نیا ڈی سی ملتان: عوامی توقعات اور فوری اصلاحات کی ضرورت

تحریر: زین العابدین عابد

مسٹر ڈی سی ،آپ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ قریب سے کام کیا ہے، ان کے نظم و ضبط، وژن اور سخت مانیٹرنگ سسٹم کو براہِ راست دیکھا ہے۔ اسی لیے ملتان کے لوگ آپ سے عام سرکاری افسر سے کہیں زیادہ توقعات وابستہ کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں، لیکن ضلع کے زمینی مسائل وہ ہیں جن سے صرف عوام ہی آپ کو حقیقت پسندانہ تصویر فراہم کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہم دل سے چاہتے ہیں کہ آپ کو یہاں کے حالات، کمیوں، شکایات اور انتظامی خامیوں سے پوری طرح آگاہ کریں، تاکہ آپ ان مسائل کا حل نکال سکیں اور ایسی حکمت عملی وضع کریں جو ملتان کی انتظامیہ میں حقیقی تبدیلی ثابت ہو۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ یہ گزارش کر رہے ہیں کہ آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے، بلکہ اپنے تجربے، دیانت داری اور سخت نظم و ضبط کے ذریعے اس شہر کو بہترین اور منظم اضلاع کی صف میں کھڑا کریں گے۔ ملتان کے عوام آپ کی طرف امید سے دیکھ رہے ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے اقدامات یہاں کی تاریخ میں مثبت تبدیلی کے طور پر لکھے جائیں۔
ملتان کا انفراسٹرکچر برسوں کی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور کمزور نگرانی کے باعث تباہ حال ہو چکا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس کی فوری مرمت یا مکمل بحالی ایک طویل المدت کام ہے جو چند ماہ یا چند اقدامات میں ممکن نہیں۔ اسی لیے اگر موجودہ ڈپٹی کمشنر واقعی ملتان کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف بڑے منصوبوں کے خواب دکھانے کے بجائے عوام کو روزمرہ درپیش مشکلات کا فوری اور عملی ازالہ یقینی بنانا ہوگا۔
جب تک بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے بجٹ، ٹائم لائن اور منظوری درکار ہوتی ہے، اس وقت تک آپ یعنی ضلعی انتظامیہ شہریوں کے لیے وہ اقدامات کر سکتی ہے جو کم خرچ، فوری اثرات اور براہِ راست عوامی ریلیف کا باعث ہوں۔ مثلاً: ڈی سی آفس شکایات سیل کا فعال ہونا، غیرقانونی منڈیوں کا خاتمہ، تجاوزات کی نگرانی
قیمتوں کا کنٹرول،ٹریفک مینجمنٹ، سیکیورٹی کمپنیوں، پریس لاء برانچ و غیر رجسٹرڈ تنظیموں اور ڈیٹا بیس کی اصلاح
جعلی اخبارات، غیر رجسٹرڈ پرنٹنگ پریس اور غیرقانونی کاروباروں کا خاتمہ، غیرقانونی پٹرول سیل پوائنٹس کی بندش
سیوریج بند ہونے، اسٹریٹ لائٹس اور صفائی جیسے فوری مسائل کا حل یہ وہ کام ہیں جن کے نتائج ہفتوں میں نظر آتے ہیں اور عوام فوری طور پر تبدیلی محسوس کرتے ہیں۔
ڈی سی آفس پریس لا برانچ اس وقت سنگین بے ضابطگیوں، نااہلی اور انتظامی کمزوریوں کا شکار ہے، جہاں اخبارات سے متعلق بنیادی معاملات بھی بروقت طے نہیں پاتے۔ اطلاعات اور شکایات تاخیر کا شکار ہو کر نہ صرف میڈیا اداروں کی کارکردگی متاثر کرتی ہیں بلکہ ضلع کی انتظامی شفافیت پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔ جعلی، خودساختہ اور غیر رجسٹرڈ اخبارات کی بھرمار نے شہر میں صحافت کے معیار کو کمزور کر دیا ہے، ڈمی صحافی سرکاری دفاتر کے کرتے دھرتے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں پرنٹنگ اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس 2002 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ صورتِ حال اس قدر خراب ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب اور پریس رجسٹرار اسلام آباد کی جانب سے بھیجے گئے مراسلوں پر بھی ملتان ڈی سی آفس میں کوئی مؤثر کاروائی نہیں ہو رہی، اور ڈپٹی کمشنر کو ان اہم احکامات سے ان کا اپنا عملہ مکمل طور پر لاعلم رکھے ہوئے ہے۔ مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ سابق ڈی سی کے دور میں بیٹھک پبلیکیشنز اینڈ پرنٹر کو بغیر کسی باقاعدہ پرنٹنگ پریس ملکیت کے ڈیکلریشن جاری کیا گیا، جو ایک سنگین انتظامی غلطی اور قانونی سقم کی واضح مثال ہے۔ اگر موجودہ ڈی سی واقعی اپنا نام چھوڑنا چاہتے ہیں تو انہیں سخت قانونی پالیسیوں، مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ، جعلی اخبارات کے خلاف ٹارگٹڈ ایکشن، اور پریس برانچ میں مجموعی اصلاحات متعارف کرانا ہوں گی۔ ایک شفاف، منظم اور فعال میڈیا ریگولیشن سسٹم قائم کر کے وہ نہ صرف فوری مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ ملتان کی تاریخ میں ایک یادگار اور باصلاحیت منتظم کے طور پر اپنا مقام بھی بنا سکتے ہیں۔
ڈی سی آفس ملتان کا شکایت سیل اس وقت مکمل طور پر غیر فعال دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث عوام کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔ شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی شکایات کا نہ تو کوئی نوٹس لیا جاتا ہے اور نہ ہی ان پر کوئی عملی کارروائی ہوتی ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ پاکستان سٹیزن پورٹل—جو کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کردہ ملک کا سب سے مؤثر شکایات نظام سمجھا جاتا ہے پر اپ لوڈ کی گئی درخواستیں بھی مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہیں۔ متعلقہ برانچ نہ اپڈیٹ دیتی ہے، نہ فالو اپ کرتی ہے اور نہ ہی مسائل کے حل کی کوئی پیش رفت سامنے آتی ہے۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے سے نہ صرف انتظامیہ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کی آواز بھی دبی رہ جاتی ہے، جو کہ اچھی حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر موجودہ ڈپٹی کمشنر واقعی عوامی خدمت کا مضبوط نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، تو شکایت سیل کو مکمل طور پر فعال، جوابدہ اور شفاف بنانا ایک فوری اور لازمی قدم ہے—یہ وہ اصلاح ہے جس سے لوگوں کے دلوں میں ان کی حکمرانی کی ساکھ برسوں تک قائم رہ سکتی ہے۔
کنٹرول پرائس مجسٹریٹ اور پیرافورس کی کارروائیاں اس وقت صرف نمائشی اقدامات بن کر رہ گئی ہیں، جن کا حقیقی اثر نہ تو بازاروں میں دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی عوام کو ریلیف ملتا ہے۔ مہنگائی اور ملاوٹ مافیا کے خلاف مجسٹریٹس جب قانونی کارروائی کرتے ہوئے استغاثے تھانوں کو بھجواتے ہیں، تو پولیس ان پر مقدمات درج ہی نہیں کرتی، جس سے سارا نظام مفلوج ہو جاتا ہے اور جرائم پیشہ عناصر مزید دلیر ہو جاتے ہیں۔ غلہ منڈی اور سبزی منڈی جیسے بنیادی منڈیاتی مراکز کے نرخ باقاعدگی سے چیک نہیں کیے جاتے، جس کے نتیجے میں آڑھتی، دکاندار اور گودام مالکان من مانی قیمتیں مقرر کر کے شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔ نرخ ناموں کی عدم نگرانی، اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت، اور ملاوٹ شدہ خوراک کی کھلے عام فروخت ضلعی انتظامیہ کی کمزور گرفت اور ناقص حکمتِ عملی کی واضح علامت ہے۔ جب تک ڈی سی مجسٹریسی نظام کو مضبوط، پولیس کو جوابدہ، اور منڈیوں کی مانیٹرنگ کو ڈیجیٹل اور سخت نہیں بنائیں گے، تب تک مہنگائی اور ملاوٹ مافیا کے خلاف حقیقی نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں سخت، مستقل اور حقیقی کارروائی ہی ڈی سی کو عوام کے دلوں میں جگہ دلا سکتی ہے۔
ڈی سی آفس میں “اوپن ڈور پالیسی” کے نفاذ کے ساتھ ساتھ شہریوں کی شکایات کے لیے ایک مؤثر ٹریکنگ سسٹم اور باقاعدہ آڈٹ کا قیام بھی لازمی ہے۔ اس سسٹم کے تحت ہر شکایت کو ایک یونیک ٹریکنگ نمبر دیا جائے گا تاکہ شہری اپنی درخواست کی پیش رفت آن لائن دیکھ سکیں اور مقررہ مدت میں کارروائی نہ ہونے پر خودکار الرٹ جاری ہو۔ آڈٹ کے ذریعے تمام شکایات کا ماہانہ جائزہ لیا جائے گا، متعلقہ محکموں کی کارکردگی کی درجہ بندی کی جائے گی اور غیر سنجیدہ یا تاخیر کا شکار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ اس طرح عوام کو شفاف رپورٹنگ کے ذریعے یہ معلوم ہو سکے گا کہ کتنی شکایات موصول ہوئیں اور کتنی حل ہوئیں، جس سے انتظامیہ کی شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوگا اور شہری اعتماد مضبوط ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور کمشنر ملتان کی واضح ہدایات کے باوجود، ملتان کی ہر سڑک اور گلی محلے میں غیرقانونی پٹرول فروخت کرنے والے انتظامیہ کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔ اب سخت کارروائی وقت کی ضرورت ہے۔
حسین آگاہی چوک سے دولت گیٹ چوک تک اتوار اور جمعہ کو لگنے والی غیرقانونی بکری، پرندہ اور مرغا منڈی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شہریوں نے کہا ہے کہ اہم شاہراہ پر لگنے والی یہ منڈیاں ٹریفک جام، شور اور صفائی کے مسائل پیدا کرتی ہیں، اس لیے فوری کارروائی ضروری ہے۔ اسی طرح شہر کے مختلف پارکس کے اطراف نصب غیرقانونی تشہیری بورڈ بھی ہٹائے جائیں تاکہ پارکس کی خوبصورتی بحال ہو اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول میسر آ سکے۔
ملتان میں تعلقات عامہ کے ریجنل دفتر میں بوگس پریس ایکریڈیٹیشن کارڈز کے سامنے آنے میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔ذمہ داران کو قانونی سزا دی جائے۔ سرکاری افسران کے ساتھ ڈمی یا خودساختہ صحافیوں کی ملاقاتیں اور سلفیاں بنانے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ سرکاری وسائل اور پروٹوکول کی غیر ضروری غلط استعمال سے بچا جا سکے۔ ساتھ ہی، حقیقی صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، صحافی کالونی فیز 2 کی اصل صورتحال کو بھی منظرعام پر لانا ضروری ہے تاکہ شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنایا جا سکے۔