرے معیار کا فقدان ہے۔
پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب)، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، ایف آئی اے، آڈیٹر جنرل، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور دیگر کئی ادارے احتساب کے لیے قائم ہیں، مگر یہ ادارے اکثر خود احتساب کے بجائے سیاسی دباؤ، مصلحت اور طاقتور طبقات کے تحفظ کے اسیر نظر آتے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈلز سامنے آنے کے باوجود انجام چند چھوٹے ملازمین یا کلرکوں پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ اصل کردار اکثر قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں احتساب ایک غیر جانبدار عمل کے بجائے ایک سیاسی ہتھیار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے، وہ اپنے مخالفین کے خلاف احتساب کے نعرے بلند کرتی ہے، جبکہ اپنے لوگوں کے لیے خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ اس رویے نے عوام میں یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ احتساب جرم کی بنیاد پر نہیں بلکہ تعلق اور طاقت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جب کسی بھی نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے تو وہ نظام خود بخود بے اثر ہو جاتا ہے۔
کرپشن کے مقدمات برسوں عدالتوں میں زیر التوا رہتے ہیں، تفتیش ناقص ہوتی ہے، گواہ عدم تحفظ کے باعث پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ملزمان معمولی ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ اسی دھندے میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔ جب سزا کا احتمال کم ہو تو کرپشن ایک محفوظ کاروبار بن جاتی ہے، اور یہی پاکستان میں ہو رہا ہے۔
صورتحال صرف بڑے مالی اسکینڈلز تک محدود نہیں، بلکہ نچلی سطح پر ریاستی کرپشن نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ پٹواری کے بغیر زمین کا ایک کاغذ نہیں ملتا، تھانے میں ایف آئی آر رشوت کے بغیر درج نہیں ہوتی، سرکاری دفاتر میں فائلوں کی رفتار نوٹ کے سائز سے ناپی جاتی ہے، اور ٹھیکے، ٹرانسفر پوسٹنگ اور بھرتیاں سب ایک منظم بازار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ احتسابی ادارے اس روزمرہ کی کرپشن پر شاذ و نادر ہی کسی مؤثر کارروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں، حالانکہ عوام کا سب سے زیادہ استحصال یہی طبقہ کرتا ہے۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ خود احتساب کے بعض ادارے بھی بدعنوانی کے الزامات سے پاک نہیں۔ فائلوں کا غائب ہونا، تحقیقات کا دانستہ سست ہونا، اور بعض کیسز میں ڈیل کے ذریعے ملزمان کو ریلیف مل جانا عام تاثر بنتا جا رہا ہے۔ جب محافظ ہی سودے بازی پر اتر آئیں تو چور مزید بے خوف ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں طاقتور مافیا، چاہے وہ لینڈ مافیا ہو، شوگر مافیا ہو یا contraband کے نیٹ ورک، اکثر قانون سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے ہی تحقیقات کسی طاقتور شخصیت تک پہنچتی ہیں، دباؤ، تبادلوں اور انکوائری کے رک جانے کے مناظر سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹا چور جیل پہنچ جاتا ہے، جبکہ بڑا چور نظام کا حصہ بن کر مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔
عوام کی مجبوری اور خاموشی بھی کرپشن کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ عام شہری جانتا ہے کہ رشوت دیے بغیر اس کا جائز کام بھی مشکل ہو جائے گا۔ اگر وہ شکایت کرے تو اسے ہی تنگ کیا جاتا ہے، اور اکثر اسے مفاہمت کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔ یوں کرپشن جرم نہیں بلکہ معاشرتی مجبوری بنتی جا رہی ہے، اور یہ کسی بھی ریاست کے لیے سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن قانون کی کمی سے نہیں بلکہ قانون کی کمزور عملداری سے فروغ پا رہی ہے۔ احتساب اگر واقعی غیر جانبدار، خوف سے آزاد اور طاقتور کے لیے بھی اتنا ہی سخت ہو جتنا کمزور کے لیے ہوتا، تو آج حالات مختلف ہوتے۔
اگر ہم واقعی کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں محض نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ احتسابی اداروں کو سیاسی اثر سے مکمل آزاد کرنا ہوگا، کرپشن کیسز کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنا ہوں گی، تمام تحقیقات اور فیصلوں کو عوام کے سامنے شفاف بنانا ہوگا، اور نچلی سطح پر ڈیجیٹل نظام کو مکمل نافذ کرنا ہوگا تاکہ انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔
آخر میں سچ یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن اس لیے نہیں بڑھ رہی کہ قانون موجود نہیں، بلکہ اس لیے بڑھ رہی ہے کہ طاقتور قانون سے بالاتر ہیں، احتساب کمزور ہے اور عوام مایوسی کا شکار ہیں۔ جب تک یہ تینوں بیماریاں ختم نہیں ہوتیں، انٹرنیشنل اینٹی کرپشن ڈے محض ایک رسم ہی رہے گا، ایک حقیقی تبدیلی نہیں۔